*کیا تم زانی اور طوائف کی اولاد ھو!!*
*کیا تم زانی اور طوائف کی اولاد ھو!!*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
صاحب اقتدار، با اثر افسران، حکومت کے اراکین، پارلیمینٹیرین، وزراء و مشیران، پولیس و انتظامیہ اور عدلیہ کسی نہتے شہری پر ظلم و بربریت ھو اور وہ ظالمین کا ساتھ دیں تو کیا وہ اللہ و رسول اور قرآنی قوانین کی رو گردانی کے مرتکب ھوتے ہیں ایسے بااختیار زانی در زانی طوائف در طوائف کی اولادوں میں سے ھوتے ہیں۔ کوئی مومن تو دور کی بات کوئی بھی مسلمان ظلم و زیادتی وہ بھی زناکاری کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ پنجاب میں حالیہ واقعہ کو حکومت اور انکے کارندے چھپانے دبانے اور سیاسی رنگ دیکر رخ بدلنے کی کوشش کرتے رھے بالآخر وہ معصوم مظلوم طالبہ تکلیف و اذیت کو سہتے ہوئے دنیائے فانی سے کوچ کرگئی۔ آج پنجابی عوام کو یاد دلاتا چلوں کہ جنرل ضیاءالحق کے دور میں ایک زنا کا کیس آیا تھا ثابت ہونے پر ایک ہفتہ اس زانی کی نعش لاہوری گیٹ پر لٹکائے رکھی گئی لیکن اب ایسا پورے پاکستان میں ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ یہ عیاشیاں بدمعاشیاں غنڈہ گردیاں قتل و غارت اور حکومتی مشنری کے ذاتی مفاد میں دباؤ انکی اور انکے بڑے صاحبزادوں کے عیب گناہ ظلم کو چھپانے کیلئے کی جاتی رہی ہیں۔ یہ نظام جمہوریت اس ملک و قوم کا قاتل ھے اور ان زانیوں طوائف زادوں کا ڈھال بھی ھے۔ قرآن و احادیث سے ثابت کریں کہ اسلامی ریاست کیلئے کونسا نظام لازم و ملزوم ہوتا ھے اگر پاکستان بھر کے تمام کے تمام علماء کرام مشائخ پیر عظام مفتیان شیخ الحدیث اسلامی اسکالرز مجددین اسلام سب کے سب اسلامی ریاست "نظام مصطفیٰ” کیلئے حق رائے دہی دیتے ہیں تو فی الفور جمہوریت کو ختم کرکے "مملکت اسلامیہ پاکستان” کا نام دیدیا جائے اور اسلامی شرعی کورٹ کو سپریم کورٹ سے اوپر رکھا جائے وقت کے کیساتھ ساتھ شرعی کورٹ پر ہی تمام کیس منتقل کردیئے جائیں۔ اگر ھمارے معتبر دین کے رہنماؤں نے اپنا فی الفور کردار ادا نہ کیا تو وہ آج کے علمائے سوئے اور نا جائز اولاد کہلائیں گے کیونکہ وہ قرآنی قوانین کا انکار کرنے کے مترادف ہونگے اور یہود و نصاریٰ کے نظام جمہوریت کے حامی کہلائیں گے۔ جب محمد بن عبداللہ المعروف امام زمامہ امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے تو کیا انکے باپ کا مسلک ھوگا یقیناً ہر گز نہیں۔ ایک قوم ایک امت بنو! بہت ہوگئی نفرت عصبیت لسانیت اور تفرقہ بازی۔ جس جس نے امت اور قوم کو تقسیم کیا وہ غدار دین ھے غدار رسول ﷺ ھے اور غدار پروردگار ھے۔ بہتر یہی ھے اپنا ایمان بھی سلامت رکھو اور دوسروں کا ایمان بھی زائل نہ کرو وہی دین محمدی ﷺ اپناؤ جو آپ ﷺ نے اپنی امت کو دیا جس پر تمام خلفائے راشدین اور صحابہ کرام تابعین و تبع تابعین عمل پیرا رھے۔ مملکت اسلامیہ پاکستان کیلئے قوم کو آج سے ہی متحد اتحاد منظم اتفاق میں جڑنا ہوگا سیاست رہنماؤں، مذہبی اسلامک رہنماؤں، جعلی پیر جانشینوں کی چودراہٹ کو مسمار کرنا ھوگا ایک ہی صف میں کھڑے ہونا ہوگا جیسے "ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز، نہ کوئی بندہ رھا نہ کوئی بندہ نواز”۔ اب دیکھنا ہے کہ پاکستان کو سب سے بڑا صوبہ غیرت ایمانی حریت رکھتا ھے کہ نہیں کہ ایک معصوم طالبہ کیساتھ زیادتی اور پھر قتل کا حساب لیتا ھے کہ نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ عزت بیچنے والے نکلے یا عزت بنانے والے۔اب یہ پنجاب کے رہنے والوں کا کردار بتائے گا۔۔۔۔!!



