
راولپنڈی (افتخار خٹک)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ایند سیشن جج راولپنڈی فرحت جبین راناکی عدالت میں موٹر وے پولیس کے ساتھ جھگڑے میں گاڑی بھگانے کے دوران پولیس اہلکار کو گاڑی کی ٹکر لگنے کے مقدمہ میں گرفتار خاتون کی بریت کی درخواست پر سماعت کسی کاروائی کے بغیر ملتوی کر دی گئی گزشتہ روز سماعت کے موقع پر جج کی رخصت کے باعث درخواست پر کاروائی نہ ہو سکی فرح زہرہ نامی خاتون نے سردار شہباز علی خان کھوسہ ایڈووکیٹ کے ذریعے ضابطہ فوجداری کی دفعہ249اے کے تحت بریت کی درخواست دائر کی تھی جس میں ماتحت عدالت کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا تھا درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا ٹرائل کورٹ کی جانب سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے درخواست گزار کے خلاف ایک ایسی وائرل ویڈیو کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے مقامی پولیس نے کوئی ڈیوائس اپنے قبضہ میں لی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی فرانزک تجزیہ کروایا گیا ہے رواں سال 2جنوری کو مقدمہ درج کیا گیا24اپریل کو درخواست گزار کوگرفتار کیا گیا جبکہ مقدمہ کے تفتیشی کو ویڈیو 29اپریل کو دی گئی اوردرخواست مین موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہادتوں کے بغیر کمزور کیس میں درخواست گزار کو سزا کی کوئی گنجائش نہیں بنتی درخواست میں کہا گیا ہے کہ خا تون ہونے کے ناطے درخواست گزار ریلیف کی حقدار ہے جبکہ اس پر کسی بھی طور اقدام قتل کی دفعہ 324نہیں عائد ہوتی اس طرح درخواست گزار کی بریت میں مزید التوا قانون و انصاف کے منافی ہے لہٰذا ہر قسم کے شک کا فائدہ درخواست گزار کو دے کر مقدمہ سے بری کیا جائے یاد رہے کہ تھانہ نصیر آباد پولیس نے موٹر وے پولیس کی مدعیت میں رواں سال2جنوری کوفرح زہرہ سکنہ لاہورکے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 324، 353، 186، 337-F(i)، 337-Q،279اور427کے تحت مقدمہ نمبر 9درج کیا تھا خاتون پر الزام تھا کہ اس نے گاڑی بھگانے کے دوران پولیس اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی قبل ازیں سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ ڈاکٹرمحمد ممتاز ہنجرا نے2مئی کو ملزمہ کی درخواست ضمانت خارج کی تھی جبکہ31مئی کو ملزمہ پر فردجرم عائد کی گئی تھی۔




