کالم/مضامین

جھلملاتی سی دیوالی

کچھ روشن کیے تم نے،

کچھ ہم نے بھی جلائے ہیں

یہ دیپ نئی امیدوں کے،

گھُپ اندھیروں میں جگمگائے ہیں

جھلمل، جھلمل کرتی روشنی

ہر دل کو لبھائے۔۔۔من موہنی۔۔

یہ جلتے دیے یونہی تو نہیں

ان میں چھپی کوئی تو بات ہے!

کیوں ہے، یہ زندگی

کیا، مقصدِ حیات ہے؟

اے رب ۔۔،

دِیکھلا دے وہ راہ ہم کو

جو ہم نہیں جانتے ہیں

تم مندر میں،

ہم مسجد میں

چلو آج دعا یہ مانگتے ہیں!

کہ انسانیت ہی، ہو منزل

انسانیت ہی پیغام ہو

ہاتھوں میں تھامے ہاتھ

اب صرف یہی کام ہو!

***

کاشف شمیم صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You