راولپنڈی (افتخار خٹک) ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس محمد رضا قریشی نے اڈیالہ جیل

راولپنڈی (افتخار خٹک) ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس محمد رضا قریشی نے اڈیالہ جیل راولپنڈی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی حراست کے خلاف دائر پٹیشن میں جیل انتظامیہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے انتظامیہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے عدالت نے عدالت نے انٹیلی جنس بیورو اور سی پی او راولپنڈی سے آئندہ سماعت پر بیان حلفی بھی طلب کر لیا عدالت نے عدالت نے درخواست گزار کو تھانہ صدر بیرونی میں اندراج مقدمہ کی درخواست جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے پٹیشن پر مزید سماعت کل (بروز بدھ) ہو گی گزشتہ روز درخواست گزار اپنی وکیل ایمان مزاری ایڈوکیٹ کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں اس موقع پر جیل انتظامیہ نے محمد اکرم کے حوالے سے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی عدالت نے جیل انتظامیہ کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا درخواست گزار کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 14 اگست سے محمد اکرم کا کچھ پتہ نہیں پولیس نے مقدمہ بھی درج نہیں کیا جس پر عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ تھانہ صدر بیرونی میں اندراج مقدمہ کی درخواست جمع کروائے جبکہ عدالت نے انٹیلیجنس بیورو اور سی پی او راولپنڈی سے آئندہ سماعت پر بیان حلفی طلب کر لیا ہے سینٹرل جیل اڈیالہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کی اہلیہ میمونہ ریاض نے ہوم سیکرٹری پنجاب، سیکریٹری دفاع، سپرنٹنڈنٹ جیل، آئی جی پنجاب اور ایس ایچ او تھانہ صدر بیرونی پولیس کو فریق بناتے ہوئے عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 14 اگست کی علی الصبح خفیہ تحقیقاتی اداروں نے اس کے شوہر کو جیل کی آفیسرز کالونی میں واقع رہائش گاہ سے غیر قانونی حراست میں لیا جس پر درخواست گزار نے 15 اگست کو متعلقہ پولیس کو مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست دی لیکن پولیس نے نہ تو کوئی معلومات دیں اور نہ مقدمہ درج کیا جبکہ 15 اگست کی رات ہی سرچ وارنٹ کے بغیر غیر قانونی طور پر درخواست گزار کے گھر چھاپہ مارا گیا اور گھر کی تمام ڈیوائسز بند کر کے قبضہ میں لے لی گئیں بعد ازاں میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ درخواست گزار کے شوہر کو جیل میں پابند سلاسل تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ اس طرح درخواست گزار اور اس کے شوہر کے بنیادی آئینی حقوق سلب کئے گئے حالانکہ بظاہر درخواست گزار کے شوہر کا کوئی جرم بھی نظر نہیں آتا درخواست گزار کو نہیں معلوم کہ اس کے شوہر کو کیوں اور کہاں رکھا گیا ہے خدشہ ہے کہ اس پر ذہنی و جسمانی تشدد کیا جائے گا پٹیشن میں آئین کے آرٹیکل 10 اور 10 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے شوہر کا شفاف ٹرائل اور انہیں اپنے دفاع کا موقع ملنا چاہئے قانون کے مطابق ضروری تھا کہ حراست کے بعد 24 گھنٹے میں انہیں مجاز عدالت میں پیش کیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ پٹیشن کو سماعت کے لئے منظور کیا جائے پولیس کو پابند کیا جائے کہ غیر قانونی حراست کا مقدمہ درج کرے درخواست گزار اور اس کے بچوں کو شوہر سے ملاقات کروائی جائے اور عدالت پٹیشن کے فریقین کو حکم دے حراست کی تمام وجوہات سے عدالت کو آگاہ کریں۔




