کالم/مضامین

تربیتِ اولاد: محبت، شفقت اور ذمہ داری کا اسلامی تصور قرآن و سنت کی روشنی میں والدین کے فرائض

تربیتِ اولاد: محبت، شفقت اور ذمہ داری کا اسلامی تصور قرآن و سنت کی روشنی میں والدین کے فرائض اور بچوں کے حقوق

تحریر: سعد محمد مدنی
فاضل مدینہ یونیورسٹی ، سعودیہ عرب

اولاد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور والدین کے سپرد ایک اہم امانت ہے۔ اس امانت کی حفاظت صرف بچوں کی خوراک، لباس، رہائش اور تعلیم کا انتظام کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ان کی دینی، اخلاقی، فکری اور عملی تربیت بھی والدین کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ایک صالح معاشرے کی تعمیر کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، اور گھر کی اصلاح کا سب سے مؤثر ذریعہ بچوں کی صحیح تربیت ہے۔ اگر والدین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اولاد کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں تو یہی بچے مستقبل میں خاندان، معاشرے اور امت کے لیے سرمایۂ افتخار بن سکتے ہیں۔

اسلام نے تربیتِ اولاد کو محض ایک معاشرتی ضرورت نہیں، بلکہ ایک دینی فریضہ قرار دیا ہے۔ قرآن و سنت میں والدین کو اس ذمہ داری کی طرف بار بار متوجہ کیا گیا ہے، تاکہ وہ اپنی اولاد کے دنیاوی مستقبل کے ساتھ ساتھ ان کی آخرت کی کامیابی کی فکر بھی کریں۔

اولاد کی تربیت: قرآنِ مجید کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس پر سخت مزاج، طاقتور فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔‘‘
سورۃ التحریم، آیت 6۔

یہ آیتِ مبارکہ والدین اور خاندان کے ذمہ دار افراد کو ایک بنیادی حقیقت سمجھاتی ہے کہ جس طرح وہ اپنے اہل و عیال کی دنیاوی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں، اسی طرح انہیں اپنے گھر والوں کے ایمان، عبادات اور اخلاق کی اصلاح کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ اولاد کو نماز کی پابندی، سچائی، امانت داری، حسنِ اخلاق اور حقوق العباد کی تعلیم دینا اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ اپنے گھر والوں کو تعلیم دو اور ان کی تربیت کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل و عیال کی اصلاح صرف زبانی نصیحت سے نہیں، بلکہ علم سکھانے، عملی رہنمائی کرنے اور اپنے کردار سے اچھا نمونہ پیش کرنے سے ہوتی ہے۔

حضرت لقمان علیہ السلام کی پہلی نصیحت: عقیدے کی اصلاح

قرآنِ مجید میں حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحت کا ذکر نہایت حکمت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ: ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘
سورۃ لقمان، آیت 13۔

غور کیجیے کہ حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو سب سے پہلے عقیدے کی اصلاح کی نصیحت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تربیتِ اولاد کی بنیاد صحیح ایمان اور توحید پر ہونی چاہیے۔ والدین بچوں کو دنیاوی علوم اور جدید مہارتوں سے ضرور آراستہ کریں، لیکن انہیں اپنے خالق کی معرفت، عبادت اور دینی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہونے دیں۔

اس آیت میں ’’اے میرے پیارے بیٹے‘‘ کے الفاظ بھی قابلِ توجہ ہیں۔ ان سے یہ تربیتی رہنمائی ملتی ہے کہ بچوں کو سمجھاتے وقت محبت، شفقت اور خیرخواہی کا انداز اختیار کرنا چاہیے۔ سخت لہجے اور تحقیر کے بجائے ایسا رویہ اپنانا چاہیے جس سے بچے نصیحت کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوں۔

ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی فطری حالت اور والدین کے تربیتی کردار کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

ترجمہ: ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی بنا دیتے ہیں، یا عیسائی بنا دیتے ہیں، یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔‘‘ صحیح البخاری، صحیح مسلم،

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کی شخصیت اور طرزِ زندگی کی تشکیل میں والدین اور ماحول کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ ہے اور والدین اس کے پہلے معلم ہیں۔ بچہ اپنے والدین کے اقوال سے زیادہ ان کے اعمال سے سیکھتا ہے۔ اگر گھر میں نماز، سچائی، احترام، برداشت اور دیانت داری کا ماحول ہو تو بچے کے لیے ان خوبیوں کو اپنانا آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر والدین خود جھوٹ، بدزبانی، ناانصافی اور بے عملی کا مظاہرہ کریں تو ان کی نصیحت کا اثر کمزور پڑ جاتا ہے۔

لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو صرف اچھا بننے کی تلقین نہ کریں، بلکہ خود بھی اچھے کردار کا عملی نمونہ بنیں۔

بچوں سے محبت اور شفقت: سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

اسلامی تربیت کا ایک اہم اصول بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا معاملہ کرنا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیا۔ اس وقت اقرع بن حابس تمیمی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے دس بچے ہیں، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی بوسہ نہیں دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ترجمہ: ’’جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘

صحیح البخاری، صحیح مسلم،

یہ حدیث والدین کے لیے ایک اہم سبق رکھتی ہے کہ بچوں سے محبت کا اظہار کمزوری نہیں، بلکہ رحمدلی اور حسنِ اخلاق کی علامت ہے۔ بچے کو پیار دینا، اس کی بات سننا، اس کی جائز ضروریات کا خیال رکھنا اور غلطی پر حکمت کے ساتھ سمجھانا اچھی تربیت کے بنیادی اجزا ہیں۔

بعض والدین یہ سمجھتے ہیں کہ سختی ہی تربیت کا مؤثر ذریعہ ہے، لیکن اسلامی تعلیمات ہمیں شفقت اور حکمت کا راستہ دکھاتی ہیں۔ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کی ہر غلط بات قبول کرلی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصلاح کرتے ہوئے بھی اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جائے۔

بچوں کے حقوق اور ان کی عزتِ نفس

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ میں بچوں کے حقوق کے احترام کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا۔ آپ کے دائیں جانب ایک کم عمر لڑکا اور بائیں جانب عمر رسیدہ لوگ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے اجازت طلب فرمائی کہ کیا وہ مشروب پہلے بزرگوں کو دے سکتے ہیں؟ لڑکے نے عرض کیا کہ وہ آپ سے ملنے والے اپنے حصے پر کسی کو ترجیح نہیں دینا چاہتا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کا حصہ عطا فرمایا۔

صحیح البخاری، صحیح مسلم،

یہ واقعہ بچوں کی عزتِ نفس اور ان کے حقوق کے احترام کا روشن نمونہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کی موجودگی اور اس کے حق کو اہمیت دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کو کم عمر ہونے کی وجہ سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اسے اپنی بات کہنے کا موقع دینا، اس کے جائز حقوق کا خیال رکھنا اور اس کے ساتھ انصاف کرنا والدین اور تربیت کرنے والوں کی ذمہ داری ہے۔

تاہم اس واقعے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صورت میں بچوں کو بزرگوں پر ترجیح دی جائے، بلکہ اس موقع پر دائیں جانب بیٹھے شخص کے حق اور مجلس کے آداب کا لحاظ رکھا گیا۔ اسلام ہمیں بچوں سے شفقت اور بزرگوں سے احترام، دونوں کی تعلیم دیتا ہے۔

اولاد کے درمیان عدل و انصاف

بچوں کی تربیت میں عدل و انصاف بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ والدین کی جانب سے بچوں کے درمیان بلاوجہ امتیازی سلوک ان کے دلوں میں محرومی، حسد اور باہمی دوری پیدا کرسکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں واضح ہدایت فرمائی۔

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ترجمہ: ’’اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔‘‘

صحیح البخاری، صحیح مسلم،

یہ حدیث والدین کو متوجہ کرتی ہے کہ وہ اولاد کے ساتھ معاملات میں انصاف کو ملحوظ رکھیں۔ کسی ایک بچے کو بلاوجہ ترجیح دینا اور دوسرے کو محروم رکھنا درست نہیں۔ محبت کا اظہار، توجہ، تحائف اور دیگر معاملات میں عدل کا خیال رکھنا چاہیے۔

البتہ بچوں کی ضروریات اور حالات مختلف ہوسکتے ہیں۔ کسی بیمار بچے کی اضافی دیکھ بھال یا کسی ضرورت مند بچے کی زیادہ مالی مدد کرنا لازماً ناانصافی نہیں، بشرطیکہ اس کی معقول وجہ موجود ہو۔ اصل مقصد ہر بچے کے جائز حق کا تحفظ اور ناانصافی سے اجتناب ہے۔

والدین اپنی اولاد کے بارے میں جواب دہ ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ذمہ دار شخص کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا:

ترجمہ: ’’خبردار! تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘

صحیح البخاری، صحیح مسلم ۔

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اولاد کی تربیت والدین کی مشترکہ اور اہم ذمہ داری ہے۔ باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے اہل و عیال کی ضروریات، تعلیم اور اخلاقی و دینی رہنمائی کا خیال رکھے۔ اسی طرح ماں بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دونوں کو باہمی تعاون کے ساتھ ایسا ماحول قائم کرنا چاہیے جہاں بچوں کو محبت بھی ملے اور صحیح و غلط کی پہچان بھی حاصل ہو۔

والدین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق صحیح تعلیم و تربیت اور رہنمائی فراہم کریں۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، لیکن اپنی ذمہ داریوں سے غفلت پر انسان جواب دہ ہوسکتا ہے۔

نماز کی عادت: بچپن ہی سے تربیت

اسلام نے بچوں کو عبادات کی تعلیم دینے پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ترجمہ: ’’اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو، اور دس سال کی عمر میں نماز کے معاملے میں تادیبی اقدام کرو، اور ان کے بستروں کو الگ کردو۔‘‘

سنن ابی داؤد ۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کو نماز کی تعلیم اور اس کی عادت ڈالنے کا آغاز کم عمری ہی سے ہونا چاہیے۔ وضو سکھانا، نماز کے طریقے سے آگاہ کرنا، والدین کے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دینا اور عبادت کی اہمیت سمجھانا تربیت کا حصہ ہے۔

حدیث میں تادیب کا ذکر ہے، لیکن اسے ظلم، تشدد، زخمی کرنے یا بچے کی تذلیل کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ تربیت میں حکمت، نرمی، مناسب حدود اور بچے کی بھلائی کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔ والدین خود نماز کے پابند ہوں تو ان کا عملی نمونہ بچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

والدین کے لیے چند عملی رہنما اصول

قرآن و سنت کی ان تعلیمات کی روشنی میں والدین کو چاہیے کہ وہ:

1. اپنے کردار کی اصلاح کریں: بچوں سے سچائی، دیانت داری اور اچھے اخلاق کی توقع رکھنے سے پہلے خود ان خوبیوں کو اپنائیں۔
2. دینی تعلیم کا اہتمام کریں: بچوں کو قرآنِ مجید، نماز، بنیادی عقائد اور اسلامی آداب سکھائیں۔
3. محبت اور شفقت سے پیش آئیں: بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور انہیں اپنی محبت کا احساس دلائیں۔
4. عدل و انصاف قائم کریں: بچوں کے درمیان بلاوجہ امتیازی سلوک نہ کریں اور ان کی ضروریات کا منصفانہ خیال رکھیں۔
5. اصلاح میں حکمت اختیار کریں: غلطی پر بچے کو ذلیل کرنے کے بجائے سمجھائیں، رہنمائی کریں اور اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔
6. اچھے ماحول کا انتظام کریں: گھر میں نماز، مطالعے، باہمی احترام اور حسنِ اخلاق کا ماحول قائم کریں۔
7. دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کریں: بچوں کی دنیاوی تعلیم اور مستقبل کے ساتھ ان کے ایمان، اخلاق اور آخرت کی کامیابی کو بھی اہمیت دیں۔

اختتامیہ

تربیتِ اولاد ایک مسلسل عمل ہے جس میں محبت، شفقت، عدل، دینی تعلیم اور عملی نمونے کی بنیادی اہمیت ہے۔ صرف نصیحت کرنا کافی نہیں، بلکہ بچوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا ضروری ہے جو انہیں نیکی کی طرف راغب کرے اور ان کی شخصیت کو متوازن بنائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ بچے کے جذبات، حقوق اور عزتِ نفس کا احترام کیا جائے۔ قرآنِ مجید ہمیں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی اصلاح کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے، جبکہ احادیثِ مبارکہ والدین کو محبت، انصاف اور جواب دہی کا احساس دلاتی ہیں۔

آج ہمارے معاشرے کو ایسی تربیت کی ضرورت ہے جس میں بچوں کو جدید تعلیم کے ساتھ دینی شعور، اخلاقی پختگی، برداشت، دیانت داری اور دوسروں کے حقوق کا احترام بھی سکھایا جائے۔ اس مقصد کے لیے والدین، اساتذہ اور معاشرے کے دیگر ذمہ دار افراد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

یاد رکھیے! بچوں کو بہترین مستقبل دینے کا مطلب صرف ان کے لیے مال و دولت جمع کرنا نہیں، بلکہ انہیں ایسا انسان بنانا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرے، والدین کا احترام کرے، معاشرے کے لیے مفید ثابت ہو اور دوسروں کے ساتھ عدل و رحمت کا معاملہ کرے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور انہیں نیک، صالح اور بااخلاق انسان بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You