16 برسوں میں ملکی قرضوں میں 61.5 کھرب روپے کا اضافہ شاہانہ طرز حکمرانی کا شاخسانہ

16 برسوں میں ملکی قرضوں میں 61.5 کھرب روپے کا اضافہ شاہانہ طرز حکمرانی کا شاخسانہ:انجینئرندیم ممتاز قریشی
حکمران قوم کو یہ بتائیں کہ آخر کب تک ملک یونہی بیرون ممالک قرضوں کے سہارے آگے بڑھتا رہے گا:چیئرمین
عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پر عمل کرنے سے ملکی معیشت تباہ اور مہنگائی، بے روزگاری و غربت بڑھ رہی ہے:گفتگو
ملک و قوم کو درپیش مسائل اور قرضوں میں کمی کیلئے حکمران طبقہ شاہانہ اخراجات میں کمی لاتے ہوئے برآمدات میں اضافہ کریں
چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ 16 برسوں میں ملکی قرضوں میں 61.5 کھرب روپے کا اضافہ لمحہ فکریہ اور حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات کا منہ بولتا ثبوت ہے، ان سولہ سالوں میں قوم کو درپیش مسائل کم ہونے کی بجائے نہ صرف مزید بڑھے بلکہ رواں سال میں تو ظالمانہ ٹیکسز کی وجہ سے عوام کا رشتہ جسم و جاں برقرار رکھنا بھی مشکل ہوگیا ہے،2008ء میں سرکاری قرضے 6.1 کھرب تھے جو کہ اب 67.5کھرب سے تجاوز کر چکے ہیں حکمران طبقہ قوم کو یہ بتائے کہ آخر کب تک ملک یونہی بیرون ممالک قرضوں کے سہارے آگے بڑھتا رہے گا اور قرضوں کا کشکول جسے ہر دور اقتدار میں توڑنے کے دعوے اور وعدے کیے جاتے ہیں وہ کب پورے ہوں گے،عالمی مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے بلکہ مہنگائی،بے روزگاری اور غربت کی شرح میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ان خیالات کا اظہار وزارت خزانہ کی قرضوں میں اضافے کی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کو درپیش چیلنجز میں کمی کیلئے ضروری ہے کہ حکمران طبقہ شاہانہ اخراجات میں کمی لاتے ہوئے ملکی برآمدات میں اضافہ کریں اس سے جہاں ملکی معیشت سنبھلے گی وہاں قوم کا معیار زندگی بھی بلند ہوگا۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ حکومت کو آئی ایم ایف سے بھی پیچھا چھڑانا ہوگا کیونکہ یہ وہ معاشی و معاشرتی ناسور ہے جو ملکی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کا باعث بن رہا ہے اور اس کی مزید شرائط پر عمل کرنا خودکشی کے مترادف ہوگا۔



