کالم/مضامین

14 اگست 1947 ء بمطابق 27 رمضان المبارک 1366ھ وطن عزیز پاکستان کی آزادی کا مبارک دن ہے۔

یوم آزادی
قوم کے لیے ایک پیغام
الشیخ امیرعبدالقدیراعوان مدظلہ العالی

14 اگست 1947 ء بمطابق 27 رمضان المبارک 1366ھ وطن عزیز پاکستان کی آزادی کا مبارک دن ہے۔ انسانی دسترس جتنی بھی ترقی کرتی جائے بہر حال محدود ہے ۔ اس طرح ایام کا شمار بھی محدود ہے ۔ مواقع بدل جاتے ہیں نسل در نسل تبدیلیاں وقوع پذیر ہو جاتی ہیں مگر تواریخ و ایام پلٹتے رہتے ہیں۔ امسال بھی 14اگست یوم
آزادی کی آمد ہے۔77 سال گزرنے کے باوجود ہم ہیں کہ آزادی کی روح سے نا آشنا ہیں۔
لفظ ملک فقط خطہ زمین کو نہیں کہا جا سکتا ، ہاں ! مگر باسیوں کے وجود سے اپنے معنی کی تکمیل پاتا ہے اور انسانی معاشرے کی ترقی کا انحصار حقوق و فرائض کی مساوی تقسیم پر ہوتا ہے اور مساوات آزادی کے بناممکن نہیں۔ بحمد للہ بحیثیت مسلمان وجود انسانی کے تخلیقی عناصر کی جو رہنمائی نصیب ہوتی ہے اس کے تحت مٹی ، آگ، ہوا، پانی اور ان عناصر کی آمیزش سے پانچواں عنصر نفس ہے۔ نفس کا وجود غیر مرئی ہے مگر وجود ہے جیسے کان وجود رکھتے ہیں مگر شنوائی غیر مرئی ہے، آنکھیں وجود رکھتی ہیں مگر نظر غیر مرتی ہے۔ عناصر وجود کا عالم خلق سے ہونا نفس کی خلق کی طرف رغبت کا سبب ہے۔ اس لئے انسانی معاشرے کی معراج کے لئے قوانین کا ہونا بے معنی ہے سوائے نفاذ کے،ورنہ
صدیاں بھی گزر جائیں تو بھی آزادی کے معنی سمجھ نہیں آسکتے۔
اقوام عالم کی محکومی و آزادی کو تاریخ کے اوراق میں دیکھنے سے باخوبی سمجھ میں آتا ہے کہ جب کوئی قوم محکوم ہو جائے تو اس کی قدر میں تک محکومی کی نظر ہو جاتی ہیں اور پھر چاہے غالب قوم کسی بھی سبب سے محکوم قوم کو آزاد بھی کر دے تو بھی قدریں واپس نہیں آتیں ۔ زبان و انداز ہو یا لباس و معاشرت ، غیر کا ہی اعلیٰ لگتا ہے جیسے آج ہمارے معاشرے کا حال ہے، ہاں ! مگر قوت بازو آزادی کا سب بنے تو قومیں جی اُٹھتی ہیں اور ظاہری آزادی کیساتھ ذہنی
آزادی تک بھی پہنچ جاتی ہیں۔
کسی بھی ریاست کی کامیابی کا انحصار پانچ بنیادی نظام ہوتے ہیں۔تعلیم ،انصاف معیشت صحت اور سیاست ۔ اے کاش! یہ 14 اگست ہمیں یہ باور کرانے کا سبب بن جائے کہ ہمارے یہ پانچ ہمارے
ہی مرتب شدہ ہیں اور کیا یہی طرز ہم اپنی آنیوالی نسلوں کے لئے چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔
تمام کمزوریوں کے باوجود ایک اصول ہمیشہ ذہن نشین رکھنا ہے کہ کبھی بھی ایک غلطی دوسری غلطی کے صحیح ہونے کا جواز نہیں ہو سکتی اس لئے ضروری ہے کہ کسی کے غلط عمل کو دیکھ کر میں غلط نہ کروں۔

میرا ملک ہے، میری قوم ہے،
میرا قانون ہے، میرے ادارے ہیں ۔ ”میں ملک وقوم کی ترقی کے لئے ہمیشہ کوشاں ہوں

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You