کالم/مضامین

*ایکسیڈینٹ کیوں ھوتے ہیں*

*ایکسیڈینٹ کیوں ھوتے ہیں*

*تحقیق و تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ*

بڑی تحقیق مشاہدے اور جائزے کے بعد ایکسیڈینٹ کی وجوہات دریافت کیں لیکن ڈرائیونگ کرنے والے اپنی غلطیوں کو یرگز ہرگز تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ھوتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ خود انکا ذہنی بیمار ہونا ہوتا ھے۔ تحقیق سے ثابت ھے کہ اسی ذہنی بیماری کے سبب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، گھریلو جھگڑے، آفس و کاروبار کے مسائل، بیوی بچوں محلہ و پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے اکثر و بیشتر چپکلش شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی اٹھانوے فیصد ڈرائیونگ کرنے والے شدید ذہنی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں اسی سبب دماغ کی گرمی، ذہنی فطور، نشہ اور جھوٹ کی سے سڑکوں پر حادثاتی واقعات روز کا معمول ھے، ان حادثات میں پچانوے فیصد ہلاکتیں اور پانچ فیصد معذوری کا نتیجہ برآمد ہوتی ہیں۔ اس حادثات کی دیگر وجوہات میں ایک وجہ مجرم کیساتھ ساز باز کا عمل پولیس اہلکار سے ایس ایچ او تھانوں کے اور پیشکار سے جج تک عدالتوں میں مجرموں کی سہوتکاری سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان دنیا کے واحد بدقسمت ملک ھے جہاں طاقت اور اختیارات کے سامنے قانون طوائف سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ تحقیقی اس عمل میں دیکھا گیا ھے کہ آئین و وستور صرف بلیک میلنگ اور کمزور کو دبانے کا ایک بٹن ھے۔ جبتک دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ٹریفک قوانین اور آئین و دستور کی پاسداری نہیں کی جاتی اس وقت تک پاکستان بھر میں انسان جانوروں سے بدتر مرتا رہیگا اپاہج بنتا رہیگا۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے اس بابت الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو برابر قصور وار اور مجرم ٹھہرایا ھے انکے مطابق میڈیا کے ذریعے ایک جانب ٹریفک قوانین کی آگاہی کی ترغیب تو دوسری جانب کرپٹ مافیاء سرکاری و غیر سرکاری عناصر کی سخت ترین احتساب کرنا ھم صحافیوں اینکرز اور مالکان کی اخلاقی دینی اور قانونی ذمہداری ھے لیکن اپنے مفادات اور تعلقات کے سبب تمام برائیوں اور خامیوں کو پس پشت ڈال کر پردہ پوشی کی جاتی رہی ہیں۔ آج بھی کراچی لاہور پشاور کوئٹہ اور راولپنڈی و اسلام آباد شہروں کو دیکھ لیں خود ٹریفک سارجنٹ ٹریفک ایلکار جعلی مشینیں ہاتھوں میں تھمائے دونوں ہاتھوں سے لوٹتے نظر آئیں گے یہی نہیں بلکہ عام پولیس اہلکار ہوں یا ایس ایچ اوز جب چاہیں جہاں چاہیں جدھر چاہیں جس طرح چاہیں جیسے چاہیں ناکہ لگاکر یا بغیر ناکہ کے کسی کو بھی راہ چلتے لوگوں کو موٹر سائیکل سواروں کو گاڑی رکشہ ٹرک گوکہ سڑک پر چلنے رینگنے پھرنے دوڑنے لیٹنے بس نظر آجائے تو اسکی خیر نہیں بناء ثبوت بناء حقیقت بناء تعلق ہر جرم ہر دفعات ہر مجرمانہ آرٹیکل لگادیا جاتا ھے تاوقتکہ وہ انکے مطابق انکی جیب میں رقم ادا نہ کرے۔ اپنے تحقیقی عمل میں اہلکار سے لیکر تھانے کے انچارج سے اس مزموم عظام کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے تمام تر الزام اپنے ڈی ایس پی، ایس پی ایس ایس پیز کو ٹھہرایا کہ انہیں ایک خاص رقم ہفتہ وار پہنچائی جاتی ھے جبکہ تھانے علاقہ واز فروخت ہوتے ہیں اور جب ڈی آئی جیز اور آئی جی سے اس بابت بات ہوئی تو انھوں نے وزراء و مشیران سیکریٹریٹ اور خاص کر چیف سیکریٹریز کو مورد الزام ٹھہرایا کہ انکی خواہشات اور ڈیمانڈ کو پوری کرنا لازمی ہوتا ھے جب چیف سیکریٹری اور سیکریٹریٹ کے ایس اینڈ جی ڈے سے معلوم کیا تو انھوں نے وزیراعلیٰ اور گورنر پر تمام کردیا اور جب اس لوٹ مار اور کرپشن کے متعلق وزیراعلیٰ اور گورنر سے حقائق جاننے کیلئے بات کی گئی تو وزیراعلیٰ نے وزیراعظم اور گورنر نے صدر کی ہر ناجائز احکامات کی ایک طویل ترین فہرست گنوادی۔ دوسری جانب شہری آبادی کی سیکیورٹی کو قائم و دائم رکھنے والوں نے بھی اپنے حلقہ کی نشاندہی کرتے ہوئے صرف یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ ہی رنگ بدلتا ھے۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی اپنے تحقیقی مقالہ جات میں لکھتے ہیں کہ ریاست پاکستان وطن عزیز پاکستان کا نظام مکمل ترین تباہ و برباد ہوچکا ھے جو درست ہونا ناممکن اور غیر یقینی ھے کیونکہ اوپر سے نیچے تک کیچڑ و غلاظت گندگی اور کچرے کا وسیع ترین آبشار بہہ رھا ھے اس غلاظت و گندگی کے ڈھیر میں اس وقت سول اور غیر سول دونوں غلاظتی نظام میں جگڑ چکے ہیں اس غلاظتی نظام کا نام جمہوریت ھے اور اس گندگی و غلاظت کا توڑ اور صفائی نظام مصطفیٰ ﷺ ھے جس میں شراب، زناکاری، عیاشی، ظلم و بربریت، جھوٹ، عدم عدل و انصاف، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور مہنگائی کی نہ ہوئی جگہ ھے نہ گنجائش بلکہ ان سب کا خاتمہ ھے۔ نظام مصطفیٰ ﷺ قرآن و سنت کے مطابق آپ ﷺ کا عطا کردہ نظام ھے جو آج سے چودہ سو سال قبل ریاست مدینہ کی عملی شکل میں اس امت مسلمہ کو پیش کردیا گیا تھا اب صرف نظام کو لاگو یعنی رائج کرنے کی ضرورت ھے یقیناً شیطان، ابلیس، دجال عناصر اور خوارجی و قادیانی ہرگز ہرگز اس وطن عزیز پاکستان میں رائج ہونے نہیں دیں گے اب فیصلہ عوام کا ھے کہ وہ ایمانی قوت کیساتھ آپ ﷺ کے ساتھ ہیں یا ان دجالیوں کیساتھ یہ تو وقت ہی بتائیگا کہ کون ک کیساتھ کھڑا تھا۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You