پنجاب

اسلام آباد (سٹی رپورٹر) راولپنڈی میں قتل ہونے والی شادی شدہ خاتون حنا جاوید کے اہلخانہ نے وزیراعظم

حنا جاوید قتل کیس: اہلخانہ کا خصوصی جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

اسلام آباد (سٹی رپورٹر) راولپنڈی میں قتل ہونے والی شادی شدہ خاتون حنا جاوید کے اہلخانہ نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے خصوصی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے، جبکہ ڈی این اے اور فرانزک رپورٹس بھی اہلخانہ کے ساتھ شیئر کی جائیں۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقتولہ کےبھائی فہد جاوید نے کہا کہ حنا جاوید کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا، وہ ناقابلِ بیان ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ ان کی بہن نے آخری لمحات میں کتنی اذیت برداشت کی ہوگی۔فہد جاوید نے الزام عائد کیا کہ وہ واقعے کے بعد غم سے نڈھال تھے جبکہ مقتولہ کا شوہر فیصل اصغر، اس کے والد اورانکے ملازم کا رویہ غیر معمولی طور پر پرسکون تھا۔ ان کے پوچھنے پر انہیں بتایا گیا کہ دو چور آئے تھے جنہوں نے حنا کو قتل کر دیا، تاہم انہیں اس بیان پر شبہ ہوا اور انہوں نے اسے ڈرامہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں فیصل اور ذیشان سمیت تین افراد کے نام شامل ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حنا جاوید کے اپنی بہن نازیہ کے ساتھ واٹس ایپ پیغامات جن میں انہوں نے فیصل کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا ذکر کیا تھا، ڈیلیٹ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق فیصل کے لیپ ٹاپ اور موبائل فون کا فرانزک تجزیہ بھی تاحال نہیں کرایا گیا۔فہد جاوید نے کہا کہ اہلخانہ ہائی لیول میٹنگ کی سفارشات کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ کیس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے خصوصی جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ انہوں نے ڈی این اے رپورٹ اور فرانزک تحقیقات کے نتائج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک تجزیہ یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔اہلخانہ نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ انہیں انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور قتل کے واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You