کالم/مضامین

"چلو آؤ کچھ ایسا کرتے ہیں”. . . کراچی کی کچی بستیوں میں ڈینگی اور چکن گنیا جیسی بیماریوں کے پس منظر میں غریب بچوں سے اظہار یکجہتی کرتی ایک نظم

چلو آؤ کچھ ایسا کرتے ہیں . . .

خوشیاں بکھیر دیتے ہیں

آنسو چرا لیتے ہیں

ننھے، منے پھولوں کو

مرجھانے سے بچا لیتے ہیں

وہ پھول جو، مورنی کے ہیں پنکھ جیسے

اڑتی ہوئی پتنگ جیسے

جو کھلتے ہوئے گلاب ہیں

جن کے جذبے لاجواب ہیں

جو سردی میں ہیں دھوپ جیسے

اوس کی گرتی بوند جیسے

جو جھلمل ستارے، راج دلارے

جیسے سیپ میں چھپے موتی، پیارے پیارے

جو چاند کی ہیں چاندنی

اور دمکتا سا آفتاب ہیں

انہی بچوں کو اب یہ بتانا ہے

کہ ہاتھوں میں تھامے ہاتھ

ہم سب ان کے ساتھ ہیں

چلو آؤ کچھ ایسا کرتے ہیں

چلو آؤ کچھ ایسا کرتے ہیں

(شاعر: کاشف شمیم صدیقی)

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You