اہم خبریںپاکستان

راولپنڈی ( افتخار خٹک ) ادارہ برائے سماجی انصاف کے زیر اہتمام وفاقی دارالحکومت میں اقلیتوں

راولپنڈی ( افتخار خٹک ) ادارہ برائے سماجی انصاف کے زیر اہتمام وفاقی دارالحکومت میں اقلیتوں کوحقوق تک رسائی کے لیے آزاد خودمختار اقلیتی کمیشن کے قیام کے حوالہ سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا
کانفرنس میں سیاسی سماجی قانونی ماہرین سمیت میڈیا نمائندگان نے شرکت کی
کانفرنس کے آغاز پر آزاد خودمختار اقلیتی کمیشن برائے پاکستان کے قیام کی افادیت اہمیت اور معاشرے میں کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار پر ڈائریکٹر این سی جی پی پاکستان پیٹر جیکب نے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے نمایا ں پہلووں کو اجاگر کیا اور بتایا کہ بہترین کامیاب نظام جمہوریت میں معاشرے کی اکائیوں کا ایک ساتھ مل کر چلنا مضبوط نظام کا واحد راستہ ہے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیت زمینی حقائق کے تابع رہ کر کام کرنے کی اجازت اور اختیارات تقویض کیے بغیر اقلیتوں کیقومی سطح پر حقوق میں نمائندگی ناممکن تصور ہوتی ہے بار ہا اقلیتی فورم ادارہ برائے سماجی انصاف ذمہ داران تک اپنی آواز پہنچانے کا فریضہ ادا کر چکے ہیں اقلیتوں کے حقوق کے لیے ایک ایسا بااختیار اور فعال قومی کمیشن برائے اقلیت قائم ہو جس میں تمام اقلیتوں کے نمائمدگی ہو وفاق سمیت تمام صوبوں سے ممبران ہوں اس کا سائز انتہائی کم ہو اور ممبران اداروں کا غیر ضروری بوجھ نہ ہو مذہبی نمائمدگی کی بجائے اولین ترجیح انسانی حقوق کا دائرہ میں ہو انہوں نےقومی کمیشن کی وفاقی کابینہ سے منظوری کو سراہا ۔کانفرنس کے مقررین میں سینٹر فرحت اللہ بابر ہیومن رائٹس کے رہنما شفیق چوہدری ممتاز قانون دان انیق ضیا ایڈوکیٹ ،ندیم کے جوزفایڈووکیٹ، رکن قومی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نیلسن عظیم نے شریک تھے سینٹر فرحت اللہ بابر نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کی رسائی ان کے تحفظات کے خاتمہ کو یقینی بنانے کے لیے کمیشن کو وازرت مذہبی امور کی بجائے وزارت ہیومین رائٹس سے منسلک ہونا چاہیے حقوق کا تعلق جس ادارہ سے ہے کمیشن اسی کے تابع ہو ملک میں بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے تحت کمیشن کا قیام ہو جو آزاد خودمختار اور پیرس پرنسپل کے مطابق ہو انسانی حقوق کے حوالہ سے پیرس پرنسپل ہی دنیا میں ایک بڑی مثال ہے جس طرح دیگر اداروں یا ممالک کے نمائندگان کو وہاں شرکت کرنے اورادائیگی ووٹ کا حق ہے پاکستان کی طرف سے بھی ایسے اداروں کو یہ حق ملنا چاہیے جیسے افغانستان کے ادارے کو ووٹنگ کا حق حاصل ہے لیکن ہمارے اداروں میں ایسی مثال نہیں ہےانہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ون مین کمیشن کی اقلیتوں کے حقوق پر کام کرنےکی کارکردگی احسن ہے اس کے بہترین کاموں سے فائدہ اٹھایا جائےاور اقلیتی کمیشن برائے پاکستان کے قیام کے لیے مدد لی جائے۔کمیشن کا دائرہ کار اسلام آباد تک محدود نہ ہو اس میں 18ویں ترمیم کے مطابق صوبوں سے بھی نمائندگی لی جائے اور کمیشن کو مرکزی ہونے کے تاثر سے دور رکھا جاۓ۔ رکن قومی اسمبلی نے اقلیتی حقوق کے حوالہ سے قومی اسمبلی ڈاکٹر نیلسن عظیم میں ہونے والےامور اقلیتی حقوق بل 2024اور اپنے بل کی قومی اسمبلی کے فلور میں پیش کرنے کے مراحل سے روشناس کرایا۔ماہر تجزیہ کار انسانی حقوق ڈاکٹر اے ایچ نئیر نے کہا کہ کمیشن اقلیتوں کے حقوق کی نمائندگی یا رسائی کے لیے ہے تو اس میں نمائندگی بھی اقلیتوں کی ہونی چاۂیےمتروکہ وقف املاک یا کسی ادارے یا بورڈ کی شمولیت یا نمائندگی نہیں ہونی چاہیے ایڈووکیٹ انیق ضیا ڈائریکٹر لیگل اانٹر نیشنل مانیٹرنگ کمیشن نے کہا کہ کمیشن کو زیادہ فعال اور موثر بنانے کے لیے کارکردگی رپورٹس۔ پارلیمنٹ کا حصہ بنانا چاہیے

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You