انٹرنیشنلاہم خبریں

انڈیا کی ریاست اترکھنڈ میں گلیشیئر ٹکرانے سے ڈیم تباہ، درجنوں افراد لاپتہ، ہلاکتوں کا خدشہ

شمالی انڈیا میں ایک گلیشیئر کے ڈیم سے ٹکرانے کے بعد آنے والے بڑے سیلاب میں درجنوں افراد لاپتہ ہو گئے ہیں جن کی موت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ڈیم کے تباہ ہونے سے ریاست اتراکھنڈ کے ایک دیہات میں پانی داخل ہو گیا ہے۔ اردگرد کے دیہاتوں کو خالی کروا لیا گیا ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 150 لوگ اس سیلاب کا نشانہ بنے ہیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں سیلاب کے پانی کو علاقے میں داخل ہوتے اور تباہی پھیلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

دھولی گنگا دریا کے قریب رہنے والے سنجے سنگھ رانا نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’یہ(سیلاب) اتنی تیزی سے آیا کہ کسی کو خبردار کرنے کا وقت ہی نہیں ملا۔‘

’مجھے محسوس ہوا کہ شاید ہم بھی بہہ جائیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: سیلاب میں پھنسے 700 مسافروں کو بچا لیا گیا

انڈیا: سیلاب سے بہار میں 482، اترپردیش میں 101 افراد ہلاک

انڈیا میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب سے 120 ہلاک

پولیس کے ایک ترجمان نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’کم از کم تین لاشیں مل چکی ہیں جبکہ 150 افراد لاپتہ ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’16 سے 17‘ لوگ ایک سرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

رشی گنگا پن بجلی پروجیکٹ

اتراکھنڈ کے پولیس چیف اشوک کمار نے کہا کہ رشی گنگا پن بجلی پروجیکٹ کے نام سے مشہور ڈیم میں کام کرنے والے 50 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے لیکن انھوں نے کہا کہ اس مقام پر کام کرنے والے کچھ کارکنوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیر مملکت سے بات کرنے کے تھوڑی دیر بعد ہی نریندر مودی نے ٹوئٹر پر لکھا: ’قوم وہاں موجود سب افراد کی سلامتی کے لیے دعا گو ہے۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں مدد کے لیے ملک کی فضائیہ کو تیار کیا جا رہا ہے۔

ایمرجنسی کارکنان درجنوں دیہاتوں کو خالی کرا رہے ہیں جبکہ ریسکیو ٹیمیں بلاک سرنگ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں جہاں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

امدادی ٹیمیں

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ترویندر سنگھ روات نے کہا ہے کہ دریا میں پانی کی سطح معمول سے ایک میٹر (3.2 فٹ) کی سطح پر ہے لیکن پانی کا بہاؤ کم ہو رہا ہے۔

پڑوسی ریاست اترپردیش نے دریا کے نزدیک کچھ علاقوں کو سیلاب کے لیے ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

مغربی ہمالیہ میں واقع اترکھنڈ میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہتا ہے۔ یہاں سنہ 2013 میں مون سون بارشوں سے آنے والے سیلاب میں تقریباً 6000 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You