باعزت’ باوقار صحافی نہ جھکتے ہیں نہ بکتے ہیں

باعزت’ باوقار صحافی نہ جھکتے ہیں نہ بکتے ہیں
ماشاءالله رضوان تھیبو صاحب آپ نے کورٹ سے سرکاری ملازمین کی بندش پر سخت پابندی عائد کرتے ھوئے صحافت کو محفوظ بنایا جس پر میری جانب سے بہت مبارک قبول کیجئے اور اب آپ سے امید کرتا ھوں کہ آپ میڈیا مالکان کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف بھی سخت اقدامات کیلئے ہائی کورٹ میں پٹیشن جمع کرائیں گے کیونکہ صحافیوں کے حقوق کو سب سے زیادہ یہی سلب کرتے ہیں انہی مالکان نے اپنی بقا و تحفظ کیلئے بیشمار مافیاؤں کو جنم لیئے رکھا ھے جن میں بے ضمیر بے ایمان اور نفس پرست صحافی بھی شامل ہیں ان چند ایک خودغرض مطلب اور موقع پرست صحافیوں کی بناء پر آج باضمیر عزت نفس اور سفید پوش ایماندار صحافی مشکلات کا شکار ہیں۔ جاوید صدیقی سینئر جرنلسٹ و کالمکار نے رضوان تھیبو کے ساتھ کئی برس ایک بڑے چینل میں کام کرچکے ھیں اور رضوان تھیبو نوابشاہ پریس کلب میں عرصہ دراز سے کئی منصب پر رہے ہیں اور اب بھی صدر ہیں۔ میرے بہت اچھے دوست بھی ہیں اور ماتحت بھی رہے ہیں۔ خاص طور پر سکھر پریس کلب کے روئے رواں لالا اسد پٹھان نے جس قدر پریس کلب کو بلندیوں پر پہنچایا ھے جتنی تعریف کی جائے کم ھے مگر کیا انھوں نے اور دیگر سندھ بھر کے یوجیز اور کلب کے صدور و سیکریٹریز نے الیکٹرونک میڈیا مالکان کا احتساب کیا۔ کیا کسی ایک نے بھی ہائی کورٹ و سپریم کورٹ میں بلاوجہ بزریعہ ڈاؤن سائزنگ معاشی قتل کا لامتناہی سلسلہ پر عملی مظاہرہ پیش کیا اور جن کو جاب سے فارغ کیا ان کیلئے کس حد تک قانونی تقاضے پورے کیئے اور کیا پاکستان بھر کے یوجیز و کلب کے عہدیداران کو جاب سے بے دخل کیا یقیناً نفی میں جواب آئیگا۔ اکثریت کی تعداد وہ ھے جنھوں نے اداروں کو بنانے میں سالوں بتادیئے جب جوانی کی قوت’ طاقت’ محنت سب کچھ لگادی تو ان مالکان نے ایک بیکار کوڑے کے مانند ڈسٹ بین میں پھینک دیا واقعی اس ملک میں نہ تو قانون ھے نہ ہی انسانیت’ ھے تو صرف گندی سیاست’ منافقت’ بے شرمی’ بے غیرتی’ بے حیائی اور تو اور قانون کیساتھ چلنے والے تمام ادارے الیکٹرونک میڈیا مالکان کے سامنے بے بس کیوں ہیں!! آخر یہ احتساب اور قانون سے مبرا کیوں!! کیا ہی اچھا ہوتا ہمارے دوست رضوان تھیبو صدر نوابشاہ پریس کلب’ ہمارے دوست لالا اسد پٹھان صدر سکھر پریس’ ہمارے دوست فاضل جمیلی صدر کراچی پریس کلب اور ہمارے دوست رضوان بھٹی سیکریٹری کراچی پریس کلب متاثرین صحافیوں کے حق میں سپریم کورٹ میں پٹیشن جمع کراتے۔ تمام پاکستان بھر کے یوجیز اور پریس کلبس کے صدور و سیکریٹریز کا الیکٹرونک میڈیا کے مالکان کے ظالمانہ و جابرانہ رویہ کے خلاف عدالت سے رجوع نہ کرنا قابل تشویش اور حیران کن ھے۔ جیو کے بہت ہی متحرک کارکن فہیم صدیقی کا اس بابت دم خود چھپے رہنا انکی قائدانہ صلاحیت پر سوال اٹھاتا ھے کیا ہم اسی لیئے لیڈر منتخب کرتے رہے کہ وہ کامیابی کے بعد خود اپنی قیمت لگاتے رہیں کب کوئی حقیقی صحافی پیدا ھوگا جو الله سبحان تعالیٰ اور حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کیلئے سچ و حق کی بلندی کیلئے عدل و انصاف کیلئے ہر قدم اٹھائےگا باعزت اور با وقار صحافی کسی کے آگے نہ جھکتے ہیں نہ بکتے ہیں۔۔۔!!



