کالم/مضامین

*عنوان: سینئر جونیئر کا گھوٹالہ، منظورِ نظر کا جادو نرالہ ۔۔۔۔ !!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: سینئر جونیئر کا گھوٹالہ، منظورِ نظر کا جادو نرالہ ۔۔۔۔ !!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

اٹھارہ ویں ترمیم، انیس ویں ترمیم، چھبیس ویں ترمیم لیکن کیا ان ترامیم سے کبھی عوام الناس کو فائدہ یا زندگی کی آسانیاں میسر آئیں یا پھر بنیادی حقوق عطا کئے، اس بابت مزید بات کرنے سے قبل میں طاہر چودھری کی لکھی ایک تحریر اپنے ناظرین کی خدمت میں پیش کرتا ھوں وہ لکھتے ہیں کہ لاہور ہائیکورٹ کی موجودہ چیف جسٹس سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھیں۔ قریب دو ماہ قبل انہیں دو سینیئر ججوں کو چھوڑ کر چیف جسٹس بنایا گیا۔ جسٹس شجاعت علی خان اور جسٹس علی باقر نجفی موجودہ چیف جسٹس سے سینئر تھے لیکن انہوں نے یہ فیصلہ قبول کیا۔ اسی طرح سندھ ہائیکورٹ کے موجودہ چیف جسٹس بھی جونیئر جج تھے۔ انکی بطور چیف جسٹس تعیناتی میں بھی سینیارٹی کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔ جسٹس منیب اختر جونیئر جج تھے۔ انہیں سینیئرز کو چھوڑ کو سپریم کورٹ لے جایا گیا۔ جسٹس عائشہ ملک جونیئر جج تھیں۔ انہیں سینیئرز کو چھوڑ کر سپریم کورٹ لے جایا گیا۔ جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس شاہد بلال حسن کی حالیہ سپریم کورٹ تعیناتیاں بھی اسکی مثال ہیں۔ انہیں بھی سینئرز کو چھوڑ کو سپریم کورٹ لے جایا گیا۔ یہ سب کچھ ہماری عدلیہ نے خود کیا۔ اگر سینیارٹی کی بنیاد پر ہی تعیناتی آئین کی منشاء تھی تو خود سپریم کورٹ اور "بڑے” جج یہ "غلط” تعیناتیاں کیوں کرتے رہے؟ جو کام چیف جسٹس صاحبان اپنی پسند ناپسند کے مطابق خود کرتے رہے وہ تو ٹھیک، لیکن اگر وہی کام حکومت اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟ آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے بھی حکومت کے پاس پانچ نام آتے ہیں وزیراعظم کی صوابدید ہیکہ ان میں سے جس مرضی کو آرمی چیف تعینات کرے۔ اگر یہی طریقہ جوڈیشری میں ہو تو کیا غلط ہے؟ تقریباً دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ ججوں کی تعیناتی وغیرہ کا اختیار حکومت اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے۔ ہمارے یہاں چلن مختلف ہوگیا تھا۔ اٹھارہ ویں ترمیم میں حکومت نے یہ اختیار دوبارہ اپنے ہاتھ میں لیا تھا لیکن افتخار چودھری نے فوج کو ساتھ ملا کر یہ ترمیم واپس کروا دی اور انیس ویں ترمیم پاس کروا کے جوڈیشری پر اپنی اجارہ داری بنا لی۔ چلو مان لیا کہ آپ نے یہ سب عدالتی نظام کو بہتر بنانے کیلئے کیا۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑا؟ کچھ بھی نہیں۔ بلکہ حالات تباہ کن ہوئے۔ من پسند تعیناتیاں ہوئیں۔ سپریم کورٹ میں گروپنگز ہوئیں۔ عدالتیں مزید زبوں حالی کا شکار ہوئیں۔ سوموٹو کا بدترین استعمال ہوا۔ اسپتال کے برتن گندے نکلنے پر سوموٹو، عتیقہ اوڈھو سے شراب کی بوتل ملنے پر سو موٹو، ریکوڈک پر سوموٹو۔ درجنوں مثالیں ہیں۔ ایسے لگنا شروع ہوگیا جیسے اس ملک میں وزیراعظم ایک کلرک اور اصل حکومت چیف جسٹس کی ہے۔ کبھی ڈیم بن رہے ہیں۔ کبھی اسکولوں میں چھاپے مارے جارہے ہیں تو کبھی اسپتالوں کے سنگ بنیاد، ایک گند مچایا گیا جبکہ اپنے گھر کا کوئی دھیان ہی نہیں۔ آج عدالتی نظام تباہی کے دھانے پر ہے۔ جج صاحبان سے گزارش ہے کہ سیاست اور حکومت جنکا کام ہے انہیں کرنے دیں۔ آپ میرٹ پر مقدمات کے فیصلے کریں اور اپنے عدالتی نظام کو بہتر کریں۔۔۔ معزز قارئین!! موصوف طاہر چودھری نے تحریر کیا میں مکمل اتفاق کرتا ھوں لیکن یہیں سوال یہ کرتا ھوں کہ پاکستان وہ بدقسمت ملک ھے جہاں نہ تو انتخابات کا نظام صاف و شفاف ھے اور نہ ہی یہ سیاستدان بھی انتخابات کے نظام کو آزادانہ صاف و شفاف بنانے سے ہمیشہ رکاوٹ بنتے چلے آرھے ہیں کیونکہ ہمارے سیاستدان سیاسی نہیں بلکہ مافیاء ہیں جو قومی دولت کو لوٹنے اپنی نااہلیت، نا قابلیت، اور جاہلیت کو چھپانے کیلئے دباؤ دھونس دھمکی اور قتل جیسے گھناؤنے عمل کو اختیار کرلیتے ہیں۔ وقت کیساتھ ساتھ اداروں کی تباہی و بربادی اور اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی اپنے غلاموں اور زر خریدوں پر کی جاتی رہی ہیں۔ مورخ اور تاریخ دان لکھ چکے ہیں کہ جمہوریت اور پارلیمینٹ نہ تو ملک کیلئے سودمند رھے اور نہ ہی عوام کیلئے۔ یہ ترامیم ترامیم کا کھیل کھیلنا ختم ہوجانا چاہئے کیونکہ ہمیں آج سے چودہ سو سال قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ نظام ریاست مدینہ کیوں نہیں اپناتے۔ کیا ھم مسلمان نہیں، کیا ھماری افواج بشمول افسران مسلمان نہیں، کیا ہمارے بیوروکریٹس مسلمان نہیں، خود یہ پارلیمینٹیرین مسلمان نہیں، کیا یہ سیاسی جماعتیں اور انکے کارکنان مسلمان نہیں، کیا یہ علماء و مشائخ پیر عظام مفتیان کرام شیوخ الحدیث اسلامی اسکالرز مسلمان نہیں اگر ہیں تو پھر یہ منافقت کیسی!! ختم کردو! اس دنیاوی جہالت کو، نظام جمہوریت کو، اور فوراً نافذ کردو، "نظام ریاست مدینہ” جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قرآن سے عطا کی ھے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناظر رھے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You