پاکستان کو قرض نہیں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

پاکستان کو قرض نہیں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے ملکی معیشت پر بوجھ ثابت ہورہے ہیں:چیئرمین
قرض پروگرام پاکستان کے لیے زہر قاتل مگر 1958سے آج دن تک جاری ہے:گفتگو
عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کو جولائی سے ستمبر تک 48کروڑ 29 لاکھ ڈالر قرض دیاہے
حکمران طبقہ خلوص نیت سے آگے بڑھتا تو آج پاکستان کا شمارترقی پذیر نہیں ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئرندیم ممتاز قریشی کی عالمی مالیاتی اداروں کے قرض پروگرام کے حوالے سے گفتگو
چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاکستان کو قرض نہیں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے جہاں ملکی معیشت پر اضافی بوجھ ثابت ہورہے ہیں وہاں ان کی کڑی شرائط کی وجہ سے عوامی مسائل میں بھی خطرناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کو جولائی سے ستمبر تک 48کروڑ 29 لاکھ ڈالر قرض دیا مگر اس کے باوجود ملکی معیشت سنبھلنے کی بجائے تنزلی کا شکار ہے ستم ظریفی تو یہ ہے کہ حکومت کو قرضوں اور اُن پر لگنے والے سود کی ادائیگی کے لیے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں،ملک کی جب تک قرض در قرض کے پروگرام سے جان نہیں چھوٹے گی تب تک ملکی ترقی و خوشحالی کا خواب کسی طور بھی پورا نہیں ہوپائے گی،آئی ایم ایف،ورلڈ بینک سمیت دیگر مالیاتی اداروں کے قرض پروگرام پاکستان کے لیے زہر قاتل ہیں مگر اس کے باوجود 1958 سے لے کر آج دن تک ہر حکومت انہی کے سہارے آگے بڑھنے کی کوششوں میں مگن ہے۔ان خیالات کا اظہار عالمی مالیاتی اداروں کے قرض پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ نااہل و بدنیت حکمرانوں کی شروع دن سے تمام تر توجہ اپنی بھری ہوئی تجوریوں کو مزید بھرنے پر مرکوز رہی جس کی وجہ سے قوم کو درپیش مسائل ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے آرہے ہیں اگر یہ لوگ خلوص نیت اور جذبہ حب الوطنی سے آگے بڑھتے تو پاکستان کا شمار بھی ترقی پذیر نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں ہورہا ہوتا۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
30-10-2024



