*جلِائے اردو اور ڈاکٹر جمیل جالبی*

*جلِائے اردو اور ڈاکٹر جمیل جالبی*
تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی
یوں تو اردو کی افزائش بھارت میں ہوئی اور قبل از پاکستان اردو کو بام عروج ہندوستان کے شعراء ، ادیب، افسانہ نگار، کہانی نویس، ڈرامہ تشکیل، نثر نگار، ابلاغ عامہ و صحافت اور معاشرے میں بسنے والے خاندانوں نے اردو زبان کو عام اور عوامی زبان کا درجہ دیدیا۔ اردو جس قدر آسان زبان ھے اسی قدر شیریں اور سریلی بھی۔ نغمہ نگاروں نے اردو زبان سے سروں کی ایسی مالائیں دریافت کیں کہ پھر دوسری زبان کی طرف برصضیر کے رہنے والوں کا دھیان نہ گیا اور تو اور وقت کے گزرتے لمحات میں اردو ہندوستان سے پرواز کرتی ہوئی عالم دنیا میں پھیل گئی۔ آج بی بی سی اردو برطانیہ، وائس آف امریکہ اردو، الجزیرہ اردو قطر، ڈی ڈبلیو اردو جرمنی نے اردو نشریات سے بڑی خدمات جاری کی ہوئی ہیں لیکن جب پاکستان کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو عجب اور تعجب کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں وہ اردو زبان جسے پاکستان کے آئین میں قومی و سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ھے لیکن وہاں انگریزی زبان کو غلامان ذہن والوں نے جبراً قائم کیا ھے یہی نہیں بلکہ اردو کیساتھ عدم توجہگی کی تمام حدیں پار کی ہوئیں ہیں یہ تسلسل سرکاری و نجی سطح پر آج تک قائم ھے۔ قائم پاکستان کے وقت جہاں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ماہرین شخصیات اور فنون کے یکتا لوگوں نے ہندوستان کو ہمیشہ کیلئے خیرباد کہتے ہوئے ہجرت کرکے پاکستان میں آبسے اور اپنے علوم و فنون سے اجڑے اور ویرانوں نوے فیصد سر زمین پاکستان کو شاد و آباد اور ترقی کی جانب رواں دواں کیا ان میں ایک عظیم شخصیت ڈاکٹر جمیل جالبی کا بھی ھے جو پاکستان کے نامور اردو نقاد، ماہرِ لسانیات، ادبی مؤرخ، سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی، چیئرمین مقتدرہ قومی زبان موجودہ نام ادارہ فروغ قومی زبان اور صدر اردو لُغت بورڈ رھے۔ آپکا سب سے اہم کام قومی انگریزی اردو لغت کی تدوین اور تاریخ ادب اردو، ارسطو سے ایلیٹ تک، پاکستانی پاکستانی کلچر یعنی قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ جیسی اہم کتابوں کی تصنیف و تالیف ہے۔ ڈاکٹرجمیل جالبی بارہ جون، سنہ انیس سو انتیس عیسوی کو ہندوستان کے شہر علیگڑھ میں ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم علیگڑھ میں ہوئی۔ سنہ انیس سو تینتالیس عیسوی میں گورنمنٹ ہائی اسکول سہارن پور سے میٹرک کیا۔ میرٹھ کالج سے سنہ انیس سو پینتالیس عیسوی میں انٹر اور سنہ انیس سو سینتالیس عیسوی میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ کالج کی تعلیم کے دوران ہی ادبی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔ ان دنوں انکا آئیڈیل سید جالب تھے۔ اسی نسبت سے انھوں نے اپنے نام کیساتھ جالبی کا اضافہ کرلیا۔ تقسیم ہند کے بعد سنہ انیس سو سینتالیس عیسوی میں ڈاکٹر جمیل جالبی اور انکے بھائی عقیل پاکستان آگئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ جمیل جالبی نے سرکاری ملازمت کے دوران ہی ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کر لئے۔ اس کے بعد سنہ انیس سو باہتر عیسوی میں سندھ یونیورسٹی سے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان کی نگرانی میں قدیم اُردو ادب پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی اور سنہ انیس سو اٹھہتر عیسوی میں مثنوی کدم راؤ پدم راؤ پر ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کو انکی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں سنہ انیس سو چونسٹھ عیسوی، سنہ انیس سو تہتر عیسوی، سنہ انیس سو چوہتر عیسوی، اور سنہ انیس سو پچھہتر عیسوی، میں داؤد ادبی انعام، سنہ انیس سو ستاسی عیسوی، میں یونیورسٹی گولڈ میڈل، سنہ انیس سو نواسی عیسوی، میں محمد طفیل ادبی ایوارڈ اور حکومت پاکستان کی طرف سے
سنہ انیس سو نوے عیسوی، میں ستارۂ امتیاز اور سنہ انیس سو چورانوے عیسوی، میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے سنہ دو ہزار پندرہ عیسوی، میں آپکو پاکستان کے سب سے بڑے ادبی انعام کمال فن ادب انعام سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کی تصانیف کی تعداد اٹھائیس کے لگ بھگ ہیں جن میں قومی انگریزی اردو لغت، جانورستان جارج آرول کے ناول کا ترجمہ، پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ، تاریخ ادب اردو، تنقید و تجربہ، نئی تنقید، ادب کلچر اور مسائل، محمد تقی میر، معاصر ادب، قومی زبان یک جہتی نفاذ اور مسائل، قلندر بخش جرأت لکھنوی تہذیب کا نمائندہ شاعر، مثنوی کدم راؤ پدم راؤ، دیوان حسن شوقی، دیوان نصرتی، قدیم اردو کی لغت، فرہنگ اصلاحات جامع عثمانیہ، میرا جی ایک مطالعہ، ن م راشد – ایک مُطالعہ، ایلیٹ کے مضامین (ترجمہ)، ارسطو سے ایلیٹ تک، حیرت ناک کہانیاں، خوجی شامل ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے نواسی سال دس ماہ چھ دن کی عمر میں اٹھارہ اپریل سنہ دو ہزار انیس عیسوی کو کراچی شہر میں وفات پائی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون دعا ھے اللہ انہیں غریق رحمت کرے اور انکی لحد پر اپنے نور کی بارش عطا کرتا رھے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!




