کالم/مضامین

*عنوان: آئین و دستور کے مطابق، ریاستی امور ؟؟*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: آئین و دستور کے مطابق، ریاستی امور ؟؟*

*تحریر: جاوید صدیقی*

اس کالم میں شاید بعض الفاظ سخت محسوس ہوں، لیکن میری خواہش کسی فرد کی تضحیک نہیں بلکہ ان رویوں اور کرداروں کی نشاندہی ہے جو دین، اخلاق، آئین اور قانون کے بنیادی تقاضوں سے متصادم ہوں۔ جب اختیار، منصب اور اقتدار انسان کو جواب دہی کے بجائے بے لگام رویے کی طرف لے جائیں تو سوال اٹھانا ہر باشعور شہری کا حق ہے۔ بات پاکستان کے 1973 کے آئین سے شروع کرتے ہیں۔ آئین پاکستان میں اسلامی تشخص اور اسلامی اصولوں سے متعلق متعدد واضح دفعات موجود ہیں۔ آرٹیکل 1 پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیتا ہے اور آرٹیکل 2 اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 2A کے تحت قراردادِ مقاصد کو آئین کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا، جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف جیسے اصولوں پر زور دیا گیا ہے۔ اسی طرح آئین کا آرٹیکل 31 مسلمانوں کو اسلامی طرزِ زندگی اختیار کرنے کے لیے ریاست کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 227 یہ اصول وضع کرتا ہے کہ موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق لایا جائے اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جائے جو ان احکامات کے منافی ہو۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی آئینی نظام کا حصہ ہے جس کا مقصد قانون سازی کے اسلامی اصولوں سے متعلق رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے: اگر آئین میں اصول واضح ہیں تو عملی زندگی میں ان اصولوں کی پاسداری کہاں ہے؟ سود، بدعنوانی، جھوٹ، دھوکا، ملاوٹ، ناجائز منافع خوری، حق تلفی، اختیارات کا غلط استعمال، کمزور کے حق پر طاقتور کا قبضہ اور عوامی وسائل کی مبینہ لوٹ مار— یہ سب وہ رویے ہیں جو اسلام کے بنیادی اخلاقی اصولوں سے متصادم ہیں۔ محض عہدہ، حلف یا سیاسی اختیار کسی شخص کو ان اعمال سے بری الذمہ نہیں کرسکتا۔خصوصاً جب کوئی بااختیار شخص قانون، آئین اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرے تو اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ حکومت کا منصب استحقاق نہیں، امانت ہے؛ اقتدار ملکیت نہیں، ذمہ داری ہے؛ اور عوام رعایا نہیں بلکہ ریاست کے شہری ہیں۔ ہمیں یہ سوال بھی اٹھانا ہوگا کہ ایسے معاشی اور انتظامی فیصلے کیوں کیے جاتے ہیں جن کے اثرات بالآخر عام آدمی کے بجلی، گیس، پانی، تعلیم، علاج اور روزگار کے مسائل میں ظاہر ہوتے ہیں؟ آئی پی پیز، توانائی کے معاہدوں، قرضوں اور دیگر معاشی معاملات پر بھی جذباتی نعروں کے بجائے شفاف اعدادوشمار، معاہدوں کی تفصیلات، قانونی ذمہ داریوں اور عوام پر پڑنے والے مالی اثرات کی بنیاد پر احتساب ہونا چاہیے۔ آج عام پاکستانی مہنگائی، قرض، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے بحران سے دوچار ہے۔ اسے تقریروں سے زیادہ انصاف، شفافیت، قانون کی حکمرانی اور عملی ریلیف درکار ہے۔ قرآن و سنت کا بنیادی پیغام صرف عبادات تک محدود نہیں؛ اس میں عدل، امانت، سچائی، دیانت، حقوق العباد اور ظلم سے اجتناب بھی شامل ہے۔ لہٰذا جو شخص دین کا نام لے مگر عمل میں جھوٹ، خیانت، ناانصافی اور حق تلفی کو فروغ دے، اس کے کردار پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ لیکن احتساب کا اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ حکمران ہو یا عام شہری، سیاست دان ہو یا سرکاری افسر، صنعت کار ہو یا مذہبی رہنما— قانون سب کے لیے ایک، احتساب سب کا اور معیارِ اخلاق سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ پاکستان کسی فرد، خاندان، جماعت، طبقے یا طاقتور گروہ کی جاگیر نہیں۔ یہ ایک آئینی ریاست ہے جس کے شہریوں کو قانون، انصاف، عزت اور مساوی مواقع کا حق حاصل ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم شخصیات کے بجائے کردار کا احتساب کریں، نعروں کے بجائے عمل کو معیار بنائیں، اور اقتدار کے بجائے آئین و قانون کی بالادستی کو ترجیح دیں۔ پاکستان کے قیام کا بنیادی تصور ایک ایسی ریاست کا تھا جہاں عدل، مساوات، آزادی، انسانی وقار اور اسلامی اصولوں کے مطابق اجتماعی زندگی تشکیل پائے۔ آج ضرورت کسی طبقے کو گالی دینے کی نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید کی ہے کہ جو بھی آئین، قانون، اخلاق اور عوامی حقوق کی خلاف ورزی کرے گا، اس سے سوال ضرور ہوگا۔ بہت ہوچکا؛ اب ریاست میں شخصیات نہیں، اصول بالادست ہونے چاہئیں۔ اب آخر میں یہ بات کہتا چلوں کہ آئین و دستور کے مطابق کیا ریاستی امور چل رھے ہیں، وزیراعظم،صدر مملکت، وزراء اعلیٰ، وزراء، مشیران، اسپیکرز و ڈپٹی اسپیکرز، اور چیئرمین سینیٹ سمیت اداروں کے سربراہان و ذمہداران و عہدیداران مستقل بنیادوں پر ہر ایک خود کو پابند کئے ہوئے ھے ؟؟ اگر نہیں تو کیوں؟؟ کیا احتسابی ادارے کمزور بےبس کر دیئے گئے؟؟ کیا عدالتوں میں عدم استحکام، عدم تحفظ، عدم مساوات، عدم عدل و انصاف، عدم توازن، عدم استقلال، عدم بھائی چارہ، عدم اتحاد، عدم تنظیم اور عدم تہذیب و اخلاقیات کی گونج سنائی نہیں دے رہی یا یہ بھی بہک چکے ہیں سوال تو منصفین سے بہت زیادہ بنتا ھے اور سوالات کو ان سے بھی بنتے ہیں جو عوام کو چندے خیرات عطیات صدقات نذرانے لیتے تھکتے نہیں لیکن نظام حکومت اور نظام ریاست کے سدھار کیلئے آواز بلند نہیں کرتے۔۔۔۔ !!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You