
آلو کی 120 کلو بوری 8000 کے بجائے 1800 میں فروخت ہو رہی ہے، حکومت کاشتکار سے آلو خریدے۔پاکستان کسان اتحاد
زراعت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، حکومت فوری ایمرجنسی نافذ کرے۔صدر پاکستان کسان اتحاد
ملتان(نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ زراعت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے اور کاشتکار کو اپنی فصل کی پیداواری لاگت بھی نہیں مل رہی جس کے باعث کسان احتجاج پر مجبور ہو رہا ہے۔ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ ہم احتجاج شوق سے نہیں بلکہ مجبوری میں کرتے ہیں اور حکومت کے کہنے پر 5 جنوری کا احتجاج 26 جنوری تک مؤخر کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ زراعت میں فوری ایمرجنسی نافذ کی جائے، آلو اور کینو کے کاشتکار کو پیداواری لاگت بھی نہیں مل رہی، 120 کلو آلو کی بوری 8000 کے بجائے 1800 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کاشتکار سے آلو خریدے اور ایکسپورٹ کرے، تمام فصلوں کی امدادی قیمت کاشت سے ایک سال پہلے مقرر کی جائے، گندم کا ریٹ 4000 روپے رکھا جائے اور زرعی صارفین کو پندرہ روپے یونٹ کے حساب سے بجلی دی جائے۔خالد محمود کھوکھر نے نیٹ میٹرنگ کی بندش کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری بحالی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ زرعی ریسرچ پر کم از کم دو فیصد بجٹ مختص کیا جائے، اگر جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 26 جنوری کو پنجاب اسمبلی کے باہر دما دم مست قلندر ہوگا۔



