کالم/مضامین

جنوبی ایشیا غذائی عدم تحفظ اور بھوک سے سب سے زیادہ متاثر ہے، 1.4 بلین (72.2 فیصد) لوگ دن

*جنوبی ایشیا غذائی عدم تحفظ اور بھوک سے سب سے زیادہ متاثر ہے، 1.4 بلین (72.2 فیصد) لوگ دن میں دو وقت کا کھانا برداشت نہیں کرسکتے۔ ڈاکٹر عبدالوحید*

*بچوں کو بریسٹ فیڈنگ نہ کرانے کی وجہ سے بھی بریسٹ کینسر میں اضافہ ہورہا ہے۔ ڈاکٹر نوید بھٹو*

*ہمارے یہاں سو میں سے چالیس بچے نامکمل نشوونما اسٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر نوید بھٹو*

*پچاس فیصد مائیں یا خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں اورجس کیلئے کاؤنسلینگ ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر اظہر چغتائی*

*پاکستان میں زیادہ تر بیماریوں کی وجہ غذائی معلومات کا فقدان ہے۔ ڈاکٹر راشدہ*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) رجسٹرار جامعہ کراچی و شعبہ معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید نے کہا کہ غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت ایک عالمی چیلنج ہے تاہم یہ مسئلہ جنوبی ایشیائی اور افریقی خطے میں زیادہ سنگین ہے، فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کے مطابق جنوبی ایشیاء غذائی عدم تحفظ اور بھوک سے سب سے زیادہ متاثر ہے کیونکہ 1.4 بلین (72.2 فیصد) لوگ دن میں دو وقت کا کھانا برداشت نہیں کر سکتے۔ مزید برآں، 74.1 فیصد ہندوستانی، 82.8 فیصد پاکستانی، 76.4 فیصد نیپالی، 66.1 فیصد بنگلہ دیشی، اور 55.5 فیصد سری لنکن غذائی تحفظ کے سنگین چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2023 ء کی رپورٹ بھی جنوبی ایشیائی ممالک میں بھوک کی خراب صورتحال کی عکاسی کرتی ہے جس میں پاکستان 102 ویں، بھارت 111 ویں، بنگلہ دیش 81 ویں، نیپال 69 ویں اور سری لنکا 125 ممالک میں 60 ویں نمبر پر ہے۔ جبکہ گلوبل فوڈ سیکیورٹی انڈیکس 2022 نے بھی جنوبی ایشیائی ممالک میں ہائی فوڈ سیکیورٹی کی نشاندہی کی اور پاکستان کو 84 ویں، بھارت کو 68 ویں، نیپال کو 74 ویں، سری لنکا کو 79 ویں اور بنگلہ دیش کو 80 ویں نمبر پر رکھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام شعبہ ہذا میں ہفتہ غذائیت کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار بعنوان:”نیوٹریشن۔ 2024 ء فیڈنگ سمارٹ رائٹ فروم اسٹارٹ“سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نیوٹریشن ایکسپو کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں سندھ کی مختلف جامعات کے طلباوطالبات کی جانب سے غذائی امور سے متعلق مختلف اور تکنیکی بنیادوں پر تیار 42 پروجیکٹس پیش کئے گئے جس کو حاضرین نے بیحد سراہا۔ ڈاکٹر عبد الوحید نے مزید کہا کہ غذائی عدم تحفظ، غذائی قلت پاکستان کیلئے خطرناک چیلنجز ہیں، فوڈ سیکیورٹی اسسمنٹ سروے میں اس بات کی عکاسی کی گئی ہے کہ پاکستان کی 18 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔ یونیسیف کے مطابق تقریباً 37 فیصد آبادی خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان اشیائے ضروریہ میں خود کفیل ہے۔سندھ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا اور رقبے کے لحاظ سے تیسرا بڑا صوبہ ہے جسے دیہی علاقوں میں غربت، بے روزگاری، آمدنی میں عدم مساوات، غذائی عدم تحفظ اور تعلیم و صحت کی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ ٹیکنیکل کنسلٹنٹ اِن نیوٹریشن پروگرام حکومت سندھ ڈاکٹر نوید بھٹو نے کہا کہ بچوں کو بریسٹ فیڈنگ نہ کرانے کی وجہ سے بھی بریسٹ کینسر میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہمارے یہاں سو میں سے چالیس بچے نامکمل نشوونما اسٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ پاکستان کی ترقی اور ایک صحتمند معاشرے کیلئے ماں اور بچے کی غذا پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پہلے ایک ہزار دن بچے کی جسمانی، علمی اور سماجی نشوونما کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جو اکثر غذائی قلت کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ پہلے ایک ہزار دنوں سے مراد حمل سے لے کر بچہ 2 سال کا ہونے تک کا وقت ہے۔ اس وقت کے دوران، ایک بچے کے دماغ کی صلاحیت اور ساخت ایک تیز رفتاری سے تشکیل پاتی ہے۔ دماغ کا 80% حصہ پہلے ایک ہزار دنوں میں تیار ہو جاتا ہے۔ اس مدت کے اندر بچے کے سمعی اور بصری حسی نظام، سیکھنے کی صلاحیتیں، یادداشت کے افعال، اور معلوماتی پروسیسنگ کے نظام تشکیل پاتے ہیں۔ ڈاکٹر نوید بھٹو نے کہا کہ غربت اور غذائیت کی کمی اکثر دماغ کی ابتدائی نشوونما کیلئے بڑے اثرات کا باعث بن سکتی ہے۔ دماغ کی بہترین نشوونما کیلئے ماں اور بچے دونوں کیلئے اچھی غذائیت ضروری ہے۔ اس میں روزانہ کیلوری کی مناسب مقدار اور اہم مائیکرو اور میکرو غذائی اجزاء کا حصول شامل ہے۔ کیلوریز بڑھتے ہوئے عضو کیلئے ضروری ایندھن ہیں۔
ڈاکٹر نوید بھٹو نے بتایا کہ غذائی اجزاء کی کمی پاکستان میں صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر پروڈکٹیو ایج کی خواتین اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں، ایک سروے کے مطابق پروڈکٹیو ایج کی 34 فیصد خواتین اورپانچ سال سے کم عمر کے 49 فیصد بچوں میں آئرن کی کمی۔پروڈکٹیو ایج کی27 فیصد خواتین جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے 51.5 فیصد بچوں میں وٹامن اے کی کمی تھی۔ چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر اظہر چغتائی نے کہا کہ پچاس فیصد مائیں یا خواتین خون کی کمی انیمیا کا شکارہیں اور اس حوالے سے کاؤنسلینگ ناگزیر ہوچکی ہے۔ آئرن کی کمی کو آسانی سے پورا کیا جاسکتا ہے بس اس حوالے سے آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے میڈیکل کالجز کی تعداد بڑھادی صرف سندھ میں ہی 15 سے زائد میڈیکل کالجز ہیں لیکن اچھے ڈاکٹرز نہیں ملتے۔پاکستان ایڈیبل آئیل استعمال کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ فوڈ سائنس کی بانی چیئر پرسن ڈاکٹر راشدہ نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر بیماریوں کی وجہ غذائی معلومات کا فقدان ہے اور پاکستان میں زیادہ پائی جانے والی بیماریوں جس میں ذیابیطس، فشارخون اور دل کے امراض شامل ہیں کا تعلق بھی غذا سے ہے۔ بیماریوں کی ابتداء وزن بڑھنے سے ہوتی ہے اور اس میں اضافہ انرجی بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ قبل ازیں شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر عبدالحق نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر اپنی یزنٹیشن کے ذریعے تفصیلی روشنی ڈالی اور غذا کے استعمال اور اس کے فوائد و نقصانات سے متعلق شرکاء کو آگاہ کیا۔ سیمینار میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید محمد غفران سعید نے انجام دیئے جبکہ کلمات تشکر ڈاکٹر زوبالا لطفی نے ادا کئے۔ سیمینار سے مختلف صنعتوں سے وابستہ افراد نے بھی خطاب کیا اور اس طرح سیمینارز کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You