پنجاب

پاکستان میں بنیادی حقوق نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

پاکستان میں بنیادی حقوق نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

ملک سے سالانہ ایک لاکھ سے زائد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو غیرقانونی طور پر بارڈر کراس کرایا جارہا ہے:چیئرمین
عالمی سطح پر انسانی سمگلنگ سالانہ 10 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی،خاتمے کے لیے پوری دنیا کو اقدامات اٹھانے ہوں گے:گفتگو
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کی پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی سمگلنگ کے حوالے سے رپورٹ پر گفتگو

چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی سمگلنگ رپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے نوجوان لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کا سمگل ہونا انتہائی افسوس ناک ہے امر ہے،غربت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم انسانی اسمگلنگ اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں، بہتر مستقبل کے خواب دکھاکر انسانی اسمگلنگ کی جاتی ہے،رپورٹ کے مطابق سالانہ ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کوغیرقانونی طور پر بارڈر کراس کرایا جاتا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیو ں کے باوجود یہ سلسلہ زور و شور کے ساتھ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بنیادی حقوق نہ ہونے کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوان لڑکے و لڑکیاں ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں،حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک میں روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہوئے آگے بڑھے تاکہ انسانی سمگلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات میں کمی واقع ہو۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ عالمی سطح پر انسانی سمگلنگ سالانہ 10 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے اس کی روک تھام کے لئے عالمی سطح کے اقدامات اٹھانے ہوں گے اگر یہ اسی طرح بڑھتی رہی تو اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
29-08-2024

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You