جامعہ کراچی میں سالانہ یوم حسین ؓ کا انعقاد
*جامعہ کراچی میں سالانہ یوم حسین ؓ کا انعقاد*
*کربلا صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے جو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ڈاکٹر خالدعراقی*
*آج پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مظلوم ظالموں سے برسرپیکارہے اُن کا مرکز ومنبع سید الشہداء حضرات امام حسین ؓ کی ذات ہے۔علامہ ناظر عباس تقوی*
کراچی (رپورٹ : جاوید صدیقی) علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ کسی مسلک یاگروہ کے امام نہیں اور کسی مسلک،کسی گروہ کی ہدایت کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ حضرت امام حسین ؓ کا قیام پوری انسانیت کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے تھا۔حضرت امام حسین ؓ کی ذات ایک آفاقی ذات اور آفاقی شخصیت ہے۔ آج پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مظلوم ظالموں سے برسرپیکار ہے اُن کا مرکز ومنبع سید الشہداء حضرات امام حسین ؓ کی ذات ہے، انہوں نے رہنمائی کی کربلا میں، لوگوں کو جینے کا سلیقہ اور مرنے کا انداز اور حالات سے نبردآزما ہونا سکھایا۔ آج دنیا کا ہر انسان کہتا ہے کہ کربلا کے میدان میں یزید کو شکست ہوئی ہے اور حسین ابن علیؓ کامیاب ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے دفتر مشیر امور طلبہ کے زیر اہتمام پارکنگ گراؤنڈ (بالمقابل آرٹس لابی) جامعہ کراچی میں منعقدہ سالانہ”یوم حسینؓ “سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ناظر عباس تقوی نے مزید کہا کہ آج بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہر ظلم کا انکار کریں اور یہی کربلا کا پیغام ہے۔ آج پوری دنیا میں جتنی بھی تحریکیں ظلم کے خلاف کھڑی ہیں اور حق کی آواز بلند کررہے ہیں ان سب کا مرکز و منبع سید الشہداء حضرت امام حسین ؓ اور کربلا ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں سکھایا کے ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔حضرت امام حسینؓ اقتدار یا بیت کے آرزومند نہ تھے بلکہ بقائے دین اسلام کے داعی تھے۔
اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے جو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔کربلا کے شہدا نے صرف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش نہیں کیا بلکہ رہتی دنیا کو ایک پیغام دیا۔ حضرت امام حسینؓ کا فلسفہ شہادت نہ صرف مسلمانوں بلکہ کل انسانیت کے لئے ایک دستور حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیدنا حضرت امام حسینؓ کی شہادت نے ضمیروں کو بیدار کیا، دلوں کو بدلا، ذہنی انقلاب کی راہیں ہموار کیں اور انسانی اقدار کی عظمت و اہمیت کو فروغ دیا۔ حضرت امام حسینؓ کا یزید کے خلاف جہاد مذہبی تعصب یا فرقہ واریت کی بناء پر نہ تھا بلکہ اسلام کے تحفظ کے لیے تھا۔ آج مسلمانوں کے زوال کی ایک بڑی وجہ دین سے دوری اور کردار کا بحران ہے۔ درس کربلا تو یہ ہے کہ ہمارا وجود، کردار اور معاشرہ امن و سلامتی کا مظہر بن جائے۔ حضرت امام حسینؓ نے ظلم کی حکومت کو ماننے سے انکار کیا، کاش ہم حضرت امام حسینؓ کے فلسفہ قربانی کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ امام حسینؓ اور ان کے عظیم رفقاء کو صرف محرم الحرام کے دس دنوں میں یاد کرنے کے بجائے سال کے تین سو پینسٹھ دن یاد رکھیں اور اس پر عمل کریں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ حضرت امام حسین ؓ صرف کسی ایک مکتبہ فکر، کسی مذہب کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔ ہمیں فرقوں میں تقسیم ہونے کے بجائے متحد ہونے کی ضرورت ہے، اسی صورت ہم اپنے مظلوم بھائیوں کی دادرسی کرسکتے ہیں اور ان کا حق دلواسکتے ہیں۔ انصاف کو یقینی بنائے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، عصر حاضر میں مسلم اُمہ کو درپیش مسائل اور چیلنجز کا مقابلہ حضور ؐ کی سیرت مبارکہ سے رہنمائی حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ واقعہ کربلا کی روح یہ ہے کہ ظالم صرف وہ نہیں جو ظلم کررہا ہے بلکہ ظالم وہ بھی ہے جو ظلم پر خاموش ہے۔ آج غزہ والے ڈٹے ہوئے ہیں اور قربانیاں دے رہیں جبکہ پورے عالم اسلام کے اوپر خاموشی چھائی ہوئی ہے، ان کی زبان سے مذمت کے الفاظ تک نہیں نکل رہے ہیں۔ آپ اپنی زندگی میں دیکھیں گے کہ اسرائیل کو شکست فاش ہوگی اور اہل غزہ جو مساکین ہیں اور بے سرو سامانی کی کیفیت میں داستان کربلا کو زندہ کررہے ہیں، فتح ان کا مقدر بننے والی ہے۔ رئیس کلیہ معارف اسلامیہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی زاہدی نے کہا کہ کربلا ظلم کے خلاف مزاحمت، مقابلے کا درس دیتی ہے۔ ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کے بجائے عزت کی موت بہتر ہے یہ ہی کربلا کا پیغام ہے۔ آخر میں مشیر امور طلبہ جامعہ کراچی ڈاکٹر نوشین رضانے کلمات تشکر ادا کئے جبکہ فلسطین فاؤنڈیشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔




