اہم خبریںپنجاب

راولپنڈی (افتخار خٹک)ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان نے سابق رکن صوبائی اسمبلی

راولپنڈی (افتخار خٹک)ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان نے سابق رکن صوبائی اسمبلی عدنان چوہدری کے قتل کے مبینہ مرکزی ملزم سہیل انجم فیروز کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی ہے

اور 10 لاکھ روپے مالیت کے ضمانتی مچلکوں کے ساتھ دوشورٹیز کے عوض ملزم کی رہائی کا حکم دیا سہیل انجم فیروز نے اپنے وکلا سید حسن عباس اور ملک عبد القادر کے ذریعے عدالت میں دائر درخواست ضمانت میں موقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار کو بدنیتی کے تحت اس مقدمہ میں بلاجواز گرفتار کیا گیا حالانکہ درخواست گزار کا اس مقدمہ یا وقوعہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اس کے باوجود درخواست گزار جیل میں پابند سلاسل ہے گزشتہ روز سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ ملزم مقدمہ میں نامزد نہیں تھا نہ ہی وقوعہ میں موجودگی کے کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں عدالت نے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور 2 شورٹیز پر ضمانت منظور کر لی ہے قبل ازیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی راجہ فیصل رشید نے 22 جولائی (گزشتہ ماہ) کو ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی تھی سہیل انجم فیروز نامی ملزم کو پولیس نے رواں سال 29 فروری کو گرفتار کیا تھا یاد رہے کہ12 فروری کو پولیس لائن ہیڈکوارٹر کے سامنے انیکسی چوک میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے عدنان چوہدری پر اس وقت فائرنگ کر دی تھی جب وہ اپنے ڈرائیور کے ہمراہ جارہے تھے عدنان چوہدری گردن، سینے اور چہرے پر گولیاں لگنے سے موقع پرجاں بحق ہو گئے تھے جبکہ تھانہ سول لائنز پولیس نے 13جنوری کومقتول چوہدری عدنان کے برادر نسبتی کی مدعیت میں 5افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302/34 اور 109کے تحت مقدمہ نمبر 253درج کیا تھا یاد رہے کہ اس مقدمہ میں نامزد مسلم لیگ ن کے رہنما وسابق سینیٹر چوہدری تنویر، ان کے صاحب زادے و رکن قومی اسمبلی بیرسٹر دانیال چوہدری و اسامہ چوہدری کے علاوہ چوہدری چنگیز خان پہلے ہی ضمانت پر ہیں

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You