تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی اور تشدد کے واقعات ۔ ۔ ۔ ایک لمحہ فکریہ

تحریر (کاشف شمیم صدیقی) : آجکل جنسی تشدد اور ہراسگی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اب تو اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بھی محفوط نہیں رہیں، ہمارے یہاں کا دوہرا تعلیمی نظام پہلے ہی ہماری زوال پزیری کا ایک سبب بنا ہوا ہے، دوسری جناب تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات آگ پر پٹرول کا کام کر رہے ہیں۔
کچھ دنوں پہلے، غازی یونیورسٹی میں پیش آنے والے ایک ایسے ہی دلخراش واقعے نے والدین کے دلوں کو دہلا دیا تھا، بہت سے والدین نے اس واقعے کے بعد یقینا یہ فیصلہ کر لیا ہوگا کہ وہ اب اپنی بچیوں کو اسکول نہیں بھیجیں گے بلکہ گھر میں ہی رکھیں گے، چولہا، ہانڈی اور جھاڑو پوچھا کروائیں گے، پھر وقت گزرے گا اور پھر مجبور ، لاچار اور انپڑھ بچیوں کی کم عمری میں ہی شادیاں کر دی جائیں گی اور پھر ہر سال بچوں کو جنم دیتی مائیں کمزوری، ناتوانی، غربت اور بے بسی کی اذیت ناک موت مر جائیں گی۔ ۔ ۔ اللہ اللہ خیر سَلّا ۔
ہمارے یہاں یہی ہوتا چلا آیا ہے، خواتین کبھی امپاور ہو ہی نہیں پائیں، اُن کے نصیبوں میں گھُٹ گھُٹ کر مرنا ہی رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن ایک منٹ ۔ ۔ ۔ زرا رُک جائیے ۔ ۔ ۔ ہمارے ہاں یہی ہوتا چلا آیا ہے اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ رہتی دنیا تک ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔ ۔ ۔ وقت بدلے گا ، اور حالات بھی ، بس ہمیں ہمت نہیں ہارنی ہے اور اچھے وقت کے لیے کوششیں جاری رکھنی ہیں، جیسے ایک کوشش غازی یونیورسٹی نے کی ہے، انتظامیہ نے یونیورسٹی کے احاطے میں جنسی ہراسگی کے خلاف "بورڈز” لگا دیے ہیں، جس کا یقینا ایک اچھا اثر قائم ہو گا ۔ ۔ ۔ بس اسی طرح سے آگے بڑھتے رہیں، ایک نہ ایک دن ہمیں ہماری منزل مل ہی جائے گی۔


