پاکستان کے اکثراسپتالوں میں طبی فضلے کو ضائع کرنے کے لئے کوئی باقاعدہ نظام نہیں۔ڈاکٹر خالد محمودعراقی

*پاکستان کے اکثراسپتالوں میں طبی فضلے کو ضائع کرنے کے لئے کوئی باقاعدہ نظام نہیں۔ڈاکٹر خالد محمودعراقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ہم سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر آپ پائیدار ترقی کے اہداف کے گول نمبر گیارہ اور گول نمبر بارہ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو وہ ان موضوعات سے منسلک ہیں جن پر ہم آج بحث کررہے ہیں۔ ہمارے یہاں اسپتالوں کے فضلہ کو ٹھکانے لگانے کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ پاکستان کے اکثر اسپتالوں میں طبی فضلے کو ضائع کرنے کے لئے کوئی باقاعدہ نظام نہیں اور یہ طبی فضلہ عام کچرا کنڈیوں میں پڑا رہتا ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ کیمیکل انجینئرنگ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام شعبہ ہذا میں منعقدہ سیمینار بعنوان:”سسٹین ایبل سالڈ ویسٹ مینجمنٹ“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ پاکستان میں اسپتالوں کے فضلہ کی کیمیائی اور بائیولوجیکل بنیادوں پر تلفی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ ہم سمجھتے کہ ہمارے معاشرے میں منشیات کوئی مسئلہ نہیں لیکن آج منشیات ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور بہت تیزی سے معاشرے میں سرائیت کررہا ہے جس کی روک تھام کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ایڈوائزر سندھ سالڈ ویسٹ بورڈ انجینئر محمد خالد نے کہا کہ کراچی کا سالانہ ویسٹ گیارہ سے بارہ ہزار ٹن ہے جو کہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔کراچی کے ہرشہری کو اگر فضلہ سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے اس سے انرجی اور معیشت کی بہتری کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ڈائریکٹر ٹیک ای پی اے سندھ وقار حسین پھلپوٹو نے کہا کہ کراچی میں دو سو سے زیادہ اسپتال ہیں جن سے بہت بڑا طبی فضلہ نکلتا ہے۔ اگر ان اسپتالوں کو ای پی اے ایکٹ چوہ کے تحت آگاہی دی جائے تو اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بہت ساری بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔
لکی سیمنٹ کے پروڈکشن مینجر علی عمران انصاری نے کہا کہ ہوا میں موجود کچرے کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ لکی سیمنٹ سولر اور ہوا سے بجلی بنانے کا کام کررہی ہے۔
این ای ڈی یونیورسٹی کراچی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طفیل نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں کچرے کے مسائل کو حل کرنا مشکل نہیں ہے۔
انجینئر سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے مل کر اس کا حل تلا ش کرنے کی ضرورت ہے۔میں اپنی حیثیت میں جو ہوسکا کرونگی۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج لانا ضروری ہے۔ صدر شعبہ کیمیکل انجینئرنگ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اشتیاق نے کہا کہ ہمارے طلبہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے حوالے سے تحقیق کررہی ہے اور مجھے امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔




