
راولپنڈی : (افتخار خٹک)سول جج راولپنڈی رابعہ سلیم نے مسجد کی امامت چھوڑ کر خواجہ سراؤں کے روپ میں بھیک مانگنے کے مقدمہ میں نامزد ملزم کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا ہے عدالت نے21مارچ کو ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر گزشتہ روز ملزم کو عدالت مین پیش کیا گیا جہاں پر پولیس نے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کو14یوم کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیاتھانہ روات پولیس نے3مارچ کو راجہ شفیق کی مدعیت میں پنجاب ویگرنسی آرڈی نینس 1958کی سیکشن9اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 419کے تحت مقدمہ نمبر619درج کیا تھامقدمہ میں الزام تھا کہ اہلیان ڈھکی روات کی مسجد میں محمد خان سکنہ میانوالی کو امام مقرر کیا جس کا موقف تھا کہ وہ حافظ قرآن بھی ہے اور امامت کروانے کے ساتھ بچوں کو قرآن پاک بھی پڑھائے گا اس طرح محمد خان نے ڈیڑھ سال امامت کے ساتھ علاقے میں متعدد جنازے اور نکاح بھی پڑھائے لیکن گزشتہ ماہ محمد خان نے کہا کہ وہ سعودیہ جارہا ہے اس لئے امامت نہیں کروائے گا جس پر اہلیان علاقہ نے احترام کے ساتھ اسے الوداع کیا کچھ روز قبل پتہ چلا کہ مذکورہ امام مسجد خواجہ سرا کے روپ میں علاقے میں بھیک مانگ رہا ہے اس طرح محمد خان نے اپنی جنس چھپا کر متعدد مرحومین کے جنازے پڑھانے کے علاوہ نکاح بھی پڑھاتا رہا۔



