اہم خبریںسائنس اور ٹیکنالوجی

جب ہم کائنات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ہر طرف کہکشائیں، ستارے، سیارے، شہابیے وغیرہ

جب ہم کائنات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ہر طرف کہکشائیں، ستارے، سیارے، شہابیے وغیرہ نظر آتے ہیں-

اگر ہم ان سب اجسام کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں ہر مادی چیز کچھ بنیادی پارٹیکلز سے مل کر بنی ہے- یہ پارٹیکلز اس قدر چھوٹے ہیں کہ انہیں دنیا کہ بہترین خوردبین سے بھی نہیں دیکھا جا سکتا-

سنہ 1896 میں پہلا بنیادی پارٹیکل الیکٹران دریافت کیا گیا- آج ہم دو سو سے زیادہ سب اٹامک پارٹیکلز کے بارے میں جانتے ہیں- ان میں سب سے آخر میں جو پارٹیکل دریافت ہوا اس کا نام ہگز بوزون ہے- اس پارٹیکل کو دریافت کرنے پر 14 ارب ڈالر صرف ہوئے- اسے عام میڈیا میں گاڈ پارٹیکل کا نام دیا گیا جس کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں اس پارٹیکل کے بارے میں بہت سے غیر ضروری شہبات پیدا ہونے لگے ہیں اور سائنس سے لاعلم کچھ حضرات اس پارٹیکل کا ناطہ مذہبی تصورات سے جوڑنے لگے ہیں- تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ہگز بوزون کیا ہے-

بنیادی فورسز اور ان کے ذرات:
کائنات میں چار بنیادی فورسز ہیں جو ایک ایٹم سے لے کر کہکشاؤں کے کلسٹرز تک کائنات کی ہر چیز کی توجیہہ پیش کرتی ہیں-
1۔ کشش ثقل جو شمسی سیاروں کو سورج کے گرد گھومنے پر مجبور کرتی ہے۔ کشش ثقل کا بنیادی ذرہ مفروضاتی ہے جسے گریویٹان کہا جاتا ہے- یہ ذرہ فی الحال دریافت نہیں ہو پایا
2- برقی مقناطیسی قوت جو الیکٹریکل چارج کے آپسی تعاملات متعین کرتی ہے- اس کا بنیادی ذرہ فوٹان ہے-
3- ویک فورس (Weak force) جو ایٹموں کی تابکاری کا باعث بنتی ہے- اس کے بنیادی ذرات W اور Z بوزون ہیں
4- سٹرانگ فورس (Strong force) جو ایٹم کے مرکزے میں پروٹانز کو اکٹھا رکھتی ہے- اس کا بنیادی ذرہ گلووون (gluon) ہے
فزکس کا بنیادی نظریہ جو ان تمام ذرات کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے اسے فزکس کا سٹینڈرڈ ماڈل کہا جاتا ہے-
ہگز فیلڈ:
1960 کی دہائی میں فزکس کو ایک اہم مسئلے کا سامنا تھا جس کا حل ہمارے پاس نہیں تھا، اور وہ مسئلہ یہ تھا کہ بنیادی پارٹیکلز کا ماس کیونکر بنتا ہے- اس مسئلے کا حل پیٹر ہگز اور پانچ دوسرے سائنس دانوں نے پیش گیا- ان کے مفروضے کے مطابق کائنات میں ہر جگہ ایک فیلڈ موجود ہے جسے ہگز فیلڈ کہا جاتا ہے-
اس فیلڈ کی مثال آپ یوں سمجھیے: فرض کیجیے کہ آپ ایک سڑک پر چل رہے ہیں- آپ آسانی سے ادھر ادھر پھر سکتے ہیں اور آپ کو ایسا کرنے میں کوئی مزاحمت محسوس نہیں ہوتی- اب آپ تصور کیجیے کہ آپ کسی گہرے تالاب یعنی سوئمنگ پول میں پیدل چل رہے ہیں- آپ کو کیا محسوس ہو گا؟ آپ کو اپنے جسم پر پانی کی مزاحمت محسوس ہو گی جس کی وجہ سے آپ کے چلنے کی رفتار بہت کم ہو جائے گی-
ہگز فیلڈ بھی بنیادی پارٹیکلز کی حرکت کے خلاف اسی طرح مزاحمت پیش کرتا ہے- جب کچھ بنیادی ذرات ہگز فیلڈ کی موجودگی میں حرکت کرتے ہیں تو ہگز فیلڈ کی مزاحمت کی وجہ سے ان کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور انہیں حرکت کے لیے قوت صرف کرنا پڑتی ہے- کسی بھی ذرے کا ہگز فیلڈ سے تعامل جس قدر زیادہ ہوتا ہے اسی قدر اسے زیادہ مزاحمت محسوس ہوتی ہے- اس مزاحمت کو ہم اس پارٹیکل کے ماس کے طور پر محسوس کرتے ہیں- کچھ بنیادی ذرات مثلاً فوٹانز اس فیلڈ کے ساتھ بالکل تعامل نہیں کرتے اس لیے ان کا ماس صفر ہوتا ہے-
ہگز بوزون:
کوانٹم فزکس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر کائنات میں کوئی فیلڈ موجود ہے تو اس فیلڈ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یعنی ایکسائٹیشن کوانٹائزڈ ہو گی اور اس سے منسلک کوئی بنیادی ذرہ ہو گا- ہگز فیلڈ کی ایکسائیٹیشن کے ساتھ بھی ایک بنیادی ذرہ منسلک ہے جسے ہگز بوزون کہا جاتا ہے-
اس کی مثال ہم یوں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں- فرض کیجیے آپ کے پاس پانی سے بھرا ایک گلاس ہے- اس گلاس میں پانی ساکن ہے- اگر آپ اس گلاس میں تیزی سے برف کا ایک ٹکڑا ڈالیں تو کیا ہو گا؟ پانی چھلکنے لگے گا- اسی طرح اگر ہگز فیلڈ میں باہر سے انرجی داخل کی جائے تو اس انرجی سے ہگز فیلڈ بھی چھلکنے لگتا ہے- ہگز فیلڈ میں اس چھلکنے کے مظہر کو ہگز بوزون کہا جاتا ہے-
ہگز فیلڈ میں اس قدر توانائی پیدا کرنا آسان نہیں ہے جس سے ہگز بوزون پیدا ہوں- ہمیں ہگز بوزون کو دریافت کرنے میں پچاس برس لگے اور یہ سٹینڈرڈ ماڈل کا آخری ذرہ تھا جو 2012 تک دریافت نہیں ہو پایا تھا-
گاڈ پارٹیکل؟
کچھ لوگ ہگز فیلڈ کو گاڈ پارٹیکل بھی کہتے ہیں- جانتے ہیں کیوں؟ نوبیل انعام یافتہ فزسسٹ لیون لیڈرمین کئی دہائیوں تک ہگز بوزون کی تلاش کرتے رہے لیکن ناکام رہے- انہوں نے ریٹائر ہونے کے بعد ہگز بوزون کی تلاش کی اپنی کوششوں پر ایک کتاب لکھی جس کا نام The God particle رکھا- اس کتاب کے دیباچے میں انہوں نے لکھا کہ وہ اپنی کتاب کا نام The Goddamn Particle رکھنا چاہتے تھے کیونکہ اس ذرے نے انہیں کئی دہائیوں تک مایوس کیے رکھا اور ان کی تمام عمر کی محنت اکارت گئی- وہ ریٹائر ہونے تک ہگز بوزون کو دریافت نہیں کر پائے- لیکن کتاب کے پبلشر نے کہا کہ یہ لفظ کچھ معیوب ہے اور سائنس کی کتاب کے لیے مناسب نہیں ہے- اس لیے انہوں نے کتاب کا نام بدل کر The God Particle رکھ دیا- اس طرح ہگز بوزون کا نام پاپولر میڈیا میں گاڈ پارٹیکل پڑ گیا- چنانچہ جب 2012 میں ہگز بوزون دریافت ہوا تو کئی اخباروں کی سرخیاں تھیں ‘گاڈ پارٹیکل کو دریافت کر لیا گیا’- لیکن ہگز بوزون کا کسی مذہبی تصور سے کوئی تعلق نہیں ہے-
کچھ لوگ شاید یہ سمجھتے ہوں کہ پارٹیکل فزکس کا مقصد صرف ہگز بوزون کو دریافت کرنا تھا- لیکن ہگز بوزون کی دریافت فزکس کی تاریخ میں ایک نیا باب ہے جس سے کئی نئی دریافتوں کا راستہ ہموار ہو گیا ہے- اب تک سوئٹزرلینڈ کی لیبارٹری لارج ہیڈران کولائیڈر LHC میں ہگز بوزون کے کئی نئے تعاملات دریافت ہو چکے ہیں اور مستقبل میں جب LHC کی طاقت مزید بڑھائی جائے گی تو اس کولائیڈر سے ہگز فیلڈ سے متعلق مزید نئی دریافتیں متوقع ہیں

ہگز بوزون
ترجمہ و تلخیص: قدیر قریشی

Video by
The Secrets Of The Universe

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You