سندھ

*عنوان: نکل جائے دم، تیرے قدموں کے نیچے!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: نکل جائے دم، تیرے قدموں کے نیچے!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

آج کا کالم اور روح پرور ایمان افروز سچے حقیقی واقعہ پر مبنی ھے کیونکہ آج کے مادیت پرستی دور میں ہماری نسلوں کو آگاہ رہنا چاہئے کہ رب العزت اور اسکے حبیب آخری الزماں محمد مصطفیٰ ﷺ سے غلامی اور محبت کا تقاضہ ھے کہ مسلم ھونے کے ناطے ایمان یقین اور توکل کا پختہ ہونا شرط ھے۔ گزشتہ بدھ کی رات غزہ میں ایک عجیب اور ایمان افروز واقعہ پیش آیا۔ جو میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررھا ھوں، معزز قارئین!! الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے اسپتال "مستشفی شہداء الاقصیٰ” میں اچانک انتقال کرجانے والے نوجوان ڈاکٹر نے سب کو اشکبار کردیا اور لوگ اسکی موت پر رشک کرنے لگے۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند متقی و خوبرو نوجوان ڈاکٹر محمد أبو رويضة شہداء الاقصیٰ اسپتال میں چائلڈ اسپیشلسٹ تھے۔ انکی عمر صرف تینتیس برس تھی۔ مذکورہ اسپتال کے ڈاکٹر حسن بشیر کا الجزیرہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں اور ڈاکٹر محمد ایک ہی وارڈ میں کام کرتے تھے۔ بدھ کی رات ہم دونوں کی نائٹ ڈیوٹی تھی۔ عشاء کی نماز باجماعت پڑھ کر ڈاکٹر محمد نے وارڈ میں مجھ سے کہا کہ میں تھک گیا ہوں۔ کچھ دیر آپ میری جگہ ڈیوٹی دیں، میں تھوڑا سا آرام کرکے آتا ہوں۔ یہ کہہ کر ڈاکٹر محمد اپنے کمرے میں چلے گئے لیکن دیر تک وہ واپس نہیں آئے۔ جب رات تین بجے تک انکا پتہ نہ چلا تو ڈاکٹر حسن بشیر کو تشویش لاحق ہوئی۔ ڈاکٹر بشیر کا کہنا تھا کہ وہ ڈیوٹی میں وقت کے بڑے پابند تھے لیکن مجھے اندازہ تھا کہ آج انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اس لئے میں نے کئی بار کال کی، مگر کوئی جواب نہ ملا تو میں ساتھی کو دیکھنے اس کے کمرے میں پہنچا۔ دیکھا کہ دروازہ اندر سے بند ہے۔ کھڑکی سے جھانکا تو ڈاکٹر محمد مصلے پر سجدے میں ہیں۔ قریب میں قرآن کریم کھلا ہوا ہے۔ آوازیں دیں، مگر بے سود۔ اس لئے مجبور ہو کر میں کمرے کے عقبی دروازے سے اندر داخل ہوا۔ ڈاکٹر محمد کو ہلا کر دیکھا کہ *سجدے میں انکی روح پرواز کرچکی تھی* اور *قرآن کریم کی سورۂ رعد کے صفحات کھلے ہوئے تھے۔* ڈاکٹر حسن بشیر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر محمد میرے بہت گہرے اور پرانے دوست تھے۔ سنہ دو ہزار چھ عیسوی میں ہم دونوں ایک ساتھ تعلیم کیلئے سوڈان گئے تھے۔ وہیں طب کی تعلیم حاصل کی، وہ بہت ہی متقی و پرہیزگار نوجوان تھے۔ قرآن کریم کے عاشق تھے۔ ڈاکٹر محمد وفات سے قبل سورۂ رعد کے تیسرے صفحے کی تلاوت کررہے تھے، جہاں آیت سجدہ بھی ہے۔ جسے تلاوت کرکے انہوں نے اپنے رب تعالیٰ کے قدموں میں سر رکھا اور سجدے میں ہی اپنے مالک حقیقی کے حضور پہنچ گئے۔ واضح رہے کہ حدیث پاک کی روشنی میں *انسان سب سے زیادہ اپنے رب کو قریب سجدے میں ہوتا ہے۔* ایک حدیث میں آیا ہے کہ *سجدہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے دو قدموں کے درمیان سجدہ کرتا ہے۔* (رواہ سعید بن منصور فی سننہ)
*نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے
یہی دل کی حسرت، یہی آرزو ہے*
شہداء الاقصیٰ اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کمال خطاب کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر محمد تین برس سے ہمارے یہاں بطور چائلڈ اسپیشلسٹ خدمات انجام دے رہے تھے۔ ہر ایک انکے اخلاق کا گروید تھا۔ اس وجہ سے انکی شہرت بھی بہت ہوگئی تھی۔ بس انکی اچانک وفات سے سب کو سخت صدمہ پہنچا ہے۔ وفات سے کچھ دیر قبل ڈاکٹر محمد نے اپنے فیس بک پر آخری اسٹیٹس کے طور پر آیت لکھی: *ترجمہ : اور تیرا رب بڑا بخشنے والا اور رحمت والا ہے۔* (سورۂ کہف، آیت 58) پھر یہ دعا لکھی: *” یا اللہ! مسلمان مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما، زندوں کی بھی اور مردوں کی بھی اور ہمیں حالتِ ایمان میں موت دے۔”* ڈاکٹر محمد کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ وہ اپنی فیملی کیساتھ غزہ کے المغازی مہاجر کیمپ میں مقیم تھے۔ ڈاکٹر بشیر کے بقول وہ تندرست تھے اور انہیں کوئی بیماری لاحق نہیں تھی۔ وہ اخلاق کریمہ کے مالک تھے۔ ہر ایک سے محبت کرنا اور محبت سمیٹنا انکا شیوہ تھا۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے اور قرب کے اعلیٰ مراتب سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! ڈاکٹر کا پیشہ انتہائی مقدم و مقدس ھونے کیساتھ ساتھ نیکی اور ایمان کو بڑھانے کا سب سے بڑا ذریعہ اور موقع ہوتا ھے۔ پاکستان میں بھی کم و بیش نوے فیصد ڈاکٹرز صاحبان اپنے پیشہ سے مخلص اور رب العزت کی رضا، رسول پاک ﷺ کا قرب پانے کیلئے انتہائی عقیدت محبت اخلاق و اخلاص کیساتھ ساتھ دکھی انسانیت کے خدمات سے سرشار رہتے ہیں۔ چند ایک گمراہ لالچی بےحس بےایمان بے دین ڈاکٹرز کی وجہ سے اس پیشہ اور ڈاکٹرز کی تعظیم و احترام کو خدارا ہاتھ سے جانے نہ دینا وگرنہ آپ میں اور گمراہ کن بھٹکوں میں کوئی فرق نہ رھے گا۔۔۔۔۔ !!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You