انٹرنیشنلاہم خبریں

کیا انڈیا کا نیا ارجن ٹینک پاکستانی ٹینکوں پر حاوی ثابت ہو سکتا ہے

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں ملک میں تیار کیا گیا ٹینک ارجن MK-1 اے (الفا) انڈین آرمی کے سپرد کیا ہے۔

انڈیا کے سرکاری ادارے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کی جانب سے تیار کیے گئے اس ٹینک کو اب بہت جلد انڈین فوجی بیڑے میں شامل کر لیا جائے گا اور اس سلسلے میں حکومت نے 6000 کروڑ کی رقم بھی مختص کر لی ہے۔

ارجن ایم کے ون اے انڈیا میں تیار کردہ ایک ٹینک ہے جو کہ پچھلے ارجن ٹینک کا جدید ماڈل ہے۔ انڈیا کے پاس اسی سیریز کا ایک اور MK-2 ٹینک ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی جے ایف 17 یا انڈین تیجس، کون سا طیارہ زیادہ خطرناک

انڈیا کے لیے دفاعی ساز و سامان کے شعبے میں ’خود انحصاری‘ کا حصول کتنا مشکل

کیا پاکستان کا نیا ’بلاک تھری‘ جے ایف 17 لڑاکا طیارہ رفال کا مقابلہ کر سکے گا؟

گذشتہ اتوار کو وزیر اعظم مودی نے جنوبی انڈیا کے شہر چنئی میں یہ ٹینک چیف آف آرمی اسٹاف ایم این نارواں کے حوالے کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ انڈیا کے متحد جذبے کی علامت بھی ہے کیونکہ جنوبی انڈیا میں تیار کی جانے والے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں ملک کی شمالی سرحدوں کا تحفظ کریں گی۔

سابقہ ماڈل کے مقابلے میں ارجن MK-1 اے میں 14 اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ ٹینک تیزی سے اہداف کا پیچھا کر کے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ رات یا دن اور ہر موسم میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتا ہے۔

اس کے ڈیزائن کے مطابق اس ٹینک سے میزائل بھی فائر کیا جا سکتا ہے، جس کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔

انڈیا

اس ٹینک کی خصوصیات کیا ہیں؟

میں ارجن MK-1 اے کی ایک بڑی خصوصیت ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے 50 فیصد سے زیادہ آلات مقامی ساختہ ہیں جبکہ پچھلے ورژن میں یہ 41 فیصد مقامی ساختہ تھے۔

اس ٹینک میں ٹرانسمیشن سسٹم پہلے سے بہتر ہے۔ یہ دستی بموں اور میزائلوں کے حملے کو زیادہ مضبوطی سے برداشت کر سکتا ہے اور اس میں کیمیائی حملے سے بچاؤ کے لیے خصوصی سینسر لگائے گئے ہیں۔

اس ٹینک کا مخصوص ’کنچن آرمر‘ اس کو ہر طرف سے ٹینک شکن ہتھیاروں سے محفوظ رکھتا ہے۔

اس ٹینک میں ساتھ ساتھ لیزر کی مدد سے چلنے والا نظام ہے جو یہ پتہ لگاتا ہے کہ کہاں سے اور کس طرح کی وارننگ آ رہی ہے اور حملہ کہاں سے ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس ٹینک میں ریموٹ کنٹرول ہتھیار کا نظام اور جدید ترین نیویگیشن سسٹم بھی ہے۔

ارجن ٹینک میں اس ٹینک میں جدید ترین گولہ بارود کا نظام ہے جس کی مدد سے دشمن کے ٹینکوں کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس میں 120 ملی میٹر کیلیبر رائفل گن بھی نصب ہے۔

دیگر ہتھیاروں میں 7.62 ملی میٹر مشین گن، اینٹی ایئر کرافٹ گن اور زمینی اہداف کے لیے 12.7 ملی میٹر کی مشین گن شامل ہے۔

اس کے علاوہ ٹینک میں اندھیرے میں دیکھنے کے لیے نائٹ ویژن کی سہولت ہے جو پہلے والے ماڈل میں نہیں تھی۔

اس ٹینک میں 1400 ہارس پاور انجن ہے اور یہ 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتا ہے۔

ارجن ٹینک کی پیداوار کب شروع ہوئی تھی؟

بھسما ٹی 90

ڈی آر ڈی او نے 1972 میں کامبیٹ وہیکلز ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اسٹیبلشمنٹ (سی وی آر ڈی ای) کے ذریعہ ارجن ٹینکوں پر مبنی جنگی ٹینک بنانے کے سلسلے کا آغاز کیا تھا۔

اس کا مقصد اعلیٰ صلاحیتوں کا حامل ایک جنگی ٹینک بنانا تھا اور اس حوالے سے پہلے ارجن ٹینک کی پیداوار 1996 میں شروع ہوئی جس کے بعد سنہ 2004 میں انڈین فوج کے بیڑے میں 124 ارجن ٹینکوں کی رجمنٹ شامل کی گئی ہے۔

یہ رجمنٹ اس وقت ملک کی مغربی سرحدوں پر تعینات ہیں۔

بعد میں ڈی آر ڈی او نے ارجن ٹینکوں کا ایک بہتر ورژن تیار کیا جس میں اضافی خصوصیات کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کی فوج میں زیادہ تر روسی ساختہ ٹی 72 اور ٹی 90 ٹینک موجود ہیں۔

پاکستان کے جنگی ٹینک انڈین ٹینکس کے مقابلے میں کیسے ہیں؟

انڈیا اور پاکستان کے مابین اکثر فوجی صلاحیت کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں انڈین میڈیا میں ارجنMK-1 اے ٹینک کو پاکستان کے لیے چیلینج کہا جا رہا ہے۔

ایسی صورتحال میں ہم نظر ڈالتے ہیں کہ جنگی ٹینکوں کی صلاحیت کے لحاظ سے پاکستان کتنا مضبوط ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر چین اور یوکرین سے ملنے والی ٹیکنالوجی پر مبنی ٹینک موجود ہیں۔ پاکستان اور چین کے تعاون سے تیار کردہ ٹینکوں میں الخالد اور الضرار ٹینک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یوکرین کا T80 UD اور چین کا ٹائپ 85، 69، 59 ٹینک ہے۔

T-80 UD ٹینک

پاکستان کا T-80 UD ٹینک ایک انتہائی محفوظ اور اعلیٰ درجے کا جنگی ٹینک ہے جسے یوکرین نے تیار کیا ہے۔ اس ٹینک میں 1A45 فائر کنٹرول سسٹم نصب ہے اور اس کے دفاع کا نظام انڈین فوج کے ٹی 72 سے بہتر ہے لیکن ٹی 90 بھشما ٹینک کے مقابلے میں کمتر ہے۔

اس ٹینک میں 125 ملی میٹر کی گن نصب ہے جس کی زیادہ سے زیادہ حد پانچ کلومیٹر ہے اور یہ کم اونچائی پر اڑنے والے ہیلی کاپٹروں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹینک میں 7.62 ملی میٹر مشین گن اور ریموٹ کنٹرولڈ 12.7 ملی میٹر اینٹی ایئرکرافٹ مشین گن بھی ہے۔ اس ٹینک میں 1000 ہارس پاور کا انجن ہے۔

الضرار ٹینک

الضرار

الضرار ٹینک پاکستان اور چین کے تعاون سے تیار کیے جانے والا سیکنڈ جنریشن کا جنگی ٹینک ہے۔

اس میں 125 ملی میٹر گن اور 12.7 ملی میٹر کی اینٹی ایئرکرافٹ مشین گن نصب ہے۔ اس ٹینک کی تیز ترین رفتار 65 کلومیٹر ہے۔

دیگر ٹینکوں کے مقابلے میں اس کے انجن کی طاقت کم ہے لیکن اس کا وزن صرف 40 ٹن کے قریب ہے جس کی مدد سے اس کو کنٹرول کرنا زیادہ آسان ہے اور یہ بہت سبک رفتار طریقے سے جگہ بدلتا ہے۔

الخالد ٹینک

الخالد ٹینک بھی پاکستان اور چین کی مشترکہ کوششوں سے بنایا گیا ہے۔ الخالد کے پاس 125 ملی میٹر گن ہے اور اس کا وزن 46 سے 48 ٹن ہے جس میں 1200 ہارس پاور کا سپر چارجڈ ڈیزل انجن نصب ہے۔

اس ٹینک کی تیز ترین رفتار 72 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

الخالد

’پاکستانی اور انڈین ٹینکوں کا موازنہ کرنا آسان نہیں ہے‘

انڈین دفاعی ماہر راہول بیدی کہتے ہیں کہ ٹینکوں کی نمایاں خصوصیات دو چیزوں سے ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کتنی تیزی سے حرکت کر سکتا ہے اور دوسرا اس کی طاقت کتنی ہے۔

‘ارجن ٹینک پاکستان کے ٹینکوں سے بہت سارے معاملات میں اعلیٰ ہے کیونکہ اس کا جرمن انجن بہت طاقتور ہے جبکہ پاکستان میں زیادہ تر یوکرین کے ٹینک ہیں، لیکن پاکستانی ٹینکوں میں موبیلیٹی یعنی نقل و حرکت سبک رفتاری سے کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ٹینکوں کے مابین موازنہ بہت واضح اور سیدھا نہیں ہو سکتا۔

’ہلکے ٹینکوں کی ضرورت ہے‘

انڈیا

راہول بیدی کہتے ہیں ’یہ ٹینک 68 ٹن وزنی ہیں۔ اتنے بھاری ٹینکوں کی نقل و حرکت میں سبک رفتاری نہیں ہوتی اور کیونکہ پنجاب میں پل ہیں، سڑکیں ہیں اس لیے ان ٹینکوں کا استعمال صرف راجستھان کی سرحد پر صحرائی علاقوں میں کیا جا سکتا ہے۔ اور کیونکہ اس کے وزن اور بڑے سائز کی وجہ سے یہ ریل کے ذریعے نہیں پہنچایا جا سکتا، اس کے لیے حکومت ٹینک کیریئرز طلب کر رہی ہے۔‘

راہول بیدی کا کہنا ہے کہ اس ٹینک کی طاقت اور نقل و حرکت ہموار اور زمینی علاقوں میں کافی اچھی ہےلیکن اب انڈیا میں ہلکے ٹینکوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

راہول بیدی نے کہا کہ انڈیا میں جنگی ٹینک زیادہ تر راجستھان اور پنجاب میں استعمال ہوتے ہیں لیکن چین کے ساتھ حال میں ہونے والی کشیدگی کے دوران شمالی سرحدوں پر لداخ کے علاقے میں ہلکے ٹینکوں کو تعینات کیا گیا ہے جو 30 سے 40 ٹن وزنی ہے۔

’ہلکے ٹینکوں پر تقریباً 15 سال قبل غور کیا گیا تھا لیکن اب انڈین حکومت اس سمت میں تیزی سے کام کر رہی ہے۔‘

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You