وزارت محنت و سماجی تحفظ کا قلمدان سنبھالنے پر محترم سعید غنی کو بشریٰ آرائیں کی مبارکباد

آل لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام یونین کی چیئرپرسن محترمہ بشریٰ آرائیں نے سندھ کابینہ میں حالیہ ردوبدل کے بعد محترم سعید غنی کو وزارت محنت و سماجی تحفظ کا قلمدان سنبھالنے پر دلی مبارک باد پیش کی ہے۔
اس موقع پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں مزدور طبقہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ اگرچہ صوبے میں لیبر لاز موجود ہیں مگر ان پر عملی طور پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث مزدوروں کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بیشتر فیکٹریوں میں مزدوروں کو قانونی طور پر مقررہ کم از کم تنخواہ، جو اب 40 ہزار روپے ماہانہ ہے، فراہم نہیں کی جا رہی۔ اسی طرح مزدور طبقے کو نہ تو سوشل سیکیورٹی کی سہولت دستیاب ہے اور نہ ہی ان کی ای او بی آئی میں باقاعدہ رجسٹریشن کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ زیادہ تر مزدوروں کو نہ تو جوائننگ لیٹر دیا جاتا ہے اور نہ ہی اداروں کے شناختی کارڈ۔ دوسری جانب خواتین کو کام کی جگہوں پر مردوں کے مساوی مواقع میسر نہیں۔ جو خواتین مختلف اداروں میں ملازمت کر رہی ہیں انہیں نہ صرف امتیازی رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انہیں مرد ملازمین کے مقابلے میں کم تنخواہیں دی جاتی ہیں۔
محترمہ بشریٰ بانو آرائیں نے وزیر محنت و سماجی تحفظ محترم سعید غنی سے پُرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات اٹھاتے ہوئے مزدوروں کے ان بنیادی مسائل کو حل کریں تاکہ محنت کش طبقہ عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کر سکے۔



