کالم/مضامین

عنوان:دھیرے سے کچھ کہہ دیا

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:دھیرے سے کچھ کہہ دیا۔۔۔!!

لاکھوں جانوں کی قربانی ہزاروں معصوم بچیوں کی عصمت دری اور بیشمار نوازئیدہ بچوں سمیت کم عمر کے بچوں کی ہلاکتیں اور مال و دولت کی قربانی کرنے والے ہند سے پاکستان کی جانب ہجرت کرنے والے مہاجرین کا ثمر ہمیں الله تعالیٰ نے خالصتاً اسلامی نظریہ کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ پاکستان عطا کیا لیکن افسوس کہ مخلص سچے ایماندار سیاستدانوں بیوروکریٹس ججز ابتدائے دور میں نظر آئے لیکن پھر کچھ سال بعد یعنی ستر پچھہتر سالوں سے ظالموں جابروں اور لٹیرے مافیاؤں نے اس ملک کو اپنے پنجے میں جگڑا ھوا ھے۔ سیاست دان بیوروکریٹس تاجر صنعتکار اور ججز میں بھی طاقتور مافیا اپنے آب و تاب سے متحرک ہیں۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! آجکل کے حالات پر روشنی ڈالتے ھوئے میرے ایک دوست مجھ سے کہتے ہیں کہ یارہم کسی ملک رہتے ہیں یا جنگل میں رہتے ہیں۔ ہر محکمے میں چور ڈاکو لٹیرے نااہل اورجاہل اوجھٹ بھرتی ہوئے ہیں جو ملک کی ہڈیوں سے گودا تک نکال کے کھارہے ہیں اور عوام اتنی احمق بیوقوف ہےکہ پھر ان لوگوں کو منتخب کرلیتی ہے۔یہ منتخب نمائندگان اپنی مرضی کے کرپٹ ججز لگا دیتے ہیں۔ کرپٹ ججز خود کھاتے ہیں اور ان کے کھانے کو تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں یہ چوروں کا دائرہ ہے۔ انکے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے کہا کہ مجھے ریٹائرمنٹ کے بعد اسسٹنٹ سیکرٹری چاہیئے جس کا خرچہ سرکار اٹھائے گی۔ سرکار نے کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں۔ جناب نے فل کورٹ کا اجلاس بلا کے قانون بنادیا۔ مزید ہمارے دوست بتاتے ہیں کہ فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا مجھے چوبیس سو سی سی مرسڈیز چاہیئے حکومت نے کہ قانونی طور پر اٹھارہ سو سے زیادہ نہیں مل سکتی۔ اس نے فل کورٹ کا اجلاس بلایا اور قانون بدل ڈالا۔ اس کو چوبیس سو سی سی مرسڈیز مل گئی جو ریٹائرمنٹ پر وہ بازار سے *”مل”* لگوا کر ساتھ لے گیا اور یہ جو ریٹ لگتا ہے، قانونی طور پہ حکومت ان کو گاڑی دینے کی پابند ہوتی ہے کہ جو بازار سے قیمت لگے گی گاڑی اس میں ان کو مل جائے گی اور یہ کوئی چھپا راز نہیں کروڑوں کی گاڑیوں کی قیمت چند لاکھ روپےلگتی ہے۔فیڈرل شریعت کورٹ کا چیف جسٹس ریٹائرڈ ہوا تو معلوم ہوتا ہے اس کو دو جگہ سے پینشن مل رہی ہے کیونکہ یہاں لگنے سے پہلے وہ سندھ کوٹ سے ریٹائر ہوچکا تھا۔ کیس عدالت میں جاتا ہے کہ دو جگہ سے پینشن لینا غلط ہے عدالت اپنے سابقہ باس کو اسٹے آڈر دیتی ہے اب دو جگہ سے پینشن کھا رہا ہے۔ میرے دوست افتخار چوہدری کے بارے میں کہتے ہیں کہ افتخار چوہدری ریٹائرمنٹ پر ویسے ہی چوبیس سو سی سی ساتھ لے گیا۔ حکومت عدالت میں گئی اور مقدمہ کیا کہ گاڑی واپس نہیں کررہا۔ اس کو عدالت نے اسٹے دے دیا گاڑی اسی کے پاس ہے۔ ہر عدالت کی اور ہر دوسرے جج کی یہی کہانی ہے۔اب آپ ان میں سے کسی ریٹائرڈ جج کو ٹی وی چینل پر بطور ماہر ملک کے حالات پر تبصرے کیلئے طلب کیجئے اور انکےخیالات عالیہ سے مستفید ہوں۔ بڑے سیانے ہو کر کہہ رہے ہوں گے کہ جی اس ملک کو مولوی نے تباہ کیا اس ملک میں مدرسے نہیں ہونے چاہیئے، اس ملک کو انتہا پسندی نے برباد کیا۔ظالموں تم اس ملک کا خون تک پی گئے ہو تم نے اس ملک کو برباد کیا،کرپشن کے محافظ تم ہو، ہر جرم تمہاری کرسی کے نیچے پلتا ہے اور پڑھوان چڑھتا ھے، ہر مجرم کو تم ریلیف دیتے ہو۔۔۔ معزز قارئین!! اپنے دوست کی ان باتوں سے میں سمجھا ھوں کہ جب سپریم کورٹس کے معزز جج صاحبان قومی خذانے کا بے دریغ استعمال جائز بنادیتے ہیں تو ہائی کورٹ پھر سٹی اور ششن کورٹ کا تو الله ہی حافظ۔ بتانے والوں نے یہ بتایا کہ اس ملک میں انصاف تو نہیں ملتا البتہ موت مل جاتی ھے ہاں یہاں دولت کے بلبوتے پر اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جاسکتے ہیں بس جیسا کیس ویسا حساب۔ سب بکواس ھے اس ملک کے مختیاران بھیڑیئے ہیں بھیڑیوں سے توقع کرتے ھو کہ وہ انسانی گوشت نہ گھائیں یا تو انسانوں (عوام) کو مار دو یا پھر بھیڑیوں کا مکمل خاتمہ (خونی انقلاب) کردو بصورت پاکستان دھیرے دھیرے اخلاقی و دینی طور پر تباہ ھوتا رہیگا۔۔۔!!!

کالمکار: جاوید صدیقی

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You