اہم خبریں

*حکومت وقت سے کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی کے سوالات*

*حکومت وقت سے کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی کے سوالات*

*کیا آئی ایم ایف کے قرض کا براہ راست عوام کو فائدہ حاصل ھوگا*

*کیا آئی ایم ایف کے قرض کی ادائیگی کا بوجھ عوام ہی اٹھاتی رہے گی*

*مستقبل قریب میں دائمی معاشی بہتری اور روزگار کے مواقع جاری رہیں گے*

*کیا چور بازاری اور وائٹ کالر جرائم کا جڑ سے خاتمہ ممکن ھوسکے گا*

*کیا زندگی کی بنیادی ضروریات ریاست اور حکومت مستقل بنیاوں پر ہر شہری کو فراہم کرسکے گی*

*کیا بنا تفریق قرآن و احادیث کے مطابق احتساب اور سزا و جزا کا عمل قائم کیا جائیگا*

*اسلامی نظام رائج آخر کیوں نہیں نافذ کیا جاتا*

*ملک و ریاست خوشحال ھوتی ھے تو اخلاقی معاشرتی اور معاشی برائیاں از خود ختم ھوجاتی ھیں*

*تین براعظموں پر محیط حکومت کی خوبی خوشحالی اور عدل و انصاف کا ھونا تھا*

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار اور کراچی یونین آف جرنلسٹ و کراچی پریس کلب کے ممبر جاوید صدیقی نے دنیا میں بگڑتے حالات اور معاشی و اقتصادی صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں نو منتخب حکومت کے آگے چند سوالات رکھ دیئے کیونکہ حکومت وقت آئی ایم ایف کے قرض کی ادائیگی کیلئے پانچ سالہ منصوبہ بناچکی ھے جسے آئی ایم ایف کے کارندوں نے تحریر کروایا ھے جس کی پاسداری ان پر لازم و ملزوم ھوچکی ھے، ان پانچ سالوں میں وقتاً فوقتاً عوام پر بوجھ لادنا ھے جس سے ایک جانب بدترین مہنگائی کا طوفان برپا ھوگا تو دوسری جانب بے انتہا بیروزگاری کے سبب لوٹ مار چوری اور قتل و غارت انتہا کو پہنچ جائیگی۔ جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ پاکستان کی سیاست مکمل طور پر فارغ ھوچکی ھے اور بے انصافی اور ظلم کا نظام جاری رہنے سے عوام میں نفرت اور غداری کا عنصر پیدا ھوسکتا ھے، حالیہ دنوں میں حکومت اور ریاست فضول بے توقیر معاملات میں مبتلا ھے کہیں بھی تعمیری عملی اقدام نظر نہیں آرھا، جاوید صدیقی کا یہ بھی کہنا ھے کہ اگر یہی نظام قائم رھا تو پھر اس ملک و ریاست میں امن و سکون تلاش کرنے کیلئے کوئی جگہ نہیں رہے گی ہر ایک اپنے مفادات و خواہشات میں اس قدر بڑھ جائیگا کہ قانون نام کی کوئی شئے نظر نہیں آئیگی، انکا یہ بھی کہنا ھے کہ حکومت وقت فوری ہنگامی بنیادوں پر شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم ایسے پلان تیار کرے جس سے ملک و قوم کو جینے کا سہارا نظر آئے سب سے پہلے اشرفیاء کے بیجا اخراجات کو قلیل کردیا جائے اور وزارتوں میں بھی کمی رکھی جائے، فی الوقت ایک وقت میں ایک وزیر کو تین تین وزارتیں محدود ذاتی سہولیات کیساتھ رکھی جائیں، تمام وزارتوں سے ایئرکنڈیشنز ختم کردیئے جائیں، چھ سو سے آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیاں دی جائیں، تنخواہ سے تمام یوٹیلیٹی بلز ختم کردیئے جائیں یہ احکامات تمام عدالتوں تمام فورسس اور تمام وزارتوں محکموں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ عوام پر بوجھ میں کمی واقع ھوسکے۔ حکومت وقت سے کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی کے سوالات یہ ہیں،
کیا آئی ایم ایف کے قرض کا براہ راست عوام کو فائدہ حاصل ھوگا؟؟ کیا آئی ایم ایف کے قرض کی ادائیگی کا بوجھ عوام ہی اٹھاتی رہے گی؟؟ مستقبل قریب میں دائمی معاشی بہتری اور روزگار کے مواقع جاری رہیں گے؟؟ کیا چور بازاری اور وائٹ کالر جرائم کا جڑ سے خاتمہ ممکن ھوسکے گا ؟؟ کیا زندگی کی بنیادی ضروریات ریاست اور حکومت مستقل بنیاوں پر ہر شہری کو فراہم کرسکے گی؟؟ اسلامی نظام رائج آخر کیوں نہیں نافذ کیا جاتا؟؟ ملک و ریاست خوشحال ھوتی ھے تو اخلاقی معاشرتی اور معاشی برائیاں از خود ختم ھوجاتی ھیں؟؟ تین براعظموں پر محیط حکومت کی خوبی خوشحالی اور عدل و انصاف کا ھونا تھا؟؟ کیا بنا تفریق قرآن و احادیث کے مطابق احتساب اور سزا و جزا کا عمل قائم کیا جائیگا؟؟ یہ وہ سوالات ھیں جو حکومت وقت کو پاکستانی عوام کو تحریری طور پر دینا چاہئیں تاکہ چھ ماہ تک اگر پاکستانی عوام کو انکے لئے قرض سے فائدہ نہیں پہنچتا تو صاف واضع ھوجائیگا کہ پاکستان کو برباد و تباہ کرنے میں ہر طاقتور بااختیار مقتدر قوتیں بھی شامل ھیں ایکبار پھر ملک کو تقسیم کرنے میں متحرک ھیں ان میں دونوں سیاسی جماعتیں حزب جماعت اور حزب اختلاف بھی برابر کی مجرم ھونگی۔ دعا ھے اللہ پاکستانی اشرفیہ ایلیٹ جماعت نوکر شاہی طبقہ اور مقتدر قوتوں کے دلوں ذہنوں اور روح میں وطن عزیز پاکستان اور عوام کیساتھ مخلصانہ دیانتدارانہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔اب ملک کی بقاء و سلامتی کیلئے وائٹ کالر مجرموں کا قلع قمع کرنے کی اشد ضرورت ھے جو قانون کے دائرے میں رہتے ھوئے بہمانہ ظالمانہ نا تلافی نقصان سے دوچار کرنے سے باز نہیں آرھے انکے ان قانونی جرائم کی وجہ سے ریاست اور ملک کھوکھلا ھوتے جارھے ھیں۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You