کالم/مضامین

عنوان: دشمنانان پاکستان سے ہوشیار رہیں

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: دشمنانان پاکستان سے ہوشیار رہیں۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

شوشل میڈیا میں باہر بیٹھے کچھ میڈیا پرسن، کچھ شوشل ایکٹیویٹ، کچھ سماجی افراد، کچھ این جی اوز، کچھ سیاسی و کچھ غیر سیاسی لوگ ھمارے ملک پاکستان، ریاست پاکستان، افواج پاکستان، پارلیمینٹیرین، عدالت عظمیٰ کے جسٹس صاحبان، سول و عسکری اداروں اور نظام ریاست پر امریکہ، یورپ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، یونان، ساؤتھ افریقہ، بنکاک، انڈیا، آسٹریلیا اور عرب امارات سمیت دیگر ممالک سے بےجا ہرزہ سرائی الزامات اور تہمتوں کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھا ھوا ھے، کچھ اپنے یوٹیوب کی بلندی تو کچھ دشمنانان پاکستان سے مالی و دیگر مراعات کے عوض ملک ریاست اور اداروں کے خلاف زہر اگلنے سے باز نہیں آتے یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں طاقتور اسلام اور پاکستان مخالف ممالک کی سپورٹ اور تحفظ حاصل ھے مگر یہ بھول گئے ہیں کہ انکے ان حرکتوں اور اعمال سے نہ پاکستانیوں کے ذہن سے حب الوطنی اور اسلامی لگاؤ کو ہرگز ہرگز ختم نہیں کرسکتے۔ ان سب کو بآور کراتا چلوں کہ میں ایمانداری سچائی دیانتداری خلوص نیک نیتی سے اپنے منصب کی ذمہداری نبھارہا ھوں کئی کالمز اور خبریں میں نے لکھیں تنقید برائے اصلاح اور مثبت پہلو کو مدنظر رکھا، تحریر میں سائستگی اور تہذیب کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور اپنی ذات و خواہشات کو بھی حاوی ہونے سے روکے رکھا، رہی بات غلطیاں تو وہ ہر انسان سے ہوتی رہتی ہیں اسکا مطلب ہرگز نہیں کہ کسی ایک کی غلطی پورے ادارے پورے کنبے پر مسلط کردی جائے۔ میں پاکستان کے شہر کراچی میں رہتا ہوں صحافت سے برسوں تعلق چلتا چلا آرھا ھے ایک سٹلائٹ چینل کا لائسنس بھی میرے نام ھے اس چینل کیلئے لگ بھگ دس سے بارہ ایجنسیوں کو انٹرویو دیا تھا مگر تمام ریکارڈ ہر ایجنسی کے پاس موجود ہے۔ احمدللہ آج تک نہ تنگ کیا اور نہ ہی پریشان، میں سمجھتا ہوں اور یقین رکھتا ھوں کہ اگر آپکی سمت وطن عزیز پاکستان، ریاست پاکستان اور اسلام کیلئے درست اور صحیح ھے تو آپ مطمعین اور پرسکون زندگی گزاریں، میرا ان بیرون ملک منفی تنقید کرنے والوں سے سوال ھے کہ جس طرح آپ ہمارے ملک اور ہر ادارے و نظام کو اپنی غلیظ سوچ اور خباثت سے نوازتے ہیں کیا آپ نے وہاں کی بھی منفی نکات پر تنقید کی یقیناً ہرگز نہیں کیونکہ ایک جانب آپکو غدار کہہ کر سخت سزا سے گزارا جائیگا دوسرا یہ کہ کم از کم ڈی پورٹ لازمی کردیا جائیگا اور تمام فراہم کردہ عیوش و تعائش چھین لی جائیگی۔ الحمدللہ مجھ جیسے ابھی وطن عزیز کے سپوت زندہ ہیں جو آپ کو جواب دینا جانتے ہیں اگر ہماری چند ایک خامیاں ہیں بھی تو اسے ھم عوام ہی سدھاریں گے اپنے حکمرانوں اداروں کے سربراہان اور پارلیمینٹرین کیساتھ مل کر یہ وطن ھمارا ھے اور ھم ہیں اسکے اسی سبب یہیں رہتے ہیں اور یہیں مرتے ہیں وطن ہمیں بہت عزیز ھے دعا ھے اللہ میرے ملک کو دشمنوں کی چالوں مکاریوں منافقتوں اور دشمن کے سہولتکاروں سے ہمیشہ محفوظ فرمائے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You