*پاکستان کی تقریباً نصف آبادی طبی سہولتوں سے محروم ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی*

*پاکستان کی تقریباً نصف آبادی طبی سہولتوں سے محروم ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی*
*مفت تعلیم،صحت کی سہولیات،روزگار اور امن کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے:گفتگو*
*ملکی نظام کو مخصوص طبقے نے یرغمال بنایا ہوا ہے،پیسے کے بغیر انصاف ملتا ہے:چیئرمین*
*ملک کی بیشتر آبادی علاج کے اخراجات اٹھانے سے قاصر ہے اور سرکاری سہولتوں پر اکتفا کرتی ہے*
*چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کی صحت اور دیگر سہولیات کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار*
( )چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً نصف آبادی یونیورسل طبی سہولتوں سے محروم ہے،2015ء میں طبی سہولتوں سے محروم آبادی کی شرح 60 فیصد تھی جو اب گھٹ کر 47 فیصد پر پہنچ گئی ہے تاہم پسماندہ علاقوں میں صورتحال زیادہ سنگین ہے،رواں مالی سال وفاقی دارالحکومت کی 23 لاکھ آبادی کے لیے صحت کے بجٹ میں 27 ارب 86 کروڑ روپے مختص کیے گئے مگر بلوچستان کی لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ آبادی کیلئے 67 ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا مگر اس کے باوجود عوام کو طبی سہولیات کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے،پاکستان کے آئین میں واضع طور پر درج ہے کہ مفت تعلیم،صحت کی سہولیات،روزگار،سر چھپانے کی جگہ اور امن کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے جو کہ کسی طور بھی پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔ان خیالات کا اظہار صحت و تعلیم اور دیگر سہولیات کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ملکی نظام کو مخصوص طبقے نے یرغمال بنایا ہوا ہے اور پیسے کے بغیر انصاف ملتا ہے نہ ہی کوئی اور کام ہوتا ہے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ ملک کی بیشتر آبادی اپنے علاج کے اخراجات اٹھانے سے قاصر ہے اور سرکاری سہولتوں پر اکتفا کرتی ہے جبکہ حکومتوں کی جانب سے مالی مسائل کی بنیاد پر طبی سہولتوں کو محدود تر کیا جارہا ہے جوکہ تشویش ناک اور لمحہ فکریہ ہے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
06-01-2025



