اہم خبریںکرائمز

راولپنڈی (افتخار خٹک)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی رانا سہیل نے سابق رکن صوبائی اسمبلی

راولپنڈی (افتخار خٹک)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی رانا سہیل نے سابق رکن صوبائی اسمبلی و تحریک انصاف کے سابق رہنما چوہدری عدنا ن قتل کیس میں نامزد مسلم لیگی رہنما سینیٹر چوہدری تنویر، ان کے 2 بیٹوں اور بھائی کی عبوری ضمانتوں پر فریقین کے وکلا کے حتمی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے یہ فیصلہ آج (بروز جمعرات) سنائے جانے کا امکان ہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر ملزمان کی جانب سے انکے وکیل ملک وحید انجم ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ اس مقدمہ میں گرفتار ملزمان پر چوہدری تنویر کے خلاف بیان دینے پر دباؤ ڈالا گیا ہے حالانکہ گرفتار ملزمان نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پولیس کے خلاف بیان دیا ہے پولیس نے چوہدری عدنان قتل کیس میں فرضی کہانی گھڑی ہے جبکہ عدالت میں کہانیوں پر نہیں ثبوتوں پر فیصلے ہوتے ہیں ملزمان کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے گرفتار ملزمان کو اذیت پہنچا کر چوہدری تنویر کے خلاف بیانات دلوائے حالانکہ
چوہدری تنویر کی مقتول کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی ملزمان کے وکیل کا موقف تھا کہ سی پی او راولپنڈی ایک کرپٹ آدمی ہے جو مدعی پارٹی کے ساتھ ملا ہوا ہے ملزمان کے وکیل نے کہا کہ عدالت میں نہیں بتانا چاہتا تھا سی پی او نے ہم سے کیا مطالبہ کیا سی پی او نے چوہدری تنویر سے 60 کروڑ روپے کی ڈیمانڈ کی تھی اور
سی پی او کا پیٹ نہیں بھرا تو ہمیں مجبوراً آر پی او کے پاس جانا پڑا وکیل صفائی کا موقف تھا کہ میرا موکل بے گناہ ہے کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہئے اس موقع پر
مقتول کے وکلا شاہد شہزاد بھٹی اور راجہ تیمور جنجوعہ نے گرفتار ملزمان کے اعترافی بیانات عدالت میں پڑھتے ہوئے عدالت کو بتایا ملزمان کی سی ڈی آر موجود ہے چوہدری عدنان کو قتل کرنے سازش چوہدری تنویر کے گھر تیار ہوئی مقتول کے وکلا نے عدالت کو بتایا ملزمان سے دو پستول بھی برآمد کئے گئے ہیں اور
گرفتار ملزمان کو یہ پستول چوہدری تنویر نے فراہم کئے تھے عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا یاد رہے کہ تھانہ سول لائنز پولیس نے سابق رکن صوبائی اسمبلی چوہدری عدنان کے قتل میں مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر چوہدری تنویر ان کے چوہدری دانیال، اسامہ تنویر اور بھائی چوہدری چنگیز سمیت 5 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا یہ مقدمہ مقتول چوہدری عدنان کے برادر نسبتی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے تعزیرات پاکستان کی دفعات302/34، 109 اور 201کے تحت درج مقدمہ نمبر 253کے مطابق چوہدری عدنان اپنی اسلام آباد نمبر کی پراڈو گاڑی نمبر سی جے100کو خود ڈرائیو کر رہے تھے جبکہ پچھلی سیٹ پر فضل ربی اور چوہدری ظہیر خان کے علاوہ پچھلی لینڈ کروزر نمبر ایس ٹی سی 4677 پر زاہد حفیظ اور احتشام سخاوت بھی موجود تھے عسکری 13 میں ہاؤسنگ کے دفتر سے واپسی پر جناح پارک کے قریب اشارے پر شلوار قمیص میں ملبوث 2 نامعلوم افراد نے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب سے چوہدری عدنان پر اس وقت اندھادھند فائرنگ کر دی جب گاڑی اشارے پر رکی ہوئی تھی جس سے گولیاں مقتول کے چہرے اور سینے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر لگیں جبکہ حملہ آور سڑک کے دوسری جانب موجود موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے مقدمہ کے متن کے مطابق مقتول کی سیاسی معاملات اور سرکاری زمین واگزار کرانے پرچوہدری تنویر، چوہدری چنگیز خان، دانیال چوہدری اور اسامہ تنویر سے رنجش کے علاوہ کاروباری معاملات میں لقمان کامل سے زمین کی خریدوفروخت کے مقدمات چل رہے ہیں جس پر چوہدری عدنان اکثر کہتا تھا کہ مجھے ان لوگوں سے جان کا خطرہ ہے اور مجھے کچھ ہوا تو یہ افراد ذمہ دار ہوں گے رواں سال 12 فروری کی رات تھانہ سول لائن کے علاقے پولیس لائنز کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے عدنان چوہدری جان کی بازی ہارگئے تھے

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You