عنوان: پاکستان الیکشن کمیشن اتخابات نہیں، ریفرینڈم کرائیے۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: پاکستان الیکشن کمیشن اتخابات نہیں، ریفرینڈم کرائیے۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
پاکستان وہ بد قسمت ملک ھے جہاں کا نظام اور حکمران دونوں ظالم و جابر، جھوٹے و کاذب، فاسق و فاجر، عیار و مکار، بہروپیہ و مداری، بے دین و بے ایمان، ریاکار و منافق، بداخلاق و بدکردار، ملکی و قومی لٹیرے و ڈاکو گوکہ جہاں بھر کی غلاظت و خباثت کے ڈھیر ھیں، وہ ایک کہاوت ھے کہ گندگی کا کیٹرا گندگی ہی میں جیتا ھے اور پاکی کا جاندار پاک و شفاف میں باحیات رہتا ھے، ھم سب الحمداللہ مسلمان ھیں اور رسول خدا ختم النبین ختم الرسل نور مجسم مولائے کل امام الانبیاء اول و آخر محبوب خدا حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی امت ھیں، آپ ﷺ کا دین افضل و معتبر ھے تو پھر امت کیونکر دین سے دور یقیناً یہودیوں و عیسائیوں کی طرح ھم بھی اپنے رسول ﷺ کی تعلیمات کو فراموش کر بیٹھے ھیں، توریت زبور اور انجیل اپنے اپنے پیغمبروں کے پردہ فرمانے کے بعد اصل حالت میں نہیں رہیں لیکن رب الکائنات نے دین محمدی ﷺ کو قیامت تک کیلئے مبعوث کیا ھے اور اسی سبب قرآن کی حفاظت اپنے ذمہ لے لی ھے، رب العزت اچھی طرح جانتا ھے کہ یہ انسان جو گندگی سے پیدا کیا گیا ھے اور اسکے ساتھ نفس امارہ جڑا ھے شیطان و ابلیس کی خباثت کو بھی پیچھے چھوڑ دیگا لیکن وہ بندے جنھوں نے دین کو مکمل مضبوطی سے تھامے رکھا اور مکمل عمل پیرا رھے وہ اپنے نفس پر حاوی رھے ان پر اللہ نے رحمتیں برکتیں اور نوازشوں کی برسات رکھیں ان بندوں کو ولی کا خطاب دیا، ولی ہر ایک مسلمان بندہ بن سکتا ھے لیکن شرط وہی ھے کہ کامل دین پر چلے۔ اسلامی ریاست کہلانے والا ملک جب جمہوریت کے لبادہ میں آیا تو نہ اسلام بچا نہ اخلاق کیونکہ جمہوری نظام صیہونی زائینسٹوں کا از خود تیار کردہ نظام ھے ستر سال سے زائد یہ نظام پاکستان سے چمٹا ھوا ھے کسی جونک کے مانند تو دیکھ لیجئے ھمارا ملک ترقی و خوشحالی کرنے کے بجائے چند خاندانوں کی قیود میں پھنس کر رہ گیا ھے جیسے کہ یہ ریاست انکے باپ کی ھو ان میں قابل ذکر پی پی پی جو بھٹو کے خاندان پر محیط ھے اور اب تیسری نسل عیش کررھی ھے، دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ نون یہ بھی مورثی سیاست و حکمرانی میں میاں نواز شریف کی تیسری نسل شامل ھے، اسی طرح جمیعت علماء اسلام ف یعنی فضل الرحمان اور نورانی صاحب کے بیٹے اپنی سیاست جماعت کو بڑھانے کے بجائے کمزور کر بیٹھے ھیں یہی حال پاکستان مسلم لیگ ف پیر پگاڑا کی جماعت بھی متحرک نہیں رھی بحرحال اسی طرح دیگر مورثی سیاسی جماعتوں میں اے این پی سمیت کئی جماعتیں اپنی اپنی ذات مفادات کے تحت عمل پزیر ھیں اور اگر غیر مورثی سیاسی جماعتوں کا ذکر کیا جائے تو سب سے پہلے ایم کیو ایم کا آتا ھے یہ بھی کم و بیش چالیس سالوں سے قومی ھو یا صوبائی دونوں سطح پر اقتدار کے صرف مزے ہی لوٹے یہی نہیں بلکہ لوکل گورنمنٹ کراچی کے بے تاج بادشاہ بنے رھے آج کراچی جو زبوں حالت کا شکار ھے یہ انہیں دونوں سیاسی جماعت کا نتیجہ ھیں، جماعت اسلامی ہمیشہ سے منافقت کرتی رھی ھے یہی سبب ھے کہ عوام دین کا نعرہ لگاکر منافقت کے عادی پن کی وجہ سے آج پاکستان بھر میں ابتک سوائے تحریک لبیک پاکستان کے علاوہ کسی ایک دینی و مذہبی جماعت کو پسند نہیں کرتی گزشتہ لوکل گورنمنٹ انتخابات میں ایکبار پھر جماعت اسلامی کو ووٹ دیکر بھاری مقدار میں کامیابی دی مگر نتیجہ کچھ بہتر سامنے نہیں آیا جس کی قیمت شائد عام انتخابات میں انہیں ادا کرنی پڑے، اگر عمران خان کی بات کریں تو اسکے بھی لچھن کچھ اچھے نہیں تھے حقیقت اور سچائی سے قطعی منہ نہیں موڑنا چاہئے اگر عمران خان باشعور دوراندیش ذہین قابل ہوتا تو یہ نوازشریف کو این آر او دیکر بیرون ملک روانہ نہ کرتا تا وقت کہ وہ اور اس کا خاندان قومی خذانہ میں لوٹی ھوئی دولت جمع نہ کراتے اور یہی عمل آصف علی زرداری سمیت ہر جماعت سے ڈنڈے کے زور پر نکلواتے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا صرف زبانی جمع خرچ اور عوام کو چ بنائے رکھا۔۔۔ معزز قارئین!! حقیقت تو یہ ھے کہ اٹھہتر سالوں سے ان جمہوری جماعتوں اور انکے رہنماؤں نے صرف اور صرف لوٹ مار ہی کی ھے کبھی موثر کم خرچ پر کام نہیں کیا اور کچھ پروجیکٹ بھی کئے تو ان میں اس قدر ہیرا پھیری کرپشن بدعنوانی اور لوٹ مار مچائی کہ چار آنے والا کام دس روپے میں کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ کمیشن رشوت مل سکے ان میں جماعت اسلامی کا اس بابت کوئی منفی کردار نہیں رھا البتہ انکے علاوہ سب حمام میں ننگے غلاظت میں لپٹے تھے۔ سندھ میں ایم کیو ایم ھو یا پی پی پی سب سے زیادہ قومی املاک کو جلانے برباد کرنے میں کردار رھا ھے اور پاکستان تو کیا دنیا کی تاریخ میں کوئی بھی سیاسی جماعت نہیں جس نے چار ایام میں گھربوں نہیں بلکہ نجانے کتنے نربوں کا نقصان پاکستانی قومی خذانے کو پہنچایا اور ملک بھر میں آگ و خون کی بھرپور ہولی کھیل کر اسی ملک کے صدر بن گئے یہ عمل 27 دسمبر 2007 کو محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد چار دن تک تقریبا سو ارب سے زائد ڈالر کا نقصان کیا گیا۔ ایسے بلوے ہوئے کہ انیس سو سینتالس کی یاد تازہ ہوگٸی۔ ایک سو ستر سے زاٸد بینکس پہلے لوٹے پھر جلائے گئے، درجنوں ٹرینیں جلائیں، سیکڑوں دفاتر ہزاروں گاڑیاں اور درجنوں فیکٹریاں نذر آتش کی گئیں، جو جو ہاتھ لگا اسے آگ لگا دی گٸی جبکہ پولیس افسروں سمیت پچاس سے زاٸد لوگ موت کے گھاٹ اتار دیئے گٸے، کئی سو راہگیر خواتین کی عصمت دری کی گئی اور پھر آصف علی زرداری نے اس وقت پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا جب فوج نے کہا کہ حکومت پکی کھپے اب ذرا کھپ بند کر دو اور پھر پیپلز پارٹی حکومت لے کر صبر میں آگٸی تھی۔ حکومت میں آتے ہی صدر آصف علی زرداری کے عاشقانہ قصے اور ٹین پرسن زبان عام رھا، ھماری بیغیرت عدلیہ بھی ان لٹیروں کی معاونین بنتی رھی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ھے یہ بیغیرت منصفین صرف اپنی ذات کیلئے جیتے ھیں انہیں نہ ریاست کی پرواہ اور نہ ہی عوام کی حقیقت تو یہ ھے کہ پاکستان ایک بنانا پیلس بن کر رہ گیا ھے عالم دنیا ھم پر جگ ہنسائی کرتی ھے کب تک فوج اس ملک کو سنبھالتی رھے گی یہ سول سوسائٹی کب اپنے فرائض کو مجھے گی چند چالوں اور رقم پر بکنے والی یہ قوم ان کے جلسہ جلوسوں میں پہنچ جاتے ھیں لات ماریں ان سب خنجیروں کو نکال باہر کریں اس ریاست سے یہ جمہوری ٹھکیدار ریاست پاکستان میں دیمک کی طرح ملک کو کھوکھلا کر ڈالا ھے اور یہ بندر بلاول بھیک مانگ رھا ھے جگہ جگہ اپنے منہ سے وزیراعظم بننے کی خواہش و درخواست کررھا ھے بیغیرت ھوگی یہ قوم جو ان سب لٹیروں کو قبول کرے ہاں پوری قوم ایک آواز بنکر جمہوریت کے خاتمہ اور اسلامی نظام کیلئے نکل باہر آئیں جب نظام تبدیل ھوگا تو نہ صرف آپ کی تقدیر بہترین ھوگی بلکہ ملک بھی ترقی و خوشحالی کی جانب تیزی سے گامزن ھوگا، عوام کو چاہئے کہ سپریم کورٹ اور آرمی چیف میں پٹیشن جمع کرائیں کہ ہم سے ریفرینڈم کرائیں کہ آیا آپ جمہوری نظام کو جاری رکھنا پسند کرتے ھیں یا اسلامی نظام کو رائج کرنا چاہتے ھیں۔ اس ریفرینڈم میں اخراجات بھی کم ھونگے اور نتائج بھی سامنے آجائیگا، اگر عوام کی اکثریت اسلامی نظام پر ھو تو انتخابات کے بجائے شرعی کورٹ ایک ملک بھر سے جید عالم دین و مذہبی اسکالرز اور دیگر مستند روحانی شنخصیات پر مبنی مجلش شورا بنادی جائے اور حکومتی امور تقسیم کردیئے جائیں اور اگر عوام جمہوریت کو بھی جاری رکھنے کا عندیہ دیدے تو سب سے پہلے ان سب کا شفاف سخت ترین احتساب کرایا جائے نیب اور اسمبلیوں کی طرح ہعگز نہیں جہاں قانون ہی تبدیل کردیئے اور جہاں ثبوت مٹانے کیلئے بیضمیر بیغرتوں کی کھیپ بٹھادی گئی ھو، میرا یقین میرا ایمان ھے کہ ھماری قوم میں ایمان یقین اور ضمیر زندہ ھے وہ اسلامی نظام کو قبول کریں گے انشاءاللہ، پاکستانی قوم اب بھی نہ سنبھلی تو جان لیجئے پھر ھم کبھی بھی نہ سنبھل پائیں گے. وقت بتائیگا کہ ھم زندہ قوم بھی ہیں کہ نہیں یا ابھی تک بے حس مردار قوم بنے ھوئے ھیں یاد رکھیں زندہ زمین ہی ذرخیز ھوتی ھے بنجر زمین سے فصل نہیں اگتی، اب ان جاگیرداروں زمینداروں وڈیروں چوہدریوں خانزادوں صنعتکاروں اور تاجروں سے ریاست کی باگ چھینی ھوگی یہی سب چور ڈاکو رہزن مکار منافق ھیں اور ملک دشمنوں کے ایجنڈ اور سہولتکار بھی بنے ھوئے ھیں اوپر سے یہ بدنام کرتے ھیں ھماری عظیم فوج کو، لعنت ھو ان منافقوں غداروں لٹیروں غاضبوں رہزنوں اور قومی خذانے کے ڈاکوؤں پر۔۔۔۔۔!!



