اےآروائی کا سب سے پہلا اسٹرنگ آپریشن

اےآروائی کا سب سے پہلا اسٹرنگ آپریشن
تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی
میں عماد بن یوسف ایس وی پی کو بیغیرت، جاہل، فتنہ باز، مکار، خود غرض، سازشی، موقع پرست اس لئے کہتا ھوں کہ اس میں ہر کھلی برائی ھے اور یہ بیغیرت کرتے شرم و حیا بھی نہیں رکھتا۔ سلمان اقبال کیلئے ایک ہی جملہ کافی ھے جیسا شخص ھوتا ھے ویسے ہی دوست رکھتا ھے۔ سلمان اقبال کو مخلص، سچے، ایماندار و دیانتدار ملازمین پسند نہیں ھیں یہی وجہ ھے کہ انسان نما کتا اس کا پالتو اور چاٹنے والا عماد بن یوسف کو ہر عزت نفس خوددار ملازم کو برداشت نہیں کرتا اس کیلئے مشکلات و مصائب اور مجبوری سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ھے انکار پر اسے نکلوا کر ہی دم لیتا ھے اور جس نے بھی اس کتے پر اعتماد و بھروسہ کیا اس نے اسے ایسی چوٹ دی کہ وہ زہریلا زخم ناسور بن جاتا ھے۔ اےآروائی میں معروف اینکر سید اقرار الحسن خود کو سید نہ لکھیں تو بہتر ھے کیونکہ انہیں سید کا مطلب و معنی ہی نہیں پتا۔ اصل سید تو سچ و حق پر قربان ھوتا ھے ذاتی خواہشات، طلب دولت، نفس کی اطاعت اور ظالم و جابر کے سامنے ڈٹ جاتا ھے اپنے مالکان کی ہر ناجائز خواہشات کی تکمیل نہیں کرتا بہتر یہی ھے کہ دنیا کو دھوکہ دینے کے بجائے سیدھی سیدھی زندگی گزاریں اور سیدھے سیدھے پروگرام کریں اور سچ و حق پر مضبوطی سے کھڑا رھیں چاھے کوئی بھی قیمت ادا کیوں نہ کرنی پڑے۔ صرف اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کی رضا کیلئے ثابت قدم رھیں اور سلمان اقبال کی خواہشات کیلئے ہرگز ہرگز نہیں کریں یہی مکمل بات اور میرا مشورہ معروف اینکر وسیم بادامی کو بھی ھے اسے کہتا ھوں کہ وسیم بادامی تم اعلیٰ درجہ کے جاہل ھو یہ بتاؤ کہ معصوم اور معصومین کسے کہتے ھیں؟؟ تم معصوم اور معصومین کے نام کو مزاحاً استعمال کرکے تمسخر اڑاتے ھو تم ان سے معصومانہ سوال کہہ کر مخاطب ھوتے ھو جو معصومین کے وجہ قتل ھیں۔ تم ہر ایک کیلئے استعمال کرکے اس مقام و درجات کی توہین کرتے ھو یہ مقام اللہ نے بنایا ھے تمہارے باپ نے نہیں۔ تمیز سیکھو اور علم حاصل کرو یاد رکھو!! سلمان اقبال تو ہوس دولت میں پاگل ھوچکا ھے نہ اسے دین کی پروا نہ انسانیت و ریاست کا احساس میڈیا کو بہت احتیاط اور سمجھداری سے چلنا ھوتا ھے ذرا سی غفلت اور غیر ذمہداری ملک و قوم اور ریاست کیلئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ھے۔ اب میں آپ کو اس حقیقت کی جانب لئے چلتا ھوں کہ آج اقرار سمیت کئی لوگ کام کرکے فخر اور ناز کرتے ھیں کہ یہ ھم نے منفرد کام کیا ھے ھم سے قبل کسی نے نہیں کیا۔ تو جان لیں مجھ ناچیز حقیر فقیر معمولی سے انسان نے یہ سب کچھ بہت پہلے کرچکا ھوں۔۔ جب 18 مارچ سنہ 2001 کو اےآروائی جوائن کیا تو کچھ عرصہ لائبریرین کے طور پر کام کیا وہاں رہتے ھوئے سب سے پہلے حاجی صاحب کو کہہ کر "لائبریری اپلیکیشن” تیار کروائی جو تاحال جاری ھے اس کے علاوہ ایک طویل فہرست ھے اگر اس کا ذکر کرنا شروع کردوں تو میرے آج کی تحریر کا رخ بدل جائیگا بہتر یہی ھے کہ اسی سمت چلوں۔ اگر کوئی کہتا ھے کہ یہ مثبت اور تعمیری کام اےآروائی میں، میں نے پہلی بار کئے ھیں تو اسے سب سے پہلے میرے کام پر ضرور ایک نظر ڈالنی ہوگی کہ کہیں جاوید صدیقی پہلے سے کر گزرے تو نہیں۔ سنہ 2003 کا واقعہ ھے کہ اےآروائی کے نام پر ایک جعل ساز گروپ متحرک تھا میرے علم میں آیا کہ لوگوں کو جعلی پلاٹس اور سونے کی قرعہ اندازی کیلئے ممبرشپ کررھے ھیں اور اس کی اس وقت 15000 روپے فیس لے رھے ھیں۔ حاجی صاحب کو مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا اور ان کو پکڑنے کیلئے اجازت طلب کی اس زمانے میں کراچی میں اےآروائی نیوز کے روح رواں ایس ایم شکیل ہوا کرتے تھے یاد رھے اس وقت اےآروائی ون ورلڈ کے نام سے نیوز چینل چل رھا تھا جو لندن سے نشر ھوتا تھا۔ پروگرام مرتب ھوا ایس ایم شکیل کو لائن اپ کیا اس نے متعلقہ تھانے کو آگاہ کیا اور دو موبائل مکمل تیاری کیساتھ آپریشن میں شامل کروادیا اور اپنا کمیرہ مین عمران شیخ کو آپریشن کی کوریج کیلئے بھیج دیا حسب عادت اس قدر تاخیر سے بھیجا کہ میں نے خود پولیس پورٹی کیساتھ آپریشن مکمل کیا اور دو فراڈ کمپنی کی ملازمہ کو رقم و دستاویزات کیساتھ رنگوں ہاتھ رقم لیتے ھوئے پکڑا اور تھانے میں بند کروادیا۔ اسی وقت میرے نمبر پر انجان نمبروں سے فون آنے شروع ھوگئے آفریں ملتی رہیں اور کچھ دھمکیاں بھی میں نے کسی کی پرواہ نہیں کی اور الحمدللہ آج بھی نہیں کرتا ھوں۔ اس وقت تو شائد نہ اقرار کے خواب و خیال میں بھی آیا ھوگا کہ اسٹرنگ آپریشن ھوتا کیا ھے یہ آپریشن میں نے اللہ کے بھروسہ اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ھوئے کیا جو خالق و مالک نے عطا کیا ھے۔ ادارے کے مالک حاجی صاحب سے اجازت طلب کرکے آپریشن کردیا۔ اےآروائی کی جس قدر توجہ انتظامی امور اور محنت شروع دن سے حاجی صاحب کو کرتے دیکھا یقیناً اگر حاجی صاحب نہ ھوتے تو کبھی بھی اےآروائی بلند و بالا کھڑا نہیں ھوسکتا تھا میرا تو یہ کہنا ھے کہ شائد اےآروائی چینل ہی بند ھوجاتا کیونکہ اس چینل کے ابتدائی دنوں میں لوگوں نے خوب ہاتھ صاف کیئے کر تو اب بھی رھے ھیں لیکن انتہائی مہارت اور حرامی پن اور کمینگی کیساتھ پہلے مالکان لٹیروں کی عیاریوں سے نا واقف تھے اب واقفیت کیساتھ خود لٹتے ھیں ان الفاظ میں بہت گہرائی ھے سمجھنے والوں کیلئے بہت اشارے ھیں ۔۔۔۔۔!!



