اہم خبریںپنجاب

راولپنڈی (افتخار خٹک) ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس چوہدری عبد العزیز نے اڈیالہ جیل راولپنڈی

راولپنڈی (افتخار خٹک) ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس چوہدری عبد العزیز نے اڈیالہ جیل راولپنڈی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی بازیابی کے لئے دائر پٹیشن میں پولیس کی کارکردگی کو ناقص قرار دیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے عدالت نے آئندہ تاریخ پر آئی جی جیل خانہ جات اور سی پی او راولپنڈی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریاست اپنے اہلکاروں سے کس طرح کا سلوک کررہی ہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر درخواست گزار میمونہ ریاض اس کی وکیل ایمان مزاری اور تھانہ صدر بیرونی پولیس عدالت میں موجود تھی دوران سماعت سرکاری نمائندے کی جانب سے محمد اکرم کو جاری شوکاز نوٹس عدالت میں پیش کیا گیا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جو افسر غائب ہے اس کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا جس پر درخواست گزار کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اینٹی کرپشن کے لوگ سکول سے محمد اکرم کے بچوں کے بارے میں کھوج لگا رہے ہیں بچوں سے متعلق سکول کے عملے سے بھی پوچھ گچھ کی گئی جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریاست اپنے اہلکاروں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کر رہی ہے عدالت نے پولیس کی ناقص کارکردگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات اور سی پی او راولپنڈی کو 14 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع کو بیان حلفی جمع کرانے کا بھی حکم دیا یاد رہے کہ سینٹرل جیل اڈیالہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کی اہلیہ میمونہ ریاض نے ہوم سیکرٹری پنجاب، سیکریٹری دفاع، سپرنٹنڈنٹ جیل، آئی جی پنجاب اور ایس ایچ او تھانہ صدر بیرونی پولیس کو فریق بناتے ہوئے عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 14 اگست کی علی الصبح خفیہ تحقیقاتی اداروں نے اس کے شوہر کو جیل کی آفیسرز کالونی میں واقع رہائش گاہ سے غیر قانونی حراست میں لیا جس پر درخواست گزار نے 15 اگست کو متعلقہ پولیس کو مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست دی لیکن پولیس نے نہ تو کوئی معلومات دیں اور نہ مقدمہ درج کیا جبکہ 15 اگست کی رات ہی سرچ وارنٹ کے بغیر غیر قانونی طور پر درخواست گزار کے گھر چھاپہ مارا گیا اور گھر کی تمام ڈیوائسز بند کر کے قبضہ میں لے لی گئیں بعد ازاں میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ درخواست گزار کے شوہر کو جیل میں پابند سلاسل تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ اس طرح درخواست گزار اور اس کے شوہر کے بنیادی آئینی حقوق سلب کئے گئے حالانکہ بظاہر درخواست گزار کے شوہر کا کوئی جرم بھی نظر نہیں آتا درخواست گزار کو نہیں معلوم کہ اس کے شوہر کو کیوں اور کہاں رکھا گیا ہے خدشہ ہے کہ اس پر ذہنی و جسمانی تشدد کیا جائے گا پٹیشن میں آئین کے آرٹیکل 10 اور 10 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے شوہر کا شفاف ٹرائل اور انہیں اپنے دفاع کا موقع ملنا چاہئے قانون کے مطابق ضروری تھا کہ حراست کے بعد 24 گھنٹے میں انہیں مجاز عدالت میں پیش کیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ پٹیشن کو سماعت کے لئے منظور کیا جائے پولیس کو پابند کیا جائے کہ غیر قانونی حراست کا مقدمہ درج کرے درخواست گزار اور اس کے بچوں کو شوہر سے ملاقات کروائی جائے اور عدالت پٹیشن کے فریقین کو حکم دے کہ حراست کی تمام وجوہات سے عدالت کو آگاہ کریں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You