اہم خبریںخیبرپختون خواہ

باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کا سلیکشن بورڈ کا کینسل ہونا افسوس ناک ہے۔کنٹریکٹ ملازمین

باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کا سلیکشن بورڈ کا کینسل ہونا افسوس ناک ہے۔کنٹریکٹ ملازمین

گورنر اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کیخلاف قانونی کارروائی کریں۔میڈیا سے گفتگو

چارسدہ(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کا سلکشن بورڈ کا کینسل ہونا یونیورسٹی ملازمین کے معاشی قتل کے مترادف ہیں۔یونیورسٹی میں موجود بعض ملازمین یونیورسٹی میں رہ کر سازشی ٹولے کا حصہ بننے ہوئے ہیں جن کا مقصد یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے.سازشی ٹولے میں ملوث اہلکار یونیورسٹی انتظامیہ کو بلیک میل کرنے کی ناکام کوششیں کرکے اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں جو کسی صورت ممکن نہیں۔ اس حوالے سے یونیورسٹی میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین نے کہا ہے کہ باچا خان یونیورسٹی کے سلکشن بورڈ کے انعقاد سے انہیں کافی امیدیں وابستہ تھی کیونکہ وہ پچھے کئی سالوں سے یونیورسٹی میں ایمانداری اور مخلصی کیساتھ کام کر رہے ہیں جہاں اب مستقلی ان کا قانونی حق بنتا ہے لیکن یونیورسٹی میں موجود سازشی ٹولہ نہ صرف ان کی مستقلی کے خلاف ہے بلکہ یہ سازشی ٹولہ اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ کو بلیک میل اور یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ان ملازمین کے مطابق سازشی ٹولے میں ملوث عناصر میں سے ایک(جو کہ یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی سیٹ پر تعینات ہے) ماضی میں ان کی تعیناتی مکمل طور پر غلط طریقے سے کی گئی ہے.کیونکہ مذکورہ اہلکار کی تعیناتی اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول سے ایک سال قبل عمل میں لائی گئی ہے جو کہ ایچ ایس سی کے قانون کے خلاف وزری ہے جس کو بہت جلد گورنر کی احکامات پر یونیورسٹی سے فارغ کر دیا جائے گا۔سازشی ٹولے کے دوسرے اہم رکن جو کہ یونیورسٹی سے پیسے چوری کرنے میں ملوث ہیں جس کے خلاف انکوائری مکمل ہو چکی ہے اور اس پرلاکھوں روپے کی چوری بھی ثابت ہو چکی ہے جس کے خلاف بھی انکوائری recomendations کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔سازشی ٹولے کا تیسرا اہم کردار یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنی نئی تعیناتی کے لئے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے.مذکورہ اہلکار پہلے سے ہی یونیورسٹی میں لیکچرار کے پوسٹ پر تعینات ہیں لیکن جیاگرافی میں پی ایچ ڈی ہولڈ رہونے کے باوجود وہ سوشیالوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی نشست پر تعیناتی چاہتا ہے جو کہ ایچ ایس سی رولز ریگولیشن کے خلاف ہے اور مذکورہ اہلکار کی تعیناتی کو متعدد بار سکروٹنی کمیٹی نے نا اہل اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔
اس حوالے سے باچا خان یونیورسٹی سے محلص ملازمین نے گورنراور چیف سیکرٹری سمیت یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ یونیوسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف فوری طور پر کاروائی عمل میں لائی جائے اور ایسے عناص کو یونیورسٹی سے نکال با ہر کیا جائے جو یونیورسٹی اور علاقہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔کنٹریکٹ ملازمین کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد ایک قابل اور ایماندار بندہ ہے لیکن یونیورسٹی میں شرپسند ٹولے کی وجہ سے یونیورسٹی کے ماحول روز بروز خراب ہوتا جا رہا ہے جو قابل افسوس ہے کنٹریکٹ ملازمین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی ملازمین کو چاہئے کہ شرپسند ٹولے کا حصہ نہ بنے کیونکہ یونیورسٹی کیلئے باعث نقصان ہے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You