کالم/مضامین

*حق ٹی وی کا لائسنس، مبینہ فروخت اور انصاف کی تلاش*

*حق ٹی وی کا لائسنس، مبینہ فروخت اور انصاف کی تلاش*

*تحریر و بیان: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی*

سنہ 2005ء میں ریاض جاوید اقبال صدیقی المعروف جاوید صدیقی مذہبی سیٹلائٹ چینل حق ٹی وی کے وائس پریزیڈینٹ رہے اور چینل کے لائسنس کے حصول کے عمل میں بطور لائسنس ہولڈر شریک تھے۔ ان کے مطابق، سیٹلائٹ چینل کے لائسنس کے حصول کے لیے انہیں مختلف پاکستانی تحقیقاتی، سکیورٹی اور انتظامی اداروں، بشمول آئی ایس آئی، ایم آئی، ایف آئی اے، آئی بی، ایف بی آر، پولیس اور پیمرا کی متعلقہ ٹیموں کے سامنے انٹرویوز اور جانچ پڑتال کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تمام مراحل میں کامیابی کے بعد پیمرا سے حق ٹی وی کا لائسنس حاصل ہوا، جس کا عمل گلیکسی کمپنی کے پلیٹ فارم سے مکمل کیا گیا۔ جاوید صدیقی کے بیان کے مطابق، حاجی حنیف گلیسی کی صاحبزادی بھی لائسنس میں شریک تھیں، تاہم وہ مذکورہ انٹرویوز کے مراحل سے نہیں گزریں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج بھی لائسنس پر دونوں کے نام درج ہیں۔ جاوید صدیقی کا مؤقف ہے کہ لائسنس حاصل ہونے کے چند ماہ یا ایک سال بعد حاجی حنیف گلیسی نے حق ٹی وی کی نشریات بند کرکے چینل فروخت کردیا، جس کے بارے میں انہیں نہ تو پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ ہی ان کے بقول انہیں کوئی مالی حصہ یا فائدہ دیا گیا۔ ان کے بیان کے مطابق، چینل کی فروخت 92 نیوز کے مالکان کو کی گئی۔ جاوید صدیقی مزید دعویٰ کرتے ہیں کہ فروخت سے قبل حاجی حنیف گلیسی نے ان سے بھاری سرمایہ کاری کا ذکر کیا اور مبینہ طور پر یہ بھی کہا کہ رقم امریکہ سے منی لانڈرنگ کے ذریعے چینل کے توسط سے منگوائی گئی تھی۔ جاوید صدیقی کے مطابق، حاجی حنیف گلیسی نے کاروباری نقصان قبول نہ کرنے اور اداروں کے بارے میں بھی ایک ایسا بیان دیا جسے جاوید صدیقی نے اپنے لیے تشویش ناک قرار دیا۔ ان سنگین مالی الزامات کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ دستاویزات اور مجاز اداروں کی تحقیقات ضروری ہیں۔ جاوید صدیقی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کے ازالے کے لیے 50 کڑور لا مطالبہ دونوں مالکان سے مسترکہ طلب کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، سابق وزیراعظم عمران خان اور دیگر اعلیٰ حکام کو خطوط کے ذریعے آگاہ کیا اور انصاف کی اپیل کی۔ تاہم، ان کے بقول، انہیں اب تک وہ انصاف نہیں مل سکا جس کے وہ خود کو مستحق سمجھتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں حق ٹی وی کی سابق انتظامیہ اور 92 نیوز کے مالکان کی جانب سے بھی ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب اقدام نہیں کیا گیا۔ جاوید صدیقی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے حق کے حصول کے لیے متعلقہ حکام کے سامنے آواز اٹھائی، مگر جب انہیں دنیا میں انصاف ملنے کی امید باقی نہ رہی تو انہوں نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا۔ ان کے بقول، وہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کی عدالت میں اپنے حق اور انصاف کا مطالبہ کریں گے، کیونکہ ان کے نزدیک دنیا کی عدالتوں سے محرومی کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You