سندھ

*این ایف سی ایوارڈ کثیر بنیادوں پر دیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ اور اقوام متحدہ وفد میں اتفاق*

*این ایف سی ایوارڈ کثیر بنیادوں پر دیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ اور اقوام متحدہ وفد میں اتفاق*

*ہم 2008 سے سیلز ٹیکس کی وصولی کا اختیار صوبوں کو دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، مراد علی شاہ*

*صوبوں کو ٹیکس وصولی کا اختیار دینے سے وصولی میں اضافہ ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادیاتی سرگرمیاں (یو این ایف پی اے) کے ملکی نمائندے ڈاکٹر لوئے شبانے کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران اس بات سے اتفاق کیا کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے فارمولے میں آمدنی میں تفاوت، آبادیاتی کارکردگی، انسانی ترقی، ٹیکس شرح اور جنگلات کے رقبے جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جانا چاہئے۔ یہ ملاقات گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوئی، جس میں وزیر صحت و آبادی ڈاکٹر عذار فضل پیچوہو، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ اور سیکریٹری آبادی حافظ اللہ عباسی نے شرکت کی، یو این ایف پی اے کی ٹیم میں ڈی جی نسٹ ڈاکٹر اشفاق خان، سربراہ یو این ایف پی اے سندھ مقدر اور پروگرام اینالسٹ رینوکا سوامی نے شرکت کی۔ مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ کیجانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر وزیراعلیٰ اور یو این ایف پی اے کے وفد نے این ایف سی ایوارڈ کا تجزیہ کیا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت پہلی بار وسائل کی تقسیم کیلئے متعدد معیارات اپنائے گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سنہ دو ہزار آٹھ سے پاکستان پیپلز پارٹی صوبوں کو سیلز ٹیکس کی وصولی کا مکمل اختیار دینے کی حمایت کررہی ہے تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جاسکے۔ مراد علی شاہ نے وضاحت کی کہ صوبے عوام کے قریب ہوتے ہیں جسکی وجہ سے وہ ٹیکس وصولی میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں نوے فیصد ٹیکس وفاقی سطح پر جمع کیا جاتا ہے جبکہ صوبے صرف دس فیصد ٹیکس خود وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ” یہ انحصار صوبوں کو وفاقی فنڈز کا محتاج بناتا ہے "۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صوبوں کو مکمل مالی خودمختاری دینے سے نہ صرف ٹیکس وصولی میں بہتری آئیگی بلکہ وسائل کی زیادہ مؤثر تقسیم بھی یقینی بنائی جاسکے گی۔ ڈائریکٹر جنرل نسٹ انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز ڈاکٹر اشفاق خان نے ایک جامع جائزہ پیش کیا جس میں این ایف سی کی تاریخی ارتقا، موجودہ مالیاتی عدم توازن اور محصولات کی تقسیم کیلئے اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایک آئینی ادارہ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ٹیکس ریونیو کی تقسیم کا ذمہ دار ہے۔ آئین کے تحت این ایف سی ہر پانچ سال بعد تشکیل دیا جاتا ہے تاکہ مالیاتی وسائل کی تقسیم کیلئے ایک مناسب طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔ پاکستان میں محصولات کی تقسیم کا فریم ورک سنہ انیس سو پینتیس عیسوی کے نیومائر ایوارڈ سے جڑا ہوا ہے جسے آزادی کے بعد سنہ انیس سو سینتالیس عیسوی میں ترمیم کیساتھ اپنایا گیا۔ پہلا باضابطہ این ایف سی ایوارڈ سنہ انیس سو اکیاون عیسوی میں وزیر اعظم لیاقت علی خان نے متعارف کرایا جو ریزمن ایوارڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بعد میں کئی ایوارڈز متعارف کرائے گئے لیکن ابتدائی ایوارڈز (سنہ انیس سو اکسٹھ، سنہ انیس سو چونسٹھ، سنہ انیس سو اکہتر عیسوی) کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ سنہ انیس سو اکہتر عیسوی کے بعد ایک نمایاں تبدیلی اس وقت آئی جب آبادی کو وسائل کی تقسیم کیلئے بنیادی عنصر بنایا گیا۔ یہ رجحان ساتویں این ایف سی ایوارڈ تک برقرار رہا جس میں پہلی بار متعدد معیارات کو شامل کیا گیا۔ جائزے میں مردم شماری کا تفصیلی تجزیہ شامل تھا جس میں آبادی میں نمایاں اضافے کے رجحانات اور انکے مالیاتی منصوبہ بندی پر اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ پاکستان کی آبادی سنہ انیس سو اکیاون عیسوی میں تین کروڑ سینتیس لاکھ سے بڑھ کر سنہ دو ہزار تیئس عیسوی میں چوبیس کروڑ پندرہ لاکھ تک پہنچ گئی جو ایک متوازن اور ترقی پر مبنی این ایف سی فارمولے کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔ ڈاکٹر اشفاق خان نے پالیسی سازوں کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کے منفرد چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی طریقوں کو مدنظر رکھیں۔ مالی سال سنہ دو ہزار تیئس ۔ چوبیس عیسوی کے دوران پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) تین سو پچھہتر ارب ڈالر رہی جبکہ فی کس آمدنی ایک ہزار پانچ سو باون ڈالر رہی، تاہم اگر پاکستان کی آبادی کم ہوتی تو معیشت کی صورتحال نمایاں طور پر مختلف ہوتی۔ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا اقتصادی کارکردگی پر براہ راست اثر پڑا ہے۔
ملاقات میں بین الاقوامی تجربات پر بحث کی گئی جسمیں کئی اہم اسباق موجود ہیں، بھارت کے مالیاتی انتظام کا ماڈل متعلقہ معیارات پیش کرتا ہے۔ جائزے میں بتایا گیا کہ بھارتی فنانس کمیشن خود مختار طور پر کام کرتا ہے جہاں قیادت سیاستدانوں کی بجائے ماہرین معاشیات کے پاس ہوتی ہے۔ کمیشن میں تمام ریاستوں کی نمائندگی نہیں ہوتی بلکہ کمیشن صرف پانچ اراکین پر مشتمل ہوتا ہے۔ بھارتی یونین اور ریاستی حکومتوں کے درمیان وسائل کی عمودی تقسیم رائج ہے جو حکومتی ترجیحات کیمطابق ڈھلتی ہے۔ مزید برآں بھارت نے آبادی کے کنٹرول کی حوصلہ افزائی کیلئے افقی وسائل کی تقسیم میں آبادیاتی کارکردگی کو بھی ایک عنصر کے طور پر شامل کیا ہے۔ ڈاکٹر اشفاق خان نے کہا کہ پاکستان کا این ایف سی ڈھانچہ سیاسی ہو چکا ہے جسکی وجہ سے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کی جاتی ہے اور صوبوں کو مردم شماری کے دوران آبادی کے اعداد و شمار بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جس نے آبادی کے حجم اور بڑھنے کی شرح کو سیاسی طور پر حساس بنادیا ہے۔ ڈاکٹر اشفاق خان نے زور دیا کہ ملک میں مالیاتی وسائل کی منصفانہ اور ترقی پسند تقسیم کو یقینی بنانے کیلئے سیاسی مداخلت سے پاک اور ایک منصفانہ ڈیٹا پر مبنی ایک اصلاح شدہ این ایف سی فارمولہ ضروری ہے۔ جائزے میں تجویز پیش کی گئی کہ صوبوں کے درمیان افقی تقسیم کیلئے کچھ مخصوص پیرامیٹرز اور بنیادیں مقرر کی جائیں۔ تجویز کیا گیا کہ آمدنی کے فرق کو تیس فیصد، آبادی (سنہ دو ہزار تیئس عیسوی) کو دس فیصد، آبادیاتی کارکردگی کو سترہ اعشاریہ پانچ فیصد ، انسانی ترقی کے اشاریہ کو دس فیصد ، رقبہ کو سات اعشاریہ پانچ فیصد ، ٹیکس کی کوششوں کو پانچ فیصد اور جنگلات کے رقبے کو پانچ فیصد بنیاد بنایا جائے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You