عنوان: اے امت مسلمہ !! اپنا مقصدِ حیات بیدار کرو

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: اے امت مسلمہ !! اپنا مقصدِ حیات بیدار کرو ۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
ہم اسلامی ہجری میں پندرہ ویں صدی کا سفر کررھے ھیں اور اکیس ویں صدی عیسوی میں ھیں گویا ھم تسلیم کرسکتے ھیں کہ جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حیات اور موت کیساتھ ساتھ آخیر زمانے کی آگاہی بخشی تھی ان نشانیوں کی حقیقت آج ھم اپنی آنکھوں سے دیکھ رھے ھیں بیشک ہر جان کو موت کا مزا چکھنا ھے اصل حیات بعد موت ہی ھے۔ امام الانبیاء ختم الرسل نور مجسم حضور کائنات رحمت اللعالمین محمد و احمد ﷺ کی سوانح حیات ہی اصل شمع حیات کامیاب زندگی کی ضمانت ھے۔ آج کے دجالی و ابلیسی دور میں دین محمدی اور ایمان پر ثابت قدم رہنا ہی جنت الفردوس کو پانے نشانی ھے یہ سعادت بھی اللہ کی عطا ھے لیکن اس سعادت کے حصول کیلئے سنت رسول ﷺ پر سختی سے کاربند ھونا شرط ھے ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! دنیا سے پردہ فرمانے سے تین روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ "میری بیویوں کو جمع کرو۔” تمام ازدواج مطہرات جمع ہوگئیں۔ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزار لوں؟” سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة و السلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔ اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بیماری اور کمزوری کے حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوا؟ چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہوگئے اور مسجد نبوی میں ایک رش لگ گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا اور فرماتی ہیں: "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة و السلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔” مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات و التسلیم سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ "لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔” اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خوف کیوجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔ نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا: یہ کیسی آوازیں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپکی حالت سے خوفزدہ ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ مجھے انکے پاس لے چلو پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر سات مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جاکر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھاکر ممبر پر لایا گیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔ فرمایا: "اے لوگو۔! شائد تمہیں میری موت کا خوف ہے؟ "سب نے کہا: "جی ہاں اے اللہ کے رسول” ارشاد فرمایا: "اے لوگو۔! تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے، اللہ کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں، اے لوگو۔! مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا کی فراوانی کا خوف ہے کہ تم اسکے معاملے میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ گے جیسا کہ تم سے پہلے پچھلی امتوں والے لگ گئے اور یہ دنیا تمہیں بھی ہلاک کردیگی جیسا کہ انہیں ہلاک کردیا۔” پھر مزید ارشاد فرمایا! اے لوگو۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے پھر فرمایا: "اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔” مزید فرمایا: "اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے” اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کرکے پکارنے لگے۔ "ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان…..” روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ناگواری سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے
کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا: "اے لوگو۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں
کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو
اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے، کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔
اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام دروازے بند کردیئے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔” آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کیلئے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا: "اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کرکے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:”اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچادینا۔” پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔ اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور انکے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔ فرماتی ہیں: "آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ
میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کردیا۔”اُم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں: "پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔” پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے انکے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں،
انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔” دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد
میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی کا اظہار کیا تھا؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں
کہ پہلی بار جب میں قریب ہوئی تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات اس دنیاسے کوچ کرنے والا ہوں۔ جس پر میں رو دی۔۔۔۔” جب انہوں نے مجھے بے تحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے: "فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔” جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں: پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا: "عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔” آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے: مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔ صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: "میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔”جبرائیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے: "یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔” آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا: "جبریل! اسے آنے دو۔۔۔”ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا: "السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئے بھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟ "فرمایا: "مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔” ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: "اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔! الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔! راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!” سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں: پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔ "رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!”
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے
وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔ ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے: "خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کر ڈالوں گا۔۔۔” اس موقع پر سب سے زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔ کہہ رہے تھے: وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه ۔۔۔ ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔! ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔! پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر ہوسہ دیا اور کہا:”یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔” سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی
عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ہمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔” سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں: پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کردی گئی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "تم نے کیسے گوارا کرلیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔؟” پھر کہنے لگیں: "يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه.”۔۔ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو انکے آنے کی خبر دیتے ہیں۔ اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا لہ۔ آپ اسے پورا سکون و اطمینان کیساتھ پڑھۓ۔ انشاء اللہ, آپکا ایمان تازہ ہوجائیگا۔” ۔۔۔۔ معزز قارئین!! اپنی عبادات و ریاضیات کے علاوہ ذرا غور ضرور کیجئے گا کہ کیا ھم بحیثیت امت محمدی ﷺ آپ کے خطبہ حجة الوداع اور آخری خطبہ میں پیش کی گئے احکامات و ترجیحات پر کس قدر عمل پیرا ھیں تو پھر جائزہ لینے کے بعد محسوس کریں گے کہ نہ من میں ایمان ھے نہ عمل میں دین گویا ایسے مسلمان کہ جیسے مسلمان نام چسپاں کیا ھوں، مسلمان بنیں تو ایسے جیسے صحابہ کرام تابعین تبع تابعین اولیاء و اسلافین کہ جن کو دیکھ کر اللہ یاد آجائے۔ اسلام اور مسلمان کی لڑی سچ حق دیانتداری اور ایمانداری میں پرو ہوئی ھیں انکے بغیر مسلمان تو مسلمان انسان کہلانے کے لائق نہیں گویا انسانی شکل کا بدترین جانور جس سے ابلیس و شیطان بھی پناہ مانگے۔ ھم پاکستانی دکھاوے کے مومن بیشمار ھیں مگر حقیقی مومن نہیں بنتے کیونکہ دنیا پرستی دھن دولت کی پوجا اور منافقت کوٹ کوٹ کر بھری پڑی ھے پھر خودساختہ سوچ بنالیتے ھیں کہ ھم پرہیزگار ھیں جنتی ھیں اور انعام یافتہ بھی جبکہ بناء سود جی نہیں سکتے میں ایسے ذہن رکھنے والوں کو کہتا ھوں کہ تم پر اللہ کی لعنت برس رہی ھے۔۔!!


