کالم/مضامین

*عنوان: ھم دورِ جاہلیت سے گزر رھے ہیں*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: ھم دورِ جاہلیت سے گزر رھے ہیں*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

میں خود کو مسلمان کہتا ھوں اور مسلمان ھونے پر فخر بھی محسوس کرتا ہوں لیکن میری دیرہنہ خواہش ھے کہ میں اللہ کی اس فہرست میں شامل ہوجاؤں جو مومنین کی فہرست ھے۔ مومن کسی فرقہ یا جماعت کا نام نہیں بلکہ اللہ نے ان مسلمانوں کو مومن کہا جنھوں نے حقوق العباد اور حقوق اللہ کی سختی کیساتھ پاسداری کی، جس میں انہیں مشکلات مصائب رنج و الم اور شدید پریشانی کیساتھ ساتھ قدم بہ قدم آزمائشوں کے لامتناہی سلسلہ ملے اور وہ ثابت قدم رہتے ہوئے حق و سچ اور دین محمدی ﷺ پر گامزن رھے ، مومن کیلئے نہ مولوی نہ مفتی نہ شیخ الاحادیث نہ خطیب نہ مقرر اور نہ ہی پیر و مرشد کا ہونا شرط ھے، مشروط صرف دین محمدی ﷺ میں مکمل داخل ہونا ھے۔ میں پندرہ ویں صدی کے پینتالیس ویں سال میں موجود ہوں۔ واقعی کھلی آنکھیں اور کھلے ذہن، بیدار شعور اور تعلیماتِ قرآن و احادیث اور مفکر و جید بزرگانِ دین کی تصانیف کے مطالعہ سے آگاہی میسر رہی کہ ایک زمانہ آئیگا جس میں باعمل باکردار مذہبی پیشوا کی جگہ جاہل اور دنیا پرست قابض ھوجائیں گے آج میں اپنی زندگی میں ایسے حالات دیکھ رھا ھوں اور نجانے کس حد تک بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے ایک عالم دین کے پوتے کا ولیمہ کا ذکر گردش کررھا ھے اور انکے متعلق مزید کیا کہوں کہ مجھے یاد آتا ھے جب اسلام آباد میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے اپنے مریدین جمع کرکے کئی ایام پر مشتمل دھرنا دیا اور ملک سے باہر جاتے جاتے اپنی مریدین سے طلائی زیورات و نقدی رقوم سمیٹ کر چارٹرڈ طیارہ سے روانہ ہوگئے۔ ایسے نجانے کتنے پھیلے ہوئے ہیں، یہ تو ایک مثال ھے۔ درحقیقت دین محمدی ﷺ میں خود ساختہ مسالک نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا اور ہمیں مسلمان تک ہونے نہ دیا جبکہ گیارہ امامین ایک ہی صف اور ایک ہی محبت و اتفاق سے جڑے رھے لیکن یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالتے رہنے کیلئے مسالک اور فرقہ بندی کو پڑوان چڑھایا اور اب ھم خود کو مسلمان کہنے کے بجائے کہیں سنی بریلوی، کہیں سنی دیوبندی تو کہیں اہلحدیث اور کہیں اہل تشیع کہلاکر خود کو جنت کے ٹھیکدار سمجھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے دین محمدی نہ تو مسلک کیلئے دیا تھا اور نہ ہی امام زمانہ حضرت مہدی علیہ السلام کسی مسلک کی تقلید کریں گے آپ حضور اکرم ﷺ کی نسل پاک سے ہیں اور وہی نانا کے دین کو اصل حالت میں پھیلائیں گے۔ اب وقت ہے کہ ہر مسلمان مسالک کے فتنے سے نکل کر صرف ین محمدی ﷺ پر قائم رھے جو ہمیں قرآن و احادیث سے ایمان یافتہ لوگ آگاہی دے سکتے ہیں بصورت فرائض کی ادائیگی تک محدود ہوجائیں۔ اللہ کے سوائے کہیں بھی سجود حرام ھے شرک ھے۔ کثرت سے دورد پاک کا ورد اور قبرستان میں کم از کم ہر جمعہ حاضر ہوکر قرآن و درود شریف پڑھ کر تمام مرحومین اور مسلم امت کی بخشش کیلئے ہر مسلمان دعا کریں۔ سادگی اپنائیں اور سیدھے راستے پر چلیں کہ اللہ گمراہی اور بھٹکنے سے بچائے تاکہ درست سمت میں چلنے سے اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کا قرب نصیب ھو یاد رکھئیے قرآن پاک کو پڑھنے سمجھنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھروں دفاتر اور محافل میں ضرور اہتمام کریں چاہے اس کیلئے دس پندرہ منٹ ہی کیوں نہ نکالنے پڑ جائیں جب تک ھم قرآن سے جڑیں رہیں گے دنیا کی کوئی طاقت کسی ایک مسلمان کو نہ شکست دے سکتی ھے اور نہ ہی ضمیر خرید سکتی البتہ مخالفین خود ہی ہم مسلمانوں کی صف میں مسلمان بنکر بہترین معاون بن سکیں گے۔ بس آخر میں دوبارہ یہی کہوں گا کہ یہ دورِ دجالی ھے یہاں ایمان کا بچانا ناگزیر ھے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You