تصوف کا مطلب ہے ”کچھ بھی نہیں ” یعنی جب کچھ بھی باقی نہ رہے صرف اللہ رہ جائے تو تصوف

تصوف کیا ہے؟
تحریر:مولانا ا میر محمد اکرم اعوانؒ
تصوف کا مطلب ہے ”کچھ بھی نہیں ” یعنی جب کچھ بھی باقی نہ رہے صرف اللہ رہ جائے تو تصوف بن جاتا ہے۔ جب تک کچھ باقی رہے تصوف نہیں ہوتا۔ میں پیر ہوں، میں مولوی ہوں، میں بزرگ ہوں، میں تکڑا ہوں، میں فلاں ہوں، جب تک ‘میں ‘ رہے تب تک تصوف
نہیں ہوتا جب ‘میں ‘ نہ رہے، انا نہ رہے، کچھ بھی نہ رہے، پھر تصوف ہوتا ہے۔
”سارے کا سارا تصوف یہ ہے کہ اللہ پر اعتماد بحال ہو جائے۔” بندہ اپنے معاملات اپنے رب سے ڈسکس کرے، اپنے رب سے لڑے بھڑے، دعا مانگے اور چیخ کر مانگے، رو رو کر مانگے، گڑگڑا کرمانگے، لڑ کر مانگے، وہ جانے اس کا رب جانے۔
تصوف صرف یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جو پیروی کی جائے اس میں انتہائی خلوص ہو، دل کی گہرائی سے کی جائے، ان کیفیات کو تصوف کہتے ہیں۔ وہ کون سا تصوف ہے جو اطاعت ہی چھڑوا دے؟ یہ جو تصوف میں بہت سی چیزیں دَر آئی ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ دین کے خلاف ہے، یہ اس وجہ سے ہے کہ لوگوں نے اپنی کمزوریوں کے باعث اس کو بھی دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے، تصوف کے نام پر لوگوں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے یا مادی فوائد حاصل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ تو یوں یہ الزام، یہ بہتان تصوف پہ آگیا۔
تصوف دین سے الگ چیز نہیں ہے بلکہ ہم دین پر جو یقین رکھتے ہیں یا عمل کرتے ہیں یا جو ہمارا دعویٰ ہے اس میں خلوص پیدا کرنے کے لئے جو محنت کی جاتی ہے، اسے تصوف کہتے ہیں۔ دین پر جو عمل ہم کرتے ہیں اس میں خشوع و خضوع پیدا کرنے کے لیے جو محنت کی جاتی ہے، وہ تصوف ہے۔ تصوف سے مراد ہے کہ عظمت الٰہی کا ادراک، اپنی بے مائیگی اور کم مائیگی کا احساس کہ میں کچھ بھی نہیں، سب کچھ وہی ہے۔
تصوف کیا نہیں
تصوف کے لئے نہ کشف و کرامات شرط ہے، نہ دنیا کے کاروبار میں ترقی دلانے کا نام تصوف ہے، نہ تعویذ گنڈوں کا نام تصوف ہے، نہ جھاڑ پھونک سے بیماری دور کرنے کا نام تصوف ہے، نہ مقدمات جیتنے کا نام تصوف ہے، نہ قبروں پر سجدہ کرنے, ان پر چادریں چڑھانے اور چراغ جلانے کا نام تصوف ہے، اور نہ آنے والے واقعات کی خبر دینے کا نام تصوف ہے، نہ اولیاء اللہ کو غیبی ندا کرنا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنیکا نام تصوف ہے، نہ اس میں ٹھیکیداری ہے کہ پیر کی ایک توجہ سے مرید کی پوری اصلاح ہوجائے گی اور سلوک کی دولت بغیر مجاہدہ اور بدون اتباع سنتﷺ حاصل ہوجائے گی نہ اس میں کشف و الہام کا صحیح اترنا لازمی ہے اور نہ وجد و تواجد اور رقص و سرود کا نام تصوف ہے۔
یہ سب چیزیں تصوف کا لازمہ بلکہ عین تصوف سمجھی جاتی ہیں حالانکہ ان میں سے کسی ایک چیز پر تصوف اسلامی کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ یہ ساری خرافات اسلامی تصوف کی عین ضد ہیں۔




MashaAllah 💖 the Islamic Tassawuf