پنجاب

راولپنڈی (افتخار خٹک) ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے اڈیالہ جیل راولپنڈی

راولپنڈی (افتخار خٹک) ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے اڈیالہ جیل راولپنڈی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی حراست کے خلاف دائر پٹیشن میں ریمارکس دئیے ہیں کہ درخواست گزار کے پاس کوئی مصدقہ معلومات نہیں عدالت مفروضوں کی بنیاد پر پر کسی کو کوئی ہدایات جاری نہیں کرسکتی مقدمہ درج ہوچکا ہے اس میں بھی ایسی کوئی بات نہیں آپ عدالت کو بتائیں کہ محمد اکرم کس کی تحویل میں ہے عدالت نے سی پی او راولپنڈی کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سی پی او کو 29 اگست کو ایک بار پھر عدالت میں طلب کر لیا گزشتہ روز سماعت کے موقع پر درخواست گزار اپنے بیٹے اور اپنی وکیل ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں موجود تھیں اس موقع پر درخواست گزار کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم 14 اگست سے لاپتہ ہیں جبکہ پولیس اور کوئی ادارہ کسی قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیں کررہا ہمیں شک ہیں محمد اکرم انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحویل میں ہے ہیں جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ محمد اکرم کونسی ایجنسی کے پاس ہیں عدالت کس کو ڈائریکشن دے کیونکہ ہم مفروضوں پر کسی کو کوئی ہدایات جاری نہیں کرسکتے عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ آپ کے پاس مصدقہ انفارمیشن نہیں مقدمہ درج ہوچکا ہے اس میں بھی ایسی کوئی بات نہیں آپ عدالت کو بتائیں کہ محمد اکرم کس کی تحویل میں ہے جس پر درخواست گزار کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر ہماری پٹیشن کی سماعت کے بعد درج ہوئی ہے وکیل کا مؤقف تھا کہ پٹیشن قابل سماعت ہے اس دوران وزارت دفاع کی جانب سے بھی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ محمد اکرم وزارت دفاع کے ماتحت کسی ادارے کی تحویل میں نہیں ہے اور محمد اکرم سے متعلق انٹیلی جنس ایجنسیوں سے بھی معلومات حاصل کی گئی ہیں لہذا وزارت دفاع کی حد تک محمد اکرم سے متعلق درخواست نمٹائی جائے جبکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے سی پی او راولپنڈی کی جانب سے بھی جواب عدالت میں جمع کروایا جس میں کہا گیا تھا کہ سی پی او راولپنڈی نے مختلف اداروں اور چاروں صوبوں کی پولیس کو خطوط بجھوائے ہیں ان خطوط میں لاپتہ محمد اکرم کے حوالے سے تفصیلات مانگیں گئی ہیں اور لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں تاہم عدالت نے سی پی او راولپنڈی کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے جیل انتظامیہ کو ابھی تک پتہ نہیں انکا افسر جیل سے غائب کیسے ہوگیا اسکا مطلب اڈیالہ جیل میں قیدیوں و حوالاتیوں سمیت عملہ بھی غیر محفوظ ہے عدالت نے استفسار کیا کہ رٹ آف دی اسٹیٹ کہاں گئی ہر کوئی اپنا فریضہ ادا کرے تو کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہوسکتی عدالت نے قرار دیا کہ جیل حساس جگہ ہے جیل کا افسر غائب ہے پولیس کا کام ہے اسکو ڈھونڈے عدالت نے سی پی او کو ایک بار پھر 29 اگست کو عدالت میں طلب کر لیا ہے پٹیشن کی مزید سماعت 29 اگست کو ہوگی یاد رہے کہ سینٹرل جیل اڈیالہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کی اہلیہ میمونہ ریاض نے ہوم سیکرٹری پنجاب، سیکریٹری دفاع، سپرنٹنڈنٹ جیل، آئی جی پنجاب اور ایس ایچ او تھانہ صدر بیرونی پولیس کو فریق بناتے ہوئے عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 14 اگست کی علی الصبح خفیہ تحقیقاتی اداروں نے اس کے شوہر کو جیل کی آفیسرز کالونی میں واقع رہائش گاہ سے غیر قانونی حراست میں لیا جس پر درخواست گزار نے 15 اگست کو متعلقہ پولیس کو مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست دی لیکن پولیس نے نہ تو کوئی معلومات دیں اور نہ مقدمہ درج کیا جبکہ 15 اگست کی رات ہی سرچ وارنٹ کے بغیر غیر قانونی طور پر درخواست گزار کے گھر چھاپہ مارا گیا اور گھر کی تمام ڈیوائسز بند کر کے قبضہ میں لے لی گئیں بعد ازاں میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ درخواست گزار کے شوہر کو جیل میں پابند سلاسل تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ اس طرح درخواست گزار اور اس کے شوہر کے بنیادی آئینی حقوق سلب کئے گئے حالانکہ بظاہر درخواست گزار کے27 شوہر کا کوئی جرم بھی نظر نہیں آتا درخواست گزار کو نہیں معلوم کہ اس کے شوہر کو کیوں اور کہاں رکھا گیا ہے خدشہ ہے کہ اس پر ذہنی و جسمانی تشدد کیا جائے گا پٹیشن میں آئین کے آرٹیکل 10 اور 10 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے شوہر کا شفاف ٹرائل اور انہیں اپنے دفاع کا موقع ملنا چاہئے قانون کے مطابق ضروری تھا کہ حراست کے بعد 24 گھنٹے میں انہیں مجاز عدالت میں پیش کیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ پٹیشن کو سماعت کے لئے منظور کیا جائے پولیس کو پابند کیا جائے کہ غیر قانونی حراست کا مقدمہ درج کرے درخواست گزار اور اس کے بچوں کو شوہر سے ملاقات کروائی جائے اور عدالت پٹیشن کے فریقین کو حکم دے کہ حراست کی تمام وجوہات سے عدالت کو آگاہ کریں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You