دعا کی طاقت کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے . نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے

دعا کی طاقت کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے .
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے
(المستدرک)
دعا نازل شدہ مصیبت , اور جو ابھی نہیں نازل ہوئی ہے اس سے بچنے کا فائدہ دیتی ہے , تو اے اللّٰہ کے بندو ! تم اللّٰہ سے برابر دعا کرتے رہو .
ایک ایسی ہستی جو ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت کرتی ہو , جسے پھیلے ہوئے ہاتھوں کی حیا ہو , جو خود پکارتی ہو
” ہے کوئی مانگنے والا ”
اس کے سامنے پھیلے ہوئے دامن کیونکر خالی لوٹائے جا سکتے ہیں -وہ تو نہاں خانۂ دل میں نمو پانے والی آرزؤوں تک سے واقف ہے –
حضرت قاسم فیوضات رح فرمایا کرتے تھے
” خواہش بذاتِ خود دعا ہوتی ہے , بات تو یہ ہے کہ کوئی مانگنے والا بھی ہو ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل بھی تو ہو ”
اس سے مانگیے اور دل کھول کر مانگیے کہ مانگنا اسے محبوب ہے لیکن تین باتیں ذہن نشین کرنا ضروری ہیں –
ہمیشہ حدودِ شریعی کے اندر رہ کر دعا مانگنا چاہیے . بلاشبہ وہ بڑا کریم ہے لیکن وہ بہت غیور بھی ہے –
دوسرا دعا ایک استدعا ہوتی ہے , حکم ہر گز نہیں
اور تیسرا اس کی قبولیت کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کہ عطا کا بہترین وقت وہ مسبب الاسباب بہتر جانتا ہے –
حدیثِ پاک ہے : (مسند احمد)
بندے کی ہمیشہ خیر اور بھلائی ہے , جب تک کہ وہ جلد بازی نہیں کرتا – صحابہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ ﷺ بندہ جلد بازی کس طرح کرتا ہے ؟
آپ ﷺ نے فرمایا
جب وہ کہتا ہے کہ میں نے رب سے بہت دعا مانگی , لیکن میری دعا اس نے قبول نہیں کی .
اللّٰہ کریم ہمیں اپنے لیے , اپنوں کے لیے بھلائی و عافیت مانگنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس خلوص سے نوازے جو اس کی بارگاہ میں درجۂ قبولیت رکھتا ہو –
( آمین )
الشیخ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ



