راولپنڈی (افتخار خٹک)اسلام آباد کی خصوصی احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے تحریک انصاف
راولپنڈی (افتخار خٹک)اسلام آباد کی خصوصی احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190ملین پاؤنڈ کے مالیاتی سکینڈل پر مبنی القادر ٹرسٹ ریفرنس میں نیب کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کا بیان ریکارڈ کرلیا جبکہ ملزمان کے وکلا نے نیب کے ایک مزید گواہ نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمیر راتھر پر جرح بھی مکمل کر لی ہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ اپنے وکلا ظہیر عباس چوہدری اور عثمان ریاض گل کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے جبکہ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی اور امجد پرویز عدالت میں پیش عدالت نے ایک گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے اور ایک مزید گواہ پر جرح مکمل ہونے کے بعد سماعت 3 اگست تک ملتوی کردی واضح رہے کہ اب تک ریفرنس میں 35 گواہوں کے بیان ریکارڈ ہو چکے ہیں جبکہ ملزمان کے وکلا نے 35 گواہان پر جرح کی کاروائی بھی مکمل کر لی ہے واضح رہے کہ نیب نے اس ریفرنس میں 10گواہان کے نام پہلے ہی واپس لے لئے ہیں قبل ازیں نیب نے 59 گواہوں کی فہرست ریفرنس کے ساتھ منسلک کی تھی تاہم 10 گواہوں کے نام ترک کرنے کے بعد اب یہ فہرست 49 گواہان پر مشتمل ہے دریں اثنا تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ
سابق چیئرمین نے کہا ہے کہ 9 مئی کو میں کیسے احتجاج کی کال دے سکتا تھا 9 مئی سے پہلے 18 مارچ کو گرفتار کرنے کی ناجائز کوشش کی گئی سابق چیئرمین کو زمان پارک اور جوڈیشل کمپلیکس سے گرفتاری کی کوشش کی گئی جس پر انہوں نے پرامن احتجاج کی کال دی تھی انہوں نے کہا کہ اب حکومت کے کچھ لوگ فساد برپا کرنا چاہتے ہیں جس پر میں حکومتی لوگوں کو کہتا ہوں کہ فساد سے باز رہیں مخصوص نشستوں پر ان لوگوں کا حق ہے جنہوں نے قربانیاں دی سابق چیئرمین اپنے کارکنان کے ساتھ ہیں، جیلیں کاٹنے والے کارکنان کو مخصوص نشستیں دی جائیں گی ہم نے بھی سابق چیئرمین کو کہا کہ کے پی میں کرپشن پر کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا بیرسٹر سیف کو حکم دیا گیا کہ مصدق عباسی اور علی امین گنڈاپور کو کرپشن کرنے والوں کا محاسبہ کریں انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے حوالے سے سابق چیئرمین اپنے موقف پر قائم ہیں تحریک انصاف محب وطن جماعت ہے سیاسی تنقید کو دہشت گردی سے نہ جوڑا جائے اسلام اور ریاست کے خلاف چلنے والوں کے خلاف ہمارا بیانیہ ایک ہے ہمارے کارکنان اور ملازمین کو گرفتار کیا گیا، لوگوں کی زبان کی تالہ بندی نہ کی جائے چند ہزار کے ورکرز کو گرفتار کیا گیا ہمارے کارکنان کو غائب کر دیا گیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حسن روف کو فوری رہا کیا جائے، یہ ریاست کی کوئی خدمت نہیں ہے ہمارے کارکنان پر الزامات لگائے گئے کہ وہ 11 لاکھ اکاؤنٹس چلا رہے تھے سابق چیئرمین 9 مئی کو زیر حراست تھے 18 مارچ کو گرفتاری کرنے کی کوشش کی گئی تو احتجاج کی کال دی گئی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے میں شرکت کے حوالے سے 3 بجے ہماری میٹنگ ہو گئی دھرنے میں شرکت کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان سے مشاورت کریں گے سیاسی امور میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے خلاف ہیں۔




