راولپنڈی (افتخار خٹک)پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں عدالتی فیسوں اور اسٹامپ ڈیوٹی میں 500سے1ہزار گنا اضافہ کر دیا

یہ اضافہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا عدالتی فیسوں میں ہوشربا اضافے نے سستے اور آسان انصاف کے حکومتی دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا جبکہ وکلا برادری نے اضافے کی مذمت کرتے ہوئے فیسوں کا پرانا شیڈول بحال کرنے کا مطالبہ کر دیا پنجاب فنانس ایکٹ 2024کے تحت اضافہ شدہ شیڈول میں دیوانی و فوجداری پٹیشنوں پر لگائے جانے والے عدالتی ٹکٹ کی قیمت2روپے سے بڑھا کر 500روپے کر دی گئی ہے پرائیویٹ استغاثہ پر 5روپے کا ٹکٹ 500روپے، منتقلی مقدمہ کی درخواست پر لگنے والے5روپے کے ٹکٹ کی قیمت 500روپے، ریکارڈ کی طلبی کے لئے عدالت میں دی جانے والی درخواست پر لگائے جانے والے ٹکٹ کی قیمت2روپے سے بڑھا کر 50روپے، میمورنڈم آف اپیل، دعویٰ یا نگرانی کے لئے مقررہ ٹکٹ کی قیمت 15روپے سے بڑھا کر 500روپے، سول و فوجداری وکالے نامہ لگائے جانے والے2روپے مالیت کی ٹکٹ کی قیمت100روپے، دعویٰ استقرار حق (جب دیگر دادرسی،داد رسی مستلزمہ درکار نہ ہو)اوردعویٰ، اپیل، درخواست ہمراہ منسوخی ایوارڈ (ایکٹ ثالثی) پر پہلے5سے15روپے مالیت کے ٹکٹ لگائے جاتے تھے جن کی قیمت اب500روپے کر دی گئی ہے اسی طرح دعویٰ دلا پانے جب رقم متدعویہ کا تعین نہ ہو پا رہا ہو پر لگنے والے 2سے5روپے کے ٹکٹ کی قیمت500کر دی گئی ہے،درخواست زیر دفعہ 20پر لگنے والے 2سے15روپے کے ٹکٹ پر اب سائلین کو1ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے،دعویٰ اسقرار حق متعلقہ کسٹمری لا ء پر لاگو2سے 5روپے مالیت کے ٹکٹ اب500روپے کر دیئے گئے ہیں کرایہ کے تعین یا بے دخلی کی درخواستوں پر 2سے15روپے کی بجائے اب500روپے کے ٹکٹ لگانا ہوں گے کسی بھی معمول کے بیان حلفی کے لئے استعمال ہونے ہونے والے100 روپے اسٹامپ کی جگہ اب300روپے مالیت کا اسٹامپ پیپر لازمی قرار دیا گیا ہے اسی طرح اقرار نامہ معاہدہ بیع کے حجم کے اعبار سے پہلے 1200 سے 3ہزار روپے کے اسٹامپ پیپر لگتے تھے جنہیں 3ہزار روپے تک فکس کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر اقرار ناموں پر 100 سے200روپے کی بجائے اب500روپے مالیت کے اسٹامپ پیپر لگائے جائیں گے اسی طرح طلاق نامے پر100روپے کی بجائے 1ہزار روپے کے اسٹامپ لازمی قرار دیئے گئے ہیں نئے اضافہ شدہ شیڈول کے تحت نقل برانچ کی فیسوں میں یکدم ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے نئے نرخوں کے مطابق سوال، نقل فارم برائے حصول مصدقہ نقل (علاوہ مجوزہ فیس برائے مصدقہ نقل)پر پہلے2روپے فی صفحہ فیس وصول کی جاتی تھی جو بڑھا کر100روپے فی صفحہ کر دی گئی ہے اسی طرح ڈگری کے زمرہ میں نہ آنے والے عدالتی احکامات و فیصلوں کی مصدقہ نقول کے حصول کے لئے پہلے سے رائج30سے40روپے فی صفحہ کو بڑھا کر100روپے فی صفحہ کر دیا گیا ہے 50روپے سے کم مالیت دعویٰ کی فیس2روپے سے بڑھا کر100روپے اور50روپے سے زائد مالیت دعویٰ کی فیس5روپے سے بڑھا کر500روپے کر دی گئی ہے اصل دستاویزات کی واپسی پر مصدقہ نقل شامل مسل کرنے کے لئے مروجہ 2روپے فیس کو بڑھا کر100روپے جبکہ سول و فوجداری عدالتوں کی کاروائی کی مصدقہ نقل کی فیس2روپے سے بڑھا کر100روپے فی صفحہ کر دی گئی ہے اس ضمن میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے صدر ملک جواد خالد نے عدالتی فیسوں میں یکدم ہو شربا اضافے کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی چارہ جوئی کوئی شوقیہ عمل نہیں بلکہ مظلومافراد کو انصاف کے حصول کے لئے عدالتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور مظلوم عوام کے حقوق کا تحفظ کاریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت جب پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی نے غریب کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ہیں حکومت کو عوامی ریلیف کے اقدامات اٹھانے چاہئیں انہوں نے کہا کہ چونکہ اس فیصلے سے براہ راست عام آدمی متاثر ہو گالہٰذا اس اضافے کے نفاذ سے قبل پنجاب اسمبلی سے منظوری لینا لازمی تھا انہوں نے اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت فی الفور پرانی فیسیں بحال کرے۔




