کرائمز

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے اغوا

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے اغوا کے بعد قتل ہونے والی امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے مقدمہ میں بیرون ملک مقیم مقتولہ کے بیٹے و مقدمہ کے مدعی سمیت 3اہم گواہوں کے بیانات ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے اور مقدمہ کی جلد سماعت سے متعلق 2الگ الگ درخواستیں منظور کر لی ہیں اور استغاثہ کے 1مزید گواہ کا بیان قلمبند کرنے کے بعد سماعت 13جون تک ملتوی کر دی ہے عدالت نے استغاثہ کے باقی ماندہ گواہوں کو طلبی کے سمن جاری کر دیئے ہیں گزشتہ روز سماعت کے موقع پر مقدمہ کے مرکزی ملزم رضوان حبیب،اس کے والد حریت اللہ خان،ڈرائیور سلطان احمدگھریلو ملازمہ زاہدہ یوسف اور اس کے شوہر یوسف مسیح کو پولیس کی تحویل میں عدالت میں پیش کیا گیااس موقع پر مقتولہ کی نعش کی منتقلی کے لئے استعمال کی جانے والی گاڑی،مقتولہ کا شولڈر بیگ، اس میں موجود4لاکھ 80ہزار روپے نقد،مقتولہ کا موبائل فون،مقتولہ کی جیکٹ،وقوعہ میں استعمال ہونے والی چھری بھی بطور شہادت عدالت میں پیش کیا گیا دوران سماعت پرپولیس کانسٹیبل اسد محمود کا بیان ریکارڈ کیا گیا تاہم مقتولہ کی وکیل نے استدعا کی کہ چونکہ استغاثہ کے مزید گواہ بھی موجود نہیں ہیں لہٰذا مذکورہ گواہ پر جرح کے لئے سماعت ملتوی کی جائے جس پر عدالت نے سماعت 13جون تک ملتوی کرتے ہوئے باقی تمام گواہوں کو طلبی کے سمن جاری کر دیئے اس موقع پر نغمانہ شبیر،وقار سلطانی اورآمنہ اشرف پر مشتمل سرکاری وکلا کی جانب سے ویڈیو لنک کے ذریعے مدعی کی شہادت قلمبند کرنے سے متعلق دائردرخواست میں موقف اختیارکیاگیا کہ چونکہ مقدمہ کے اہم گواہ مقتولہ کا بیٹا و مدعی مقدمہ عبداللہ مہدی،ایاز خان،اور فائزہ فاروق بیرون ملک مقیم ہیں جن کی عدالت حاضری پر بڑے اخراجات درکار ہیں جبکہ مذکورہ گواہان کو سکیورٹی کا مسئلہ بھی درپیش ہے اس طرح ان کی عدم حاضری سے مقدمہ کے ٹرائل میں غیر معمولی التوا کا امکان ہے لہٰذا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے مذکورہ گواہان کی شہادت ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کی جائے تاکہ بھاری اخراجات کے ساتھ عدالتی وقت بھی بچایا جا سکے اسی طرح مقدمہ کے جلد ٹرائل سے متعلق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس مقدمہ میں عدالت نے رواں سال26مارچ کو فرد جرم عائد کی تھی اس طرح گزشتہ عرصے میں مجموعی طور پر صرف5دنوں میں 12گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے جن میں سے 7گواہوں پر ملزمان کے وکلا نے جرح مکمل کی جبکہ پراسیکیوشن اس مقدمہ کی تیز سماعت کے لئے پوری طرح تیار ہے کیونکہ خود امریکہ اورفیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن(ایف بی آئی) کی بھی اس کیس میں مکمل دلچسپی لے رہے ہیں اور ایف بی آئی مقتولہ کے فون کا فرانزک بھی کروا چکی ہے لہٰذاعدالت اس مقدمہ کے ٹرائل کے لئے ہفتے میں کم از کم 3دن مقرر کرے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت درخواست کو منظور کرتے ہوئے مقتولہ کے وکلا کو پابند کرے کہ وہ ہفتے کے آخری 3دن اس مقدمہ کے ٹرائل اور سماعت کے لئے مختص کریں تاکہ انصاف کے تقاضے فوری پورے ہو سکیں عدالت نے دونوں درخواستیں منظور کرتے ہوئے سماعت 13جون تک ملتوی کر دی یاد رہے کہ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں رواں سال 2نومبرکومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات365 کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260سے واپس جانا تھا ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اور ان کے2مزید بچے سب امریکی شہریت کے حامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھااس مقدمہ میں 5 ملزمان قیداور1 ملزم ضمانت پر ہے۔

رپورٹ : افتخار خٹک سے

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You