راولپنڈی (افتخار خٹک) سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ عرفان قریشی نے 12 سالہ گھریلو ملازمہ

راولپنڈی (افتخار خٹک) سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ عرفان قریشی نے 12 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتارنے کے مقدمہ میں نامزد میاں بیوی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 4 یوم کی توسیع کرتے ہوئے تھانہ بنی پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے عدالت نے مقدمہ کے تفتیشی کو ہدایت کی ہے کہ وہ آلہ قتل/ تشدد سمیت ہر پہلو سے تفتیش مکمل کر کے ملزمان کو 21 فروری کو دوبارہ عدالت میں پیش کریں جبکہ ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی محمد طارق ایوب نے مقدمہ کی شریک ملزمہ و مرکزی ملزمان کی دوسری ملازمہ روبینہ کی درخواست ضمانت پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج (بروز منگل) مقدمہ کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر گزشتہ روز تھانہ بنی پولیس نے مقدمہ میں نامزد گھر کے مالک راشد شفیق اور اس کی اہلیہ ثناء راشد کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے مزید 7 یوم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تفتیشی افسر سب انسپکٹر زاہد اقبال کا موقف تھا کہ اگرچہ تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم ملزمان سے ہتھیار کی برآمدگی کے ساتھ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد دونوں میاں بیوی کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایک بار پھر پولیس کے حوالے کردیا ہے ادھر مقدمہ کی شریک ملزمہ روبینہ نوید کے وکیل نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کردی ہے چوہدری حسن علی ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کو جس مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے درخواست گزار کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ درخواست گزار کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہیں شکائیت کنندہ اور پولیس نے ملی بھگت سے اسے مقدمہ میں نامزد کیا ہے لہٰذا درخواست گزار کی ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم دیا جائے عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج (بروز منگل) مقدمہ کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے یاد رہے کہ درخواست گزار کو عدالت نے 13 فروری کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا تھانہ بنی پولیس نے 11 فروری کو گھر کے مالک راشد شفیق ، اس کی اہلیہ ثناء راشد اور دوسری ملازمہ روبینہ کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 302/34، 328 اے اور 342 کے تحت مقدمہ نمبر 204 درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ انہوں نے 12 سالہ گھریلو ملازمہ اقرا پر بہیمانہ تشدد کیا جس سے اس کی حالت تشویشناک ہو گئی جو بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی۔




