راولپنڈی (افتخار خٹک) سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ عمران قریشی نے 12 سالہ گھریلو ملازمہ

راولپنڈی (افتخار خٹک) سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ عمران قریشی نے 12 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتارنے کے مقدمہ میں نامزد ملزم کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے مزید 4 یوم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے تھانہ بنی پولیس کے حوالے کردیا ہے جبکہ ملزم کی اہلیہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے گزشتہ روز تھانہ بنی پولیس نے مقدمہ میں نامزد گھر کے مالک راشد شفیق اور اس کی اہلیہ ثناء راشد کو مجموعی طور پر 8 روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کرتے ہوئے راشد شفیق کے مزید 5 یوم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تفتیشی افسر سب انسپکٹر زاہد اقبال کا موقف تھا کہ اگرچہ تحقیقات تقریباً مکمل ہوچکی اور پائپ کی صورت آلہ تشدد/قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے تاہم راشد شفیق شفیق کے ڈی این اے میچنگ کے لئے اسے فرانزک لیب لاہور لے کر جانا ہے جس کے لئے مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے لہٰذا ملزم کا 5 روز کا مزید جسمانی ریمانڈ جاری کیا جائے جبکہ ملزم کی اہلیہ ثنا شفیق سے متعلق تفتیشی افسر کا موقف تھا کہ چونکہ ملزمہ سے تفتیش مکمل ہوچکی ہے لہٰذا ملزمہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا جائے عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد راشد شفیق کو مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایک بار پھر پولیس کے حوالے کردیا ہے عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ ملزم کو 25 فروری کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے عدالت نے ملزم کی اہلیہ ثنا شفیق کو 14 یوم کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ 7 مارچ کو دوبارہ ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا جائے یاد رہے کہ تھانہ بنی پولیس نے 11 فروری کو گھر کے مالک راشد شفیق ، اس کی اہلیہ ثناء راشد اور دوسری ملازمہ روبینہ کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 302/34، 328 اے اور 342 کے تحت مقدمہ نمبر 204 درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ انہوں نے 12 سالہ گھریلو ملازمہ اقرا پر بہیمانہ تشدد کیا جس سے اس کی حالت تشویشناک ہو گئی جو بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی۔




